سیلز ٹیکس میں اضافہ، زیادہ آمدن پر زیادہ ٹیکس کی تجویز

یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال میں ٹیکسوں کی شرح میں بھی رد و بدل کیا گیا ہے اور نومنتخب حکومت کا کہنا ہے کہ محصولات کی شرح میں تبدیلی پروگریسو ٹیکسیشین کے نظام کو مد نظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے جس کے تحت زیادہ آمدن پر زیادہ ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔
اقتصادی بل 2013 میں ٹیکسوں کی شرح میں مجوزرہ رد و بدل کابینہ سے منظوری کے بعد نافذ العمل ہو گا۔
پاکستان کی پارلیمان میں پیش کیے جانے والے اقتصادی بل 2013 میں جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 16 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سیلز ٹیکس کے تحت رجسٹرڈ نہ ہونے والی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے پر اضافی 2 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہو گا ۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے تیرہ اضلاع کو ملنے والی ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی ہے یہ چھوٹ دہشت گردی یا سیلاب سے متاثر اضلاع کو دی گئی تھی۔
کاروبار کے فروغ کے لیے سپیشل اکنامک زونز میں لگنے والی صنعتوں کو پانچ سال کے لیے دی جانے والی انکم ٹیکس کی چھوٹ کا دورانیہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بڑھا کر دس سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
غیر رجسٹرڈ گھریلو اور صنعتی صارفین جوگیس اور بجلی کا ماہانہ 15 ہزار بل ادا کرتے ہوں انھیں 5 فیصد اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ مالیاتی خدمات پر بھی 16 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔
مالی سال 2013 اور2014 میں تنخواہ دار طبقے کی آمدن پر عائد ہونے والے ٹیکسوں کے سلیب چھ سے بڑھا کر بارہ کر دیے گئے ہیں اور ان کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے 30 فیصد تک تجویز کی گئی ہے۔
بجٹ تجاویز کے مطابق اس برس بھی 4 لاکھ سالانہ آمدن والے افراد انکم ٹیکس سے مستثنٰی ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماضی میں پچیس لاکھ سے زیادہ آمدن پر ایک ہی شرح سے ٹیکس نافذ ہوتا تھا تاہم اب یہ رقم 70 لاکھ تک بڑھا دی گئی ہے اور اس کے لیے انکم ٹیکس سلیبز میں پانچ نئے سلیب بنائے گئے ہیں۔
بارہویں اور انکم ٹیکس کے سب سے بڑے سلیب کے مطابق 70 لاکھ یا اس سے زائد آمدن والے افراد چودہ لاکھ بارہ ہزار پانچ سو روپے فکس اور 70 لاکھ سالانہ سے زائد آمدنی پر 30 فیصد انکم ٹیکس ادا کریں گے۔
کارپوریٹ سیکٹر کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کو 35 فیصد سے کم کر کے 34 فیصد کر دیا گیا ہے۔
الیکٹرانک میڈیا اور کیبل آپریٹر کو نئے لائسنس کے اجرا یا پرانے لائسنس کی توسیع کروانے پر ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
بجٹ میں 1200 سی سی کی ہائی برڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے اور 1800 سی سی تک کی ہائی بریڈ گاڑیوں پر 25 فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ بجلی بچانے والے بلب اور ٹیوب لائٹس پر20 فیصد ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے جبکہ شمسی توانائی اور ہوا کی توانائی میں استعمال ہونے والی آلات کو ڈیوٹی سے مستشنٰی قرار دیا گیا ہے۔
متبادل توانائی پیدا کرنے والے آلات کی درآمد کا طریقہ کار بھی آسان کیا بنایا جائے گا۔
بینکوں سے یومیہ 25 ہزار افراد نکلوانے پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 0.3 فیصد سے کم کر 0.2 ہو گئی ہے۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں نجی سکول کی فیس پر بھی ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ وہ تمام سکول جو فیس کی مدد میں سالانہ 2 لاکھ سے اوپر وصول کرتے ہیں وہ 5 فیصد ایڈونس ٹیکس ادا کریں گے جیسے بعد میں والدین سے وصول کیا جائے گا۔
انعامی بانڈ اور دیگر انعامات سے حاصل ہونے والی آمدن پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔







