سندھ اور خیبر پختونخوا کے نمائندے ایوان میں

پاکستان میں انتخابات کے بعد صوبوں میں حکومت سازی کا عمل شروع ہوگیا ہے اور ابتدائی طور پر سندھ اور خیبر پختونخوا میں نومنتخب اراکینِ صوبائی اسمبلی نے رکنیت کا حلف اٹھا لیا ہے۔

اراکینِ اسمبلی کی حلف برداری کے بعد دونوں اسمبلیوں کے نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دیے ہیں۔ ان دونوں عہدوں کے لیے انتخاب جمعرات کو ہوگا۔

کراچی میں صوبہ سندھ کی دسویں اسمبلی کے پہلے اجلاس کی صدارت سبکدوش ہونے والے سپیکر نثار کھوڑو نے کی اور انہوں نے نو منتخب ارکانِ اسمبلی سے حلف لیا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق افتتاحی اجلاس میں سندھ اسمبلی کے 155 اراکین نے حلف اٹھایا جن میں سے اکثریت نے سندھی، کچھ ارکان نے اردو اور دو نے انگریزی میں حلف لیا۔

سندھ کی صوبائی اسمبلی کا ایوان 167 اراکین پر مشتمل ہے جن میں سے 157 اراکین کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے۔ ان میں سے اڑتیس اراکین مخصوص نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔

موجودہ سندھ اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 84، متحدہ قومی موومنٹ کے 48، مسلم لیگ فنکشنل کے 10، مسلم لیگ ن کے 9 اور تحریک انصاف کے چار اراکین شامل ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان سندھ اسمبلی میں پہنچے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کو ایوان میں سادہ اکثریت حاصل ہے اور جماعت کی جانب سے قائم علی شاہ کو وزیراعلیٰ، آغا سراج درانی کو سپیکر اور شہلا رضا کو ڈپٹی سپیکر کے عہدوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے سپیکر کے عہدے کے لیے خواجہ اظہار الحسن اور ڈپٹی سپیکر کے لیے ہیر اسماعیل سوہو نے کاغذات جمع کروائے ہیں۔

خواتین کی مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ ف کی رکنِ اسمبلی مہتاب اکبر راشدی بھی بدھ کو حلف اٹھانے والے ارکان میں شامل تھیں
،تصویر کا کیپشنخواتین کی مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ ف کی رکنِ اسمبلی مہتاب اکبر راشدی بھی بدھ کو حلف اٹھانے والے ارکان میں شامل تھیں

مسلم لیگ ن اور فنکنشل لیگ نے مشترکہ طور پر سپیکر کے لیے عرفان اللہ مروت اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے نصرت سحر عباسی کو امیدوار نامزد کیا ہے اور ان جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں تحریک انصاف کی بھی حمایت حاصل ہے۔

سندھ کی اس دسویں اسمبلی میں کئی نئے چہرے بھی سامنے آئے ہیں، جن میں سابق وزیر پیر مظہر الحق کے فرزند پیر مجیب الحق، سکھر کے سابق ناظم سید ناصر شاہ صدر آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی، لاڑکانہ کے سابق ناظم خورشید جونیجو اور شاعر اور کالم نویس سید سردار علی شاہ شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا کی نئی صوبائی اسمبلی کا اجلاس بھی بدھ کو پشاور میں منعقد ہوا جس میں ایک سو چوبیس میں سے ایک سو بائیس نومنتخب ارکان سے سبکدوش ہونے والے سپیکر کرامت اللہ چغرمٹی نے حلف لیا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق اجلاس کے آغاز پر کرامت اللہ چغرمٹی نے اپنے مختصر خطاب میں نومنتخب ارکان صوبائی اسمبلی کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ نئی اسمبلی اور حکومت عوام کے مسئلے حل کرنے کیلئے ہرممکن کوششیں کرے گی۔

خیبر پختونخوا کی اس نئی اسمبلی میں تحریک انصاف 55 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان مسلم لیگ ن نے سترہ، سترہ نشستیں حاصل کی ہیں۔

اس کے علاوہ قومی وطن پارٹی کے اس ایوان میں دس ، جماعت اسلامی کے آٹھ ، عوامی نیشنل پارٹی اور عوامی جمہوری اتحاد کے پانچ ، پانچ ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چار ، آل پاکستان مسلم لیگ کا ایک اور دو آزاد امیدوار ہیں۔

ارکان کی حلف برداری کے بعد نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی بدھ کی شام چار بجے تک جمع کرائے جا سکیں گے اور ان کا انتخاب جمعرات کو ہوگا۔ صوبے میں جماعتِ اسلامی اور قومی وطن پارٹی کی حمایت سے حکومت بنانے والی پاکستان تحریک انصاف نے پرویز خٹک کو قائد ایوان جبکہ اسد قیصر کو سپیکر اور امتیاز قریشی کو ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔

سپیکر کے عہدے کے لیے اسد قیصر اور امتیاز قریشی کا مقابلہ جمیعت علمائے اسلام کے منور خان اور ارباب حیات اکبر سے ہوگا۔