قائم علی شاہ سندھ کے وزیرِاعلیٰ نامزد

اسی سالہ سید قائم علی شاہ چھ بار ممبر صوبائی اسمبلی، دو بار ممبر قومی اسمبلی اور ایک بار سینیٹر منتخب ہوچکے ہیں
،تصویر کا کیپشناسی سالہ سید قائم علی شاہ چھ بار ممبر صوبائی اسمبلی، دو بار ممبر قومی اسمبلی اور ایک بار سینیٹر منتخب ہوچکے ہیں
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے سندھ میں قائم علی شاہ کو وزیرِاعلیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے۔

قائم علی شاہ دو بار سندھ کے وزیرِ اعلیٰ رہ چکے ہیں اور اس منصب کے لیے یہ ان کی تیسری بار نامزدگی ہے۔

ان کے ساتھ ساتھ آغا سراج درانی کو سپیکر اور شہلا رضا کو ڈپٹی سپیکر کے عہدوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

شہلا رضا اسمبلی سے منتخب ہونے کی صورت میں دوسری بار ڈپٹی سپیکر کا عہدہ سنبھالیں گی جبکہ سپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیے جانے والے آغا سراج درانی سابق صوبائی وزیر ہیں اور صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔

کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرینز کے صدر مخدوم امین فہیم نے بلاول ہاؤس جماعت کے اجلاس کے بعد ان نامزدگیوں کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سید قائم علی شاہ سینیئر رہنما ہیں اور ورکر کی حیثیت سے یہاں تک پہنچے ہیں۔ 80 سالہ سید قائم علی شاہ چھ بار ممبر صوبائی اسمبلی، دو بار ممبر قومی اسمبلی اور ایک بار سینیٹر منتخب ہوچکے ہیں۔

اپنے ابتدائی دنوں میں خیرپور کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے سید قائم علی شاہ نے اپنے سیاسی کیریئر کی ابتدا فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں بنیادی جمہوریت کے نظام کے تحت ہونے والے انتخابات سے کی اور خیرپور کے ضلعی کونسل کے چیئرمین بنے۔

ان کی پاکستان پیپلز پارٹی سے سیاسی وابستگی کا آغاز ستر کی دہائی میں ہوا جو بغیر کسی تعطل کے تاحال جاری ہے۔ کراچی میں قانون کی تعلیم کے وقت ان کی پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو سے شناسائی ہوئی تھی جو ان کے لیے عقیدت میں بدل گئی۔

انیس سو ستر کے انتخابات میں جب سید قائم علی شاہ قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے تو انہیں محکمۂ صنعت اور کشمیر کے معاملات کی وزارت کا قلمدان سونپا گیا تھا۔ انیس سو ستتر کے انتخابات میں بھی انہوں نے اپنی پرانی نشست پر کامیابی حاصل کی۔

انہیں 1987 میں پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کا صدر نامزد کیا گیا۔ ان دنوں غلام مصطفیٰ جتوئی، میر ہزار خان بجرانی اور مخدوم خلیق الزمان کے استعفوں کے باعث پیپلز پارٹی دباؤ کا شکار تھی۔ اگلے سال انتخابات ہوئے اور سندھ سے پاکستان پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی اور قائم علی شاہ کو وزیراعلیٰ بنایا گیا۔

سید قائم علی شاہ کے پہلے دورِ حکومت میں عدم استحکام رہا۔ ان دنوں ایم کیو ایم اتحاد سے الگ ہوگئی تھی جس کی وجہ سے سیاسی دباؤ میں بھی اضافہ ہوا اور ان مشکلات کے حل کے لیے سید قائم علی شاہ کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا اور آفتاب شعبان میرانی کو وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا۔

سید قائم علی شاہ 2008 میں بھی اپنے ساتھیوں کی مدد اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے آشیرباد سے وزیراعلیٰ کے منصب پر پہنچنے میں کامیاب رہے۔ اس بار 1988 سے حالات زیادہ سنگین تھے لیکن ان کی کرسی مضبوط رہی۔

سندھ میں دو بار سیلاب، بدانتظامی، بدعنوانی اور کراچی میں بدامنی کی شکایات عروج پر رہیں لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت نے یہ شکایات سنی ان سنی کردیں۔

قائم علی شاہ کے صرف ایک بیٹی نفیسہ شاہ سیاست میں سرگرم ہیں۔ وہ خیرپور کی ضلعی ناظمہ اور خواتین کی مختص نشستوں سے دو بار قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی ہیں۔ ان کی دو صاحبزادیاں ڈاکٹر اور ایک سول سروس میں ملازم ہیں۔

پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں میں وزیر اعلیٰ کے لیے سابق وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کا نام سرگرم تھا لیکن دوہری شہریت کی وجہ سے وہ نااہل قرار دے دیے گئے۔

وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں سابق سپیکر نثار کھوڑو اور میر ہزار خان بجرانی بھی شامل تھے اور بعض تجزیہ نگاروں کی یہ بھی رائے تھی کہ اس بار سندھ کا وزیر اعلیٰ کوئی مضبوط شخصیت ہونگے کیونکہ ایسا پہلی بار ہے کہ پیپلز پارٹی کو مرکز کے بغیر سندھ میں حکومت ملی ہے۔

صحافی اور تجزیہ نگار اعجاز شیخ کا خیال ہے کہ اصل اقتدار صدر آصف علی زرداری کے پاس ہوگا جو صدارتی منصب سے فارغ ہونے کے بعد سندھ پر توجہ دیں گے، ایسی صورتحال میں قائم علی شاہ ایک بہترین انتخاب ہیں جو قیادت کے ہر حکم پر لبیک کہتے ہیں خواہ اس کی قانونی حیثیت کچھ بھی ہو۔