زرداری ناراض کارکنوں کو منا پائیں گے؟

صدر زرداری جلد ہی نوڈیرو کا رخ کرنے والے ہیں
،تصویر کا کیپشنصدر زرداری جلد ہی نوڈیرو کا رخ کرنے والے ہیں

صوبۂ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں میں انتخابات کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملات پر قیادت سے ناراضگی پائی جاتی ہے اور ناراض رہنماؤں کو منانے کے لیے صدر آصف علی زرداری کے نوڈیرو پہنچنے کا امکان ہے۔

پارٹی کے سرپرستِ اعلٰی بلاول بھٹو زرداری بھی دبئی سے رات کراچی پہنچ گئے اور پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں کے مطابق امید کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے والد صدر زرداری کے ساتھ مل کر نوڈیرو میں اپنی جماعت کے ناراض اراکین کو منانے کی کوشش کریں گے۔

عام انتخابات کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر سندھ کے بعض علاقوں میں مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔

ناراض اراکین میں اہم نام سابق وفاقی وزیر سید خورشید شاہ کا ہے جو پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں کے مطابق اس مرتبہ قومی اسمبلی کی نشست کی بجائے صوبائی اسمبلی کی نشست پر انتخابات لڑنے کو ترجیح دے رہے تھے۔

خورشید شاہ ماضی میں قومی اسمبلی کے حلقہ 199 سے انتخابات میں حصہ لیتے چلے آ رہے ہیں تاہم پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار نہ صرف وہ روہڑی کے صوبائی حلقے سے انتخاب لڑنے کے خواہشمند تھے بلکہ ان کی خواہش تھی کہ ان کے کزن نصراللہ بلوچ اور بھتیجے و داماد اویس قادر شاہ کو بھی ٹکٹ ملیں۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹکٹ نہ ملنے پر خورشید شاہ ناراض ہوگئے اور ٹکٹ نہ ملنے کے ردعمل میں سکھر میں مظاہرے بھی کیے گئے اور خورشید شاہ نے صدر زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کی سربراہی میں ہونے والے اجلاسوں کا بائیکاٹ بھی کیا۔

تاہم اپنے داماد اویس قادر کو صوبائی اسمبلی کے لیے ٹکٹ ملنے کے بعد خورشید شاہ کی خفگی میں قدرے کمی آ گئی اور اب وہ قومی اسمبلی میں اپنے دیرینہ حلقے این اے 199 سے ہی الیکشن لڑ رہے ہیں۔

سکھر میں پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں میں موجود ذرائع کے مطابق، صدر آصف علی زرداری کے دستِ راست سمجھے جانے والے اویس مظفر جنہیں ٹپی کی عرفیت سے جانا جاتا ہے، اپنے قریبی دوست اسلم شیخ کو صوبائی حلقے پی ایس ون کے لیے ٹکٹ دلوانے کی کوششوں میں مصروف تھے لیکن انہیں اس میں کامیابی نہیں ہو سکی۔

اویس مظفر ٹپی اپنے قریبی دوست کو صوبائی حلقے پی ایس ون کے لیے ٹکٹ دلوانے کی کوشش کرتے رہے
،تصویر کا کیپشناویس مظفر ٹپی اپنے قریبی دوست کو صوبائی حلقے پی ایس ون کے لیے ٹکٹ دلوانے کی کوشش کرتے رہے

اویس مظفر کی بات رد کیا جانا پیپلز پارٹی کے حلقوں میں معنی خیز انداز سے دیکھا جا رہا ہے۔

کراچی میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس 129 پر گزشتہ انتخابات کامیاب ہونے والے حاجی مظفر شجرہ اس مرتبہ بھی ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے مقامی کارکن اس پر خوش نہیں اور وہ کراچی کے مضافاتی علاقے گڈاپ ٹاؤن کے سابق ناظم عمر جت کو یہ ٹکٹ دلوانے کی مہم چلا رہے ہیں۔

صحرائے تھر کی تحصیل ننگر پارکر کی صوبائی نشست پر بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے تاہم یہاں مقامی قیادت کا احتجاج رنگ لایا ہے۔ اس حلقے سے ابتدائی طور پر سینیٹرگل محمد لاٹ کے کزن منظور میمن کو ٹکٹ دیا گیا جس پر مقامی قیادت نے عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

اس احتجاج کے بعد یہ نشست مخدوم امین فہیم کے صاحبزداے مخدوم نعمت اللہ کے حوالے کی گئی ہے لیکن اب ٹکٹ نہ ملنے پرگل محمد لاٹ اور منظور میمن اپنی قیادت سے خفا نظر آتے ہیں۔

حیدرآباد کے دیہی صوبائی حلقے میں بھی اس کے برعکس صورتحال ہے۔ یہاں گزشتہ الیکشن میں فتح حاصل کرنے والے پیر امجد شاہ اس بار ٹکٹ لینے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور ٹکٹ سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کو ملا ہے۔

پارٹی کے اس فیصلے پر مقامی کارکن خوش نہیں اور پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر امجد شاہ اس سلسلے میں پارٹی قیادت سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

مبصرین کے خیال میں سندھ میں ٹکٹوں کی تقسیم پر سامنے آنے والے یہ اختلافات اتنی شدید نوعیت کے نہیں کہ ان کی بنیاد پر رہنماؤں کے پارٹی کو خیر باد کہنے تک نوبت پہنچے اور اپنے مخالفین کو ہنموا بنانے کا ہنر بخوبی جاننے والے صدر آصف زرداری کی جانب سے معاملے کا نوٹس لیے جانے کے بعد ان کی اپنی جماعت کے روٹھے اراکین کے لیے زیادہ دیر تک خفا رہنا ممکن نہ ہوگا۔