انتخابات کے حتمی نتائج میں تاخیر

پاکستان میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے حتمی اور سرکاری نتائج تاخیر سے آ رہے ہیں جس کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے شکوک و شبہات کو رد کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے پاکستان کے انتخابی کمیشن کو ووٹوں کی گنتی کے عمل کو کمپیوٹرائزڈ کرنے میں مدد دی تھی لیکن اس سے مرتبہ نتائج تاخیر سے آ رہے ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی نے گذشتہ سال سوا دو کروڑ ڈالرز کے منصوبے پر کام شروع کیا تھا جس کا مقصد پاکستان کے انتخابی کمیشن کو بہتر انداز میں عام انتخابات منعقد کروانے میں مدد دینا تھا۔

اس منصوبے میں چھ لاکھ پولنگ اور سکیورٹی عملے کی تربیت کے علاوہ اہم ترین بات ووٹوں کی گتنی کے عمل کو کمپیوٹرائزڈ کرنا تھا۔

تمام پاکستان میں ریٹرننگ افسران کے امیدواروں کی تفصیل سے بھرے کمپوٹروں کو الیکشن کمیشن سے منسلک تو کر دیا گیا لیکن ڈیٹا ڈالنے میں وقت لگ رہا ہے۔ اس سے قبل انتخابات میں ہاتھوں سے ووٹوں کی فہرست تیار کر کے بھیج دی جاتی تھی لیکن اب اس کے لیے خودکار کمپیوٹررائزڈ نظام کو استعمال کیا جا رہا ہے جو غلط ڈیٹا پکڑ لیتا ہے اور ریٹرننگ افسر کے سوا اسے کوئی اور درست نہیں کرسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک اہلکار مارک آندرے فرانش نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی ممالک میں ووٹوں کی گنتی کا نظام اس سے ایک قدم آگے ہے ،مثال کے طور پر اگر کوئی امیدوار غیرمعمولی تعداد میں نوئے فیصد ووٹ لیتا ہے تو کمپیوٹر اسے ریڈ کر کے بلاک کر دے گا۔ ’پھر متعلقہ وکیل ہی آکر اس نتیجے کو دیکھے گا جن کی منظوری کے بعد کمپیوٹر اسے تسلیم کر لے گا۔‘

گنتی میں تاخیر کی ایک وجہ بلوچستان میں کئی مقامات پر نہ انٹرنٹ اور فون کا نہ ہونا بھی بتایا جاتا ہے۔ بجلی کا بحران بھی آڑے آسکتا ہے۔ تاہم اقوام متحد کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نتائج ارسال کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے لیکن جو ڈیٹا اس کے نتیجے میں دستیاب ہوگا ماضی کے مقابلے میں اس کامعیار کافی بہتر ہوگا۔

انتخابی کمیشن کے تصدیق شدہ مکمل نتائج آنے میں وقت تو لگے گا لیکن سرکاری اہلکار پْرامید ہیں کہ غیرسرکاری نتائج کے آنے میں اب تیزی آئے گی۔

تاخیر کی وجہ سے پیدا ہونے والے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں لیکن سیکرٹری الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ نتائج میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے’اس بابت خدشات بےبنیاد ہیں۔‘

اقوام متحدہ کے اہلکار نے بتایا کہ پولنگ عملہ انتخابی نتائج کے ہر صفحے کو سکین کرکے الیکشن کمیشن بھیج رہے ہیں۔ بعض حلقوں میں امیدواروں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے وہاں یہ صفحات پانچ سے چھ بھی ہیں جو انہیں اپلوڈ کرنے ہوتے ہیں۔

ان حلقوں میں جہاں جیت کا فرق بہت تھوڑا ہوگا وہاں کے نتائج پر پوسٹل بیلٹ سے بھی فرق پڑ سکتا ہے۔ گذشتہ انتخابات میں پچاس ہزار پوسٹل بیلٹ بھیجے گئے تھے۔ اس مرتبہ حکام کہتے ہیں کہ ڈاک کے ذریعے کافی ووٹ بھیجا گیا ہے تو اس کی وجہ سے حتمی نتائج پر تھوڑا بہت فرق پڑ سکتا ہے۔