عوام نے بلٹ کا جواب بیلٹ سے دے دیا

بی بی سی اردو کے ایک پرانے سامع نے ٹوئٹر پر پولنگ سے ایک روز قبل مشورہ طلب کر کے مشکل میں ڈال دیا کہ ووٹ ڈالنے کا سب سے محفوظ وقت کون سا ہو سکتا ہے؟
دل میں کہا کہ میں کب سے سکیورٹی امور کا ماہر ہوگیا ہوں لیکن پھر اپنی صحافتی تجربے کو بروئےکار لاتے ہوئے جمع تفریق کی مدد سے زائچہ بنانا شروع کیا۔
شدت پسندوں کا انتخابات سے قبل اکثر حملوں کا وقت یا تو صبح سویرے کا رہا ہے یا پھر بیس روزہ انتخابی مہم کے دوران رات کو کراچی میں ایسے بم حملے دیکھنے کو ملے جن سے کافی جانی نقصان ہوا۔اس رجحان کو بنیاد بناتے ہوئے اس سامع کو دوپہر محفوظ ترین وقت قرار دیتے ہوئے اس وقت ووٹ ڈالنے کا مشورہ دیا۔ لیکن خود کیا بات تھی صبح ہی پولنگ سٹیشن چلا گیا اور پہلا ووٹ پول کیا۔
لیکن شکر ہے کہ توقعات، خدشات اور تمام تر لوازمات کے باوجود حملے ویسے نہیں ہوئے جیسے ہونے کی دھمکیاں دی جا رہی تھی۔
اس کی وجہ سمجھنے کی کوشش کی تو ایک بات سمجھ میں آئی کہ کالعدم تحریک طالبان آج بھی عام عوامی مقامات کو براہ راست نشانہ بنانے سے کتراتے ہیں۔ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو تو مار مار کر ان کا بھرکس نکال دیا لیکن کسی عوامی مقام پر حملے کی ذمہ داری آج تک قبول نہیں۔

لیکن شدت پسندوں نے ان انتخابات کو اپنی سیاسی خواہشات کے مطابق ڈھالنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔
انتخابی مہم کے تین ہفتوں کے دوران کوئی دن بھی ایسا نہیں گیا جس میں انہوں نے کئی کئی مقامات پر حملے نہ کیے ہوں۔ کسی نے حکیم اللہ محسود نے کو چیف الیکشن کمشنر تو کسی نے انتخابی مہم کے اصل انچارج قرار دیا۔ لیکن انہوں نے ان بیس دنوں میں ایسی فضاء قائم کر دی کہ گیارہ مئی کے دن ووٹنگ شک میں ڈال دی تھی۔ لیکن ووٹرز نے غیر معمولی تعداد میں نکل کر تشدد کی زبان سے انہیں دبانے کی شدید مخالفت کر دی ہے۔ انہوں نے بلٹ کا جواب بیلٹ سے دے دیا ہے۔ اب شاید ہی کسی کو کوئی شک رہ جانا چاہیے۔



