’طالبان اب ٹرن آؤٹ کو متاثر کرنا چاہتے ہیں‘

پاکستان کے نگراں وزیر اطلاعات و نشریات عارف نظامی نے طالبان کی جانب سے پولنگ کے دن پرتشدد کارروائیوں کی دھمکی پر کہا ہے کہ یہ دھمکی ان کی مایوسی کی نشاندہی کرتی ہے اور وہ اب لوگوں کو ڈرا کر ووٹنگ سے باز رکھنا چاہتے ہیں۔

بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں انہوں نے کہا ہے کہ طالبان امیدواروں اور انتخابی عمل کو تو روک نہیں سکے اور ’اب وہ لوگوں کو ڈرا دھمکا کر لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنا اور ٹرن آؤٹ کو متاثر کرنا چاہتے ہیں‘۔

وزیر اطلاعات کے مطابق صوبوں، الیکشن کمیشن، فوج اور مرکزی حکومت نے سکیورٹی منصوبے کا ’دھمکی کے تناظر‘ میں جائزہ لیا ہے تاکہ شدت پسندوں کے عزائم کو ہر ممکن طریقے سے ناکام بنایا جا سکے۔

پولنگ کے دن حکومت کے سب سے بڑے چیلنج کے بارے میں بات کرتے ہوئے نگراں وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ طالبان کے عزائم کو ناکام بنانا ہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔

اس سوال پر کہ شدت پسندی کے خطرات میں ووٹروں کو پولنگ سٹیشنز پر لانے کے لیے حکومت کیا اقدامات کرے گی، نگراں وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’انتخابات کے لیے ووٹرز اور حامیوں میں بہت جوش و جذبہ ہے اور اس کے علاوہ امیدوار بھی بہت سرگرم ہیں۔ اس کے علاوہ امن و امان کے حوالے سے مشقیں بھی کی جا چکی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر ایک ماہ پہلے مجھ سے پوچھا جاتا تو اس وقت بہت سارے لوگوں کا خیال تھا کہ ملک میں انتخابات نہیں ہو پائیں گے۔ ان لوگوں کو یقین نہیں تھا کہ انتخابات ہوں گے اور نگراں حکومت اپنی مدت میں اضافہ کر دے گی، یا کچھ اور واقعات ہو جائیں گے، لوگ بائیکاٹ کر دیں گے، لیکن اللہ کے شکر سے اس وقت ننانوے اعشاریہ نو نو فیصد امیدوار اور ووٹرز بھی موجود ہیں۔ عبوری حکومت نے شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کا کہا ہے اور نادرا کا نقائص سے مبرا نظام بھی نصب کیا جا چکا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ماضی کے انتخابات میں آزاد میڈیا کا استعمال نہیں ہوا ہے جیسا کے ان انتخابات میں ہو رہا ہے اور اس سے لوگوں کو تحریک ملی کہ وہ ووٹ ڈالنے آئیں۔

دریں اثناء وفاقی نگراں وزیر داخلہ ملک حبیب خان کا کہنا ہے کہ ملک کے خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پہلے تو اُن خامیوں کی نشاندہی کی جس کی وجہ سے پولنگ کے روز شدت پسندی کے واقعات رونما ہو سکتے تھے اور اس کے بعد ان حملوں کو روکنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے نگراں وزیر داخلہ نے لوگوں سے کہا کہ وہ گیارہ مئی کو ووٹ ضرور ڈالنے جائیں اور حکومت اُن کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

پاکستان میں انتخابات کے دن سے چند گھنٹے پہلے تک شدت پسندی کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں انتخابات کے دن سے چند گھنٹے پہلے تک شدت پسندی کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے

اُنہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ سکیورٹی کی بہتر صورت حال کی وجہ سے اس مرتبہ عام انتخابات میں ووٹوں کا ٹرن آؤٹ ماضی کے انتخابات سے بہتر ہوگا۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پولنگ کے دوران ملک بھر میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے چار لاکھ سے زائد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوج کو کوئیک رسپانس فورس کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

دوسری جانب کالعدم اور شدت پسند تنظیموں کی طرف سے انتخابات کے روز ممکنہ کارروائی کے اعلان کے بعد لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جس کے بعد بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر علاقوں میں ووٹوں ٹرن آؤٹ کم رہنے کا امکان ہے۔