’بیٹے کے حلقے میں انتخابات کا التواء نہیں چاہتا‘

پاکستان کے شہر ملتان سے انتخابی مہم کے دوران اغوا ہونے والے پیپلز پارٹی کے امیدوار اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے چھوٹے بیٹے علی حیدر گیلانی کا تاحال کوئی سراغ نہیں لگ سکا ہے۔
علی حیدر گیلانی کے اغوا اور ان کے سیکرٹری اور محافظ کے قتل کا مقدمہ ملتان کے تھانہ سیتل ماڑی میں درج کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس سلسلے میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے چند افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے تاہم علی حیدر گیلانی کی بازیابی کے سلسلے میں تاحال کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
ملتان پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز خرم شکور نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ فی الوقت یہ کہنا کہ ہم نے کسی سمت کا تعین کر لیا ہے مناسب نہیں ہو گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ موقع پر بھی کچھ گرفتاریاں ہوئی تھیں جبکہ کچھ دیگر افراد سے پوچھ گچھ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ خرم شکور نے کہا کہ ’الیکشن کی وجہ سے بھی پولیس دباؤ میں ہے لیکن اس واقعے کے علاوہ ملتان میں الیکشن کے سکیورٹی انتظامات مکمل ہیں۔‘
علی حیدر پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 200 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں اور ان کے والد یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ وہ اس حلقے میں انتخابات کا التواء نہیں چاہتے۔
جمعہ کو ملتان میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ علی حیدرگیلانی کے حلقے میں انتخابات ملتوی کیے جائیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ اب تک کسی نے بھی ان کے بیٹے کے اغوا کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز ملتان پولیس کے سی پی او غلام محمود ڈوگر نے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی انتخابی مہم سے نہیں روکنا چاہیے اور جس پارٹی کو بھی مینڈیٹ ملے اسے حکومت کرنے کا حق ہے۔
خیال رہے کہ یوسف رضا گیلانی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے انتخابات سے نااہل ہونے کے بعد ان کے تینوں بیٹے عبدالقادر گیلانی ، علی موسی گیلانی اور علی حیدر گیلانی انتخاب لڑ رہے ہیں۔
پاکستان میں ہفتہ کو عام انتخابات اور صوبائی اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جانے ہیں اور ملک میں انتخابات کے اعلان کے بعد ہونے والے پرتشدد حملوں میں 110 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔







