انتخابی مہم کا آخری دن، ’اب تک کم از کم 110 ہلاک‘

پاکستان میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم کے آخری دن بھی پرتشدد کارروائیاں جاری رہیں اور جمعرات کو پولیس موبائل اور انتخابی دفتر پر بم حملوں میں 4 اہلکاروں سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کی موبائل پر حملے کا واقعہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع توغر میں پیش آیا جب ایک قریبی چشمے سے پانی لینے کے لیے جانے والی گاڑی دھماکے کا نشانہ بنی۔

حکام کے مطابق اس دھماکے میں گاڑی تباہ ہوگئی اور اس میں چار اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ حلقہ این اے 41 سے آزاد امیدوار مولانا جمال الدین کے دفتر کے باہر ایک دھماکا ہوا جس میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔

مولانا جمال الدین اس حملے میں محفوظ رہے۔ دھماکے کا نشانہ وہ بس بنی جس میں ان کے حامی سوار تھے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں انتخابی سرگرمیوں کے دوران اب تک تشدد کے 77 واقعات پیش آئے ہیں جن میں کم از کم 110 افراد ہلاک اور 370 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تشدد کے ان واقعات میں سے 56 دہشتگردی اور 21 سیاسی مخالفت کی بنا پر تشدد کے تھے۔

پپس کا کہنا ہے کہ اپریل میں کے مہینے میں دہشتگردی کے واقعات میں سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں انیس، انیس، سندھ میں گیارہ، فاٹا میں پانچ اور دو پنجاب میں رونما ہوئے جن میں 81 افراد کی جان گئی اور 348 زخمی ہوئے۔

ادارے نے خیبر پختونخوا، فاٹا اور کراچی میں ان واقعات کے لیے تحریکِ طالبان پاکستان جبکہ بلوچستان میں بلوچ مزاحمت کاروں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

انتخابی مہم کا آخری دن

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ الیکشن شیڈول کے مطابق ریڈیو، ٹی وی اوراخبارات اور جلسے جلوسوں کے ذریعے انتخابی مہم جمعرات کی رات بارہ بجے ختم ہو جائے گی جس کے بعد سیاسی جماعتوں اور امیدواروں پر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر بھی انتخابی مہم چلانے پر پابندی ہوگی اور یہی پابندی اخبارات میں انتخابی مہم کے اشتہارات پر بھی عائد ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ عملے کے لیے ضابطہ اخلاق ملک بھر کے پولنگ سٹیشنوں پر بھیج دیا ہے اور کمیشن کے مطابق اس ضابطہ اخلاق کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے کو نااہل قرار دیا جائے گا، ایک لاکھ جرمانہ ہو گا یا ریٹرننگ افسر نتائج روک دے گا۔

ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ پولنگ کا عملہ رائے دہندگان سے عزت اور احترام کے ساتھ پیش آئے۔ پریزائیڈنگ افسر ریٹرننگ افسروں کے سوا کسی دوسرے کے احکامات پر عمل نہیں کریں گے۔ اسی طرح پولنگ کا عملہ کسی سیاسی جماعت کے بیج نہیں لگائے گا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق گیارہ مئی کو پولنگ صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک جاری رہے گی اور پولنگ کے دوران کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز، ریٹرننگ آفیسرز اور پریذائیڈنگ آفیسرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ووٹر کو ووٹ ڈالتے وقت موبائل فون رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ اگر کسی ووٹر کے پاس موبائل فون موجود ہے تو وہ ووٹ ڈالنے کے دوران اسے اپنے پاس رکھ لے اور موبائل فون کی پابندی پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کو بیلٹ پیپرز جاری نہیں کیے جائیں گے۔

دریں اثناء پاکستان میں قومی ڈیٹا بیس کے ادارے نادرا کے چیئرمین طارق ملک نے کہا ہے کہ گیارہ مئی کے انتخابات ماضی کی نسبت بہت منفرد اور تاریخی ہوں گے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دھاندلی روکنے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں اور بیلٹ پیپر پر مقناطیسی سیاہی سے بائیں ہاتھ کا انگوٹھا لگانا ہوگا اور وہ سکین کرکے جعلی ووٹ پکڑنے میں مددگار ہوگا۔