پیپلز پارٹی کی کارنر میٹنگ پر حملہ: علی حیدر گیلانی اغوا

پاکستان کے شہر ملتان میں پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ پر فائرنگ کے بعد ملک کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے چھوٹے بیٹے علی حیدر گیلانی کو اغوا کر لیا گیا ہے۔
علی حیدر پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 200 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔
یوسف رضا گیلانی نے بی بی سی اردو کی ارم عباسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ علی گیلانی فرخ ٹاؤن میں ایک انتخابی جلسے میں شریک تھے کہ ان پر فائرنگ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ فائرنگ سے علی حیدر کے سیکرٹری محی الدین اور ان کا ایک محافظ ہلاک ہوگئے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ملتان پولیس نے میڈیا کو بتایا ہے کہ موٹرسائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد آئے جنہوں نے پہلے اندھادھند فائرنگ کی جس کے بعد علی حیدرگیلانی کو کالے رنگ کی ہنڈا گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔
سی پی او غلام محمود ڈوگر کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملتان کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو بند کر دیا گیا ہے اور مختلف مقامات پر پولیس نے ناکہ بندی کر دی ہے۔
اس واقعے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا ’علی حیدر گیلانی کو سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی اور ہمارے اپنے محافظ اس حملے میں مارے گئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن ایک قومی فریضہ ہے اور کارکن پرامن رہیں اور انتخابی مہم جاری رکھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اعتدال پسند قوتوں کو ملک میں مناسب ماحول میسر نہیں ہو رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یوسف رضا گیلانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا ’یہ فیصلہ کرنا میرا کام نہیں کہ اس واقعے کا تعلق ان (طالبان) سے ہے یا نہیں۔‘
خیال رہے کہ یوسف رضا گیلانی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے انتخابات سے نااہل ہونے کے بعد ان کے تینوں بیٹے عبدالقادر گیلانی ، علی موسی گیلانی اور علی حیدر گیلانی انتخاب لڑ رہے ہیں۔
علی حیدر گیلانی کے حلقۂ انتخاب میں ان کا مقابلہ 18 امیدواروں سے ہے جن میں چودہ آزاد امیدوار ہیں جبکہ مسلم لیگ ن نے بوسن خاندان کے شوکت حیات بوسن الیکشن لڑ رہے ہیں۔
پاکستان میں ہفتہ کو عام انتخابات اور صوبائی اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جانے ہیں اور جمعرات کو انتخابی مہم کا آخری دن ہے۔ ملک میں انتخابات کے اعلان کے بعد ہونے والے پرتشدد حملوں میں کم از کم 110 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔







