انتخابات میں ناکام ہونے والے سیاست دان

علی حیدر گیلانی کو 9 مئی کو ملتان سے اغوا کیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنعلی حیدر گیلانی کو 9 مئی کو ملتان سے اغوا کیا گیا تھا

پاکستان میں 11 مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے کئی معروف رہنماؤں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پنجاب اسمبلی کے سابق قائد حزب مخالف راجہ ریاض احمد اور مسلم لیگ قاف کے پارلیمانی لیڈر چودھری ظہیرالدین خان انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ دونوں رہنما فیصل آباد سے الگ الگ حلقوں سے امیدوار تھے۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری جنرل تنویر اشرف کائرہ گجرات کے صوبائی حلقے سے انتخابی میدان میں اترے مگر انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

سابق گورنر پنجاب اور مسلم لیگ نون کے رہنما سردار ذوالفقار کھوسہ نے ڈیرہ غازی خان کی صوبائی نشست پر اپنے ہی بیٹے سیف الدین کھوسہ کو شکست دی۔ سیف الدین کھوسہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر اس حلقے سے امیدوار تھے۔

سیف الدین کھوسہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ڈیرہ غازی خان کی صوبائی نشست سے امیدوار تھے
،تصویر کا کیپشنسیف الدین کھوسہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ڈیرہ غازی خان کی صوبائی نشست سے امیدوار تھے

سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے مشیر برائے صحت خواجہ سلمان رفیق بھی لاہور سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب نہ ہوسکے۔

قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان چودھری اختر رسول کو لاہور کے صوبائی حقلے سے ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے امیدوار میاں اسلم اقبال نے شکست دی۔

خیال رہے کہ اختر رسول 16 برس کے بعد انتخابی سیاست میں حصہ لے رہے تھے اور ان کو مسلم لیگ نون نے اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بھائی احمد مجتبیٰ گیلانی اور ان کے بیٹے علی حیدرگیلانی کو بھی ان انتخابات میں ناکامی کا سامنا پڑا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کے بھائی مرید حسین قریشی بھی ان انتخابات میں کامیاب نہ ہو سکے۔

مرید حسین قریشی پیپلز پارٹی کی جانب سے امیدوار تھے۔