پاکستان کی خاندانی سیاست

پاکستان کی سیاست کےکھیل بھی نرالے ہیں۔ خون کے رشتوں میں بندھی سیاسی شخصیات کو بھی خم ٹھونک کر ایک دوسرے کے مد مقابل آنا پڑتا ہے۔

گیارہ مئی کے انتخابات میں بھی کہیں باپ بیٹا آمنے سامنے ہیں تو کہیں بھائی بہن مخالف جماعتوں کی جانب سے میدان میں اتر رہے ہیں۔

سابق گورنر پنجاب اور مسلم لیگ نون کے سینیٹر سردار ذوالفقار کھوسہ کا ڈیرہ غازی خان کی صوبائی نشست پر اپنے ہی بیٹے سے مقابلہ ہے۔

سردار سیف کھوسہ پیپلز پارٹی کی جانب سے اپنے والد سردار ذوالفقار کھوسہ کے مدمقابل امیدوار ہیں۔

سیف کھوسہ کچھ عرصے پہلے مسلم لیگ نون کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔

سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام اور ان کے بیٹے عابد حسن امام ایک دوسرے کے مقابل تو نہیں ہیں تاہم دونوں باپ بیٹا مخالف جماعتوں کی جانب سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔

فخرامام مسلم لیگ نون کی جانب سے اپنے آبائی علاقے خانیوال سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں جبکہ سید عابد حسن امام چینوٹ سے اپنی والدہ کی آبائی نشست پر پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔ فخرامام کی بیٹی صغراں امام اس وقت پیپلز پارٹی کی سینیٹر ہیں۔

سابق وزیر اعلیْ پنجاب غلام مصطفیْ کھر اور ان کے چھوٹے بھائی غلام ربانی کھر جنوبی پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ سے دو الگ الگ حلقوں سے انتخاب میں حصہ رہے ہیں۔

غلام مصطفیْ کھر مسلم لیگ فنکشنل جبکہ ان کے بھائی غلام ربانی کھر پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔ربانی کھر سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے والد ہیں۔

کھر برادران کی طرح جنوبی پنجاب کے علاقے بہاولپور کے مخدوم برادران میں مخدوم علی حسن گیلانی کو مسلم لیگ نون کا ٹکٹ ملا ہے اور ان کے بھائی سمیع اللہ گیلانی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔

طارق بشیر چیمہ مسلم لیگ قاف اور ان کے بھائی طاہر بشیر چیمہ مسلم لیگ نون کی جانب سے قومی اسمبلی کی دو الگ الگ نشستوں کے لیے میدان میں اترے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے سیف اللہ برادران بھی مخالف جماعتوں کے امیدوار ہیں۔ سلیم سیف اللہ مسلم لیگ نون ک ٹکٹ پر لکی مروت سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے امیدوار ہیں جبکہ ان کے بھائی انور سیف اللہ خان پیپلز پارٹی کی جانب سے صوبائی نشست پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ہمایوں سیف اللہ مسلم لیگ قاف کے رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔

خیبر پختونخوا سے ہی اعظم خان سواتی تحریکِ انصاف اور ان کے بھائی لائق خان جمعیت علماء اسلام ف کی جانب سے الگ الگ حلقوں سے امیدوار ہیں۔

پاکستان کی سیاست میں بھائیوں کی طرح ایسے بہنیں بھی ہیں جو مخالف سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی اکھاڑے میں ہیں۔ سمیرا ملک مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا انتخاب لڑ رہی ہیں جبکہ ان کی بہن عائلہ ملک تحریک انصاف میں ہیں۔

تحریک انصاف کی رہنما عائلہ خان کا نام خواتین کی مخصوص نشستوں کی فہرست میں شامل ہے۔

مسلم لیگ نون کے دو رہنماؤں کی بہنیں بھی ان کی مخالف جماعتوں کی جانب سے رکن قومی اسمبلی رہ چکی ہیں۔ان میں پرویز ملک کی بہن یاسمین رحمان پیپلز پارٹی کی ایم این اے تھیں جبکہ مبشر چودھری کی بہن تنزیلہ چیمہ مسلم لیگ قاف کی رکن قومی اسمبلی رہ چکی ہیں۔

سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تحریک انصاف کے امیدوار ہیں جبکہ ان کے بھائی مرید حسین قریشی پیپلز پارٹی میں ہیں۔

اسی طرح سابق وزیر دفاع چودھری احمد مختار پیپلز پارٹی کے امیدوار کے طور پر اپنے آبائی علاقے گجرات سے امیدوار ہیں جبکہ ان کے بڑے بھائی چودھری احمد سعید مسلم لیگ نون میں ہیں۔

مرید حسین قریشی اور احمد سعید میں ایک بات مشترک ہے کہ دونوں عام انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے۔

پیپلز پارٹی کی مقتول سربراہ بینظیر بھٹو کی بھاوج غنویْ بھٹو اور نند فریال تالپور بھی ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ یاسمین رحمان پیپلز پارٹی جبکہ ان کی بھاوج شائستہ ملک مسلم لیگ نون کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشستوں پر امیدوار ہیں۔

ماضی میں بینظیر اور ان کے بھائی میر مرتضی بھٹو بھی دو مختلف جماعتوں یعنی پیپلز پارٹی اور پیپلز (ش ب) کی طرف سے رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔