قبائلی سرحد پر ایف سی کی تعیناتی کا فیصلہ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے انتخابات کے دوران شدت پسندی کو روکنے کے لیے قبائلی علاقوں کے ساتھ ملنے والی صوبے کی سرحد پر فرنٹیئر کانسیٹبلری تعینات کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے افغان پناہ گزینوں کو اپنے علاقوں اور کیمپوں تک محدود رہنے کے لیے کہا ہے۔
یہ فیصلہ پشاور میں پرامن انتخابات منعقد کرنے کے حوالے سے حال ہی میں منعقد ہونے والے ایک اعلی سطح کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔
نگراں وزیر اطلاعات مسرت قدیم نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا کہ شہری علاقوں تشدد کے بیشتر واقعات کے تانے بانے قبائلی علاقوں سے جا ملتے ہیں اس لیے نگراں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اگرچہ فاٹا اور خیبر پختونخوا کے درمیان سرحد کو طوالت اور دشوار گزار علاقے کی وجہ سے مکمل طور پر سیل نہیں کیا جا سکتا تاہم اس پر ایف سی کی بھاری نفری ضرور تعینات کی جائے گی تاکہ قبائلی علاقوں کی جانب سے ممکنہ حملوں یا شدت پسندوں کی آمدو رفت کو روکا جا سکے۔
خیال رہے کہ پاکستان کی سات قبائلی ایجنسیوں کے ساتھ خیبر پختونخواہ کے نو اضلاع کی سرحدیں ملتی ہیں۔
جنوبی وزیرستان ایجنسی کے ساتھ ضلع ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کی سرحد ملتی ہے تو شمالی وزیرستان کے ساتھ بنوں اور لکی مروت کے اضلاع واقع ہیں۔ اسی طرح کرم ایجنسی کے ساتھ ضلع ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کے ساتھ ضلع کوہاٹ اور ہنگو دونوں کی سرحد ملتی ہے۔
خیبر ایجنسی کے ساتھ دارالحکومت پشاور واقع ہے تو مہمند ایجنسی کے ساتھ چارسدہ اور باجوڑ ایجنسی کے ساتھ لوئر دیر اور ملا کنڈ کی سرحدیں ملتی ہیں۔
نگراں صوبائی حکومت نے افغان پناہ گزینوں کی نقل و حرکت کو بھی محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نگراں وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ افغان پناہ گزینوں کے کاغذات کی ضرور جانچ پڑتال کریں۔ انہوں نے افغانیوں سے درخواست کی کہ ان دنوں میں وہ خود بھی احتیاط کریں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے۔

پاک افغان سرحد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انھوں نے کہا کہ اجلاس میں یہ معاملہ زیر بحث آیا تھا لیکن چونکہ اس بین الاقوامی سرحد پر تجارت اور آمدورفت بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے اس سرحد کو مکمل طور پر سیل نہیں کیا جا سکتا لیکن وقت آنے پر اگر ضرورت محسوس ہوئی تو اس بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبائی وزیر نے بتایا کہ پولنگ کے دن کے حوالے سے بھی کچھ فیصلے کیے گئے ہیں جن میں خواتین کے پولنگ سٹیشنوں پر خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی بھی شامل ہے جبکہ فوج کی کوئیک رسپانس فورس بھی چوکس رہے گی اور دس منٹ کے وقفے میں وہ ہر ضلع میں پہنچ سکے گی۔
یاد رہے کہ محکمہ داخلہ اور قبائلی امور نے گزشتہ روز قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو صوبے کے شہری علاقوں میں انتخابی مہم سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ شہری علاقوں میں ان امیدواروں کے دفاتر پر حملوں کے بعد کیا گیا تھا۔
صوبائی نگراں وزیر نے کہا کہ یہ فیصلہ بھی شہریوں کی حفاظت کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کیونکہ انتخابی مہم سے اہم عام شہریوں کی حفاظت ہے۔







