کرّم میں شیعہ سنی ایک پلیٹ فارم پر متحد

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اگر ایک طرف سیاسی بنیاد پر الیکشن لڑنے سے اُمیدواروں کو شدت پسندوں کے حملوں کا خطرہ ہے تو دوسری طرف فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرہ قبائلی علاقے کُرم ایجنسی کے سُنی اور شیعہ مسلک کے لوگوں کو الیکشن نے ایک پلیٹ فارم پر متحد کردیا ہے۔
کُرم ایجنسی میں قومی اسمبلی کی دو نشستیں ہیں جس میں این اے 37 اپر کُرم اور این اے 38 لوئر کُرم شامل ہیں۔اپر کُرم میں پانچ دیہات پر مُشتمل 20 سے 25 فیصد تک کی آبادی سُنی مسلک کے مسلمانوں کی ہے باقی 80 فیصد کے قریب آبادی شیعہ مسلک کے مسلمانوں کی بتائی جاتی ہے۔
این اے 38 لوئر کُرم میں تمام کے تمام سُنی مسلک کے لوگ ہیں جہاں شیعہ مسلمانوں کی آبادی نہیں ہے۔
حلقہ این اے 37 سے پیپلز پارٹی کے نامزد اُمیدوار حامد حُسین طوری نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ پہلی دفعہ ہے کہ سُنی شیعہ مسلک کے لوگ کسی سیاسی پارٹی کے نامزد اُمیدوار کے جھنڈے تلے ایک ہوگئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حلقہ این اے 37 سے پیپلز پارٹی کے علاوہ تحریکِ انصاف، مسلم لیگ (ن) جمعیت علمائے اسلام، جماعتِ اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کے اُمیدوار ایک دوسرے کے مقابلے میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا خود تعلق شیعہ مسلک سے ہے لیکن ان کے حامیوں میں سینکڑوں ایسے لوگ شامل ہیں جن کا تعلق اہل سُنت سے ہے لیکن سیاسی پارٹی کی بنیاد پر وہ ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔
اپر کُرم کے اسی حلقے این اے 37 سے تحریک انصاف کے اُمیدوار حفیظ اللہ نے، جن کا تعلق اہل سُنت سے ہے، تسلیم کیا کہ سیاسی پارٹیوں کی بنیاد پر الیکشن مُہم کے دوران سُنی شیعہ مسلک کے لوگ ایک جھنڈے تلے انتحابی مُہم چلا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی الیکشن ہو چکے ہیں لیکن اس میں سُنی شیعہ ایک دوسرے سے دور تھے اب کسی ایک سیاسی پارٹی سے وابستگی کی وجہ سے دونوں فرقوں کے لوگ ایک دوسرے کے قریب آ گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ پاڑہ چنار میں شیعہ مسلک کے جوان ایک سیاسی کارکُن کی بنیاد پر اپنی جیبوں پر ان کے بیج لگا رہے ہیں جو ایک انتہائی خوش آئند اور واقعی تبدیلی کی بات ہے۔
ایک غیر سرکاری تنظیم کے کارکُن اور علاقے پر نظر رکھنے والے سجاد حُسین نے بتایا کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی پارٹیوں کی بنیاد پر الیکشن لڑنے کی اجازت کے بعد سے فرقہ وارانہ نفرت میں بُہت کمی واقع ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ صرف ایک گاؤں میں یہ کمی نہیں بلکہ پوری ایجنسی میں یہ تبدیلی سامنے آئی ہے۔
سجاد حُسین کے مطابق جہاں سُنی شیعہ مسلک کے لوگ ایک دوسرے کے دُشمن تھے آج ایک دوسرے کے قریب آ گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پورے علاقے میں ایک تبدیلی کی فضا ہے۔البتہ علاقے کے لوگوں کی سیاسی اُمیدواروں سے کافی اُمیدیں وابستہ ہے، اگر وہ ان پر پورا نہیں اُترے تو اس کا نتیجہ بُہت خراب ہوگا۔
یاد رہے کہ 2008 کے الیکشن میں قبائلی اور نیم قبائلی علاقوں میں قومی اسمبلی کی 12 نشستوں میں سے دس نشستوں پر الیکشن ہوئے تھے، جبکہ دو نشستوں پر الیکشن ملتوی کر دیاگیا تھا۔
این اے 42 جنوبی وزیرستان جہاں سے بیت اللہ محسود کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد لوگوں نقل مکانی کر چکے تھےاور این اے 37 پاڑہ چنار جس میں پیپلز پارٹی کے امیدوار پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 40 سے زیادہ لوگ ہلاک جب کہ سو سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔
کرم ایجنسی گذشتہ پانچ چھ سالوں سےفرقہ وارانہ فسادات کی زد میں رہا ہے جس کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک، زخمی اور بےگھر ہو چکے ہیں اور حال ہی میں یہاں پر سنی اور شیعہ مسالک کے درمیان امن معاہدہ طے پایا ہے۔اور یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پہلی دفعہ کُرم ایجنسی سے دونوں فرقوں کے لوگوں کی جانب سے اچھی خبر مل رہی ہے۔







