کراچی میں الیکشن کی ڈیجیٹل نگرانی کا فیصلہ

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے موقع پر صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پولنگ مراکز پر ویڈیو ریکارڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی مدد سے ضابطۂ اخلاق اور قانون کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کی جائے گی۔
کراچی میں الیکشن کے لیے تین ہزار پولنگ سٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا ہے۔
محکمۂ داخلہ کے صوبائی مشیر شرف الدین میمن کا کہنا ہے کہ حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ کیمروں کے ذریعے انتخابی عمل کی مرکزی نگرانی کے جائے۔
شرف الدین میمن کے مطابق اس ریکارڈنگ کی مدد سے یہ پتہ لگانا آسان ہوگا کہ کہاں ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے، یا جعلی ووٹ تو نہیں ڈالے جا رہے ہیں، تاکہ فوری کارروائی کی جاسکے۔
صوبائی چیف الیکشن کمشنر ایس ایم قادری کا کہنا ہے کہ جہاں سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں کیے جا سکتے تو وہاں ویڈیو کیمروں کی مدد سے ریکارڈنگ کی جائے گی۔ اس کے علاوہ مانیٹرنگ ٹیمیں بھی ان پولنگ سٹیشنوں کی ریکارڈنگ کریں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ کیمرے پولنگ بوتھ پر نصب نہیں ہوں گے اور صرف بیرونی حصے کی نگرانی کریں گے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کس نوعیت کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور اس میں کون ملوث ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی سمیت کئی جماعتیں شکایت کرتی ہیں کہ کراچی میں عوام کا مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے اور کچھ علاقوں میں جعلی ووٹ ڈال کر بیلٹ باکس بھرے جاتے ہیں۔
صوبائی الیکشن کمشنر ایس ایم قادری کا کہنا تھا کہ کسی سیاسی جماعت نے ریکارڈنگ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار نہیں کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ سندھ کے صوبائی حلقے پی ایس 53 پر ضمنی انتخابات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار وحیدہ شاہ نے الیکشن کمیشن کے ایک خاتون ملازم کو تھپڑ رسید کر دیا تھا۔
یہ منظر کیمرہ کی آنکھ نے ریکارڈ کر لیا اور میڈیا نے اس کو عام کیا نتیجے میں وحیدہ شاہ کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ویڈیو ریکارڈنگ کا آئیڈیا اسی واقعے کے بعد منظور کیا گیا۔







