کراچی: چلو چلو سمندر چلو

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں خوف اور دہشت کے باعث اگر کھلے میدانوں میں جلسہ نہیں کیا جاسکتا تو کھلے سمندر میں راستہ روکنے والا کوئی نہیں۔
کراچی کے حلقہ پی ایس 129 کے ایک امیدوار نے سمندر میں عوامی اور انتخابی اجتماع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آزاد امید وار عثمان غنی ماہی گیر ہیں اور ان کا تعلق ماہی گیروں کی پرانی بستی ابراہیم حیدری سے ہے۔
صوبائی اسمبلی کے اس حلقے میں ایک اندازے کے مطابق 35 فیصد ووٹر ماہی گیر ہیں۔
عثمان غنی سمیت 42 امیدوار اس حلقے سے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں لیکن ان سب میں عثمان غنی کو سمندر میں جلسہ کرنے کا خیال آیا اور اس کے لیے انہوں نے تین مئی کی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔
موجودہ انتخابی مہم میں شاید یہ سب سے انوکھا جلسہ ہوگا جہاں نہ ٹریفک کا شور ہوگا نہ راستوں کی بندش کا مسئلہ ہوگا اور نہ ہی کریکر اور خودکش حملے کا خوف ہو گا۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ شرکاء اور مقررین ایک ساتھ جائیں گے اور ایک ساتھ واپس ساحل کی طرف آئیں گے جبکہ عام جلسوں میں قائدین اور کارکنان کے آنے اور جانے کے راستے الگ الگ ہوتے ہیں۔
عثمان غنی نے اس جلسے میں شرکت کے لیے سب کو پمفلٹ کے ذریعے دعوت دی ہے اور اس کے لیے پورے حلقے میں دیواروں پر پوسٹر بھی چسپاں کیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق حلقے میں موجود پہلے سے مضبوط امیدواروں کے مقابلے میں عوامی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرانے کے لیے اور دہشت گردی کی ممکنہ واردات سے لوگوں کو بچانے کے لیے انہوں نے سمندر میں جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عثمان غنی کے مطابق اس جلسے کے لیے 100 سے زائد کشتیوں کا انتظام کیاگیا ہے اور 2000 سے زائد لائف جیکٹس کا بھی شرکا کے لیے بندوبست کیا گیا ہے۔ یہ لائف جیکٹس ان لوگوں کے لیے ہیں جو ماہی گیر نہیں جبکہ ماہی گیر اپنے ساتھ اپنے ذاتی لائف جیکٹس لائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ماہی گیروں کا مکمل تعاون حاصل ہے اور اس جلسے میں جو بھی شخص شرکت کرے گا اس کے مکمل حفاظت کا خاص خیال رکھا جائے گا۔
ایمرجنسی کی صورت میں میڈیکل بورڈ اور دیگر ٹیموں امدادی ٹیموں کو تشکیل دیا گیا ہے۔
عثمان غنی کا کہنا ہے کہ سمندر میں جلسہ کرنا آسان کام نہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ یہ جلسہ انتخابی مہم کے سلسلے میں ہو رہا ہے لیکن اس اجتماع کا ایک اہم مقصد لوگوں کو ماہی گیروں کے مسائل کی طرف بھی متوجہ کرنا ہے۔
ماہی گیروں میں تعلیم کے شعور کو اجاگر کرنا سکولوں کا قیام اور ماہی گیری کے شعبے کو ترقی دینا ان کے بنیادی ایجنڈے میں شامل ہیں۔
عثمان غنی کے مطابق اس سے قبل جو لوگ بھی یہاں سے منتخب ہوئے انہوں نے ماہی گیری کی صنعت کے حوالے سے کوئی کام نہیں کیا اور نہ ہی ماہی گیروں کے حقوق کے لیے کبھی سنجیدہ آواز اٹھائی۔
صوبائی اسمبلی کے اس حلقے سے گزشتہ الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مظفر شجرہ کامیاب ہوئے تھے جبکہ دوسرے نمبر پر متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار تھے۔
ابراہیم حیدری کا شمار شہر کے انتہائی پسماندہ علاقوں میں ہوتا ہے اور یہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم مچھیروں کی پرانی بستی ہے۔ یہاں پر تعلیم کی شرح بھی بہت کم ہے۔ زیادہ تر لوگ ماہی گیر ہیں اور یہاں پر بسنے والے لوگ علاقائی پسماندگی کا رونا روتے ہیں۔
حکام سے شکایات کرنے والے یہ لوگ اس بار اپنی قسمت کا فیصلہ کن کے ہاتھ میں دیتے ہیں یہ تو ابھی تک واضح نہیں لیکن کیا یہ انتخابات مچھیروں کی اس بستی میں انقلاب لا سکے گا؟اس کا فیصلہ تو یہاں کے مچھیروں نے ہی کرنا ہے۔







