غداری کا مقدمہ: مشرف کو ملک نہ چھوڑنے کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی درخواست کی ابتدائی سماعت میں سابق صدر، وفاق اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
نوٹس جاری کرنے کا حکم پیر کو سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ نے سابق صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی درخواست کی ابتدائی سماعت میں دیا۔
ہمارے نمائندے شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے اسلام آباد اور چاروں صوبوں کے پولیس سربراہان کو بھی حکم دیا کہ پرویز مشرف کو جاری کیے گئے نوٹس کی تعمیل کو یقینی بنائیں۔
اپنے حکم میں عدالت نے کہا کہ وفاق اور اس کے ماتحت ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ جب تک ان درخواستوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا سابق صدر ملک چھوڑ کر نہ جاسکیں۔
سپریم کورٹ نے سیکرٹری داخلہ کو یہ حکم بھی دیا کہ اگر سابق فوجی صدر کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نہیں ہے تو اُن کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں ڈال دیا جائے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے جمعے کو پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کی درخواست ابتدائی سماعت کے لیے منظور کی تھی۔
جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف ملکی آئین توڑنے سے متعلق دائر پانچ در|خواستوں کی سماعت کی۔
ابتدائی طور پر تین رکنی بینچ کا اعلان کیا گیا تھا جس کی سربراہی چیف جسٹس کو کرنی تھی تاہم اتوار کو وہ اس سے دستبردار ہوگئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیر کو مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ اگر غداری کے حوالے سے ملک کا آئین واضح ہے تو عدالت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ وفاق نے ابھی تک کوئی اقدام کیوں نہیں اٹھایا۔
درخواست گُزار مولوی اقبال حیدر کے وکیل اے کے ڈوگر نے کہا کہ پرویز مشرف آئین توڑنے کے مقدمے میں ملزم نہیں بلکہ مجرم ہیں اس لیے عدالت وفاقی حکومت کو ہدایات جاری کرے کہ وہ پرویز مشرف کو تحویل میں لے لےتاکہ وہ بیرون ملک فرار نہ ہوسکیں۔
اُنہوں نے کہا کہ تین نومبر سنہ دو ہزار سات کے اقدامات کے بارے میں سپریم کورٹ کا اکتیس جولائی کا فیصلہ واضح تھا لیکن وفاقی حکومت نے اس ضمن میں کوئی اقدامات نہیں اٹھائے۔
بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ابھی تک یہ سمجھ نہیں پائی کہ فیصلہ موجود ہونے کے باوجود وفاقی حکومت نے اس ضمن میں اقدامات کیوں نہیں کیے۔
یاد رہے کہ پرویز مشرف کی تین نومبر کے اقدمات کے تحت عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اُٹھانے والے اعلیٰ عدالتوں کے ججز کو توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کیے گئے تھے جبکہ ایمرجنسی کے نفاذ میں کورکمانڈرز کو نوٹس جاری کرنے کا معاملہ ابھی بھی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے پاس ہے۔
خلجی جسٹس عارف حسین نے کہا کہ حکومت ہی نے مقدمہ چلانا ہے اور جس کے خلاف مقدمہ ہے اس نے دفاع کرنا ہے اور عدالت پراسیکیوٹر کا کردار ادا نہیں کرسکتی۔
درخواست گزار مولوی اقبال حیدر نے کہا کہ عدالت پراسیکیوٹر کا کردار ادا نہیں کر سکتی لیکن وفاق کو ہدایت دے سکتی ہے۔
جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کے آئین میں آرٹیکل چھ کا اطلاق 1956 سے کردیا تھا جس کے تحت جو بھی آئین کو معطل کرے گا اُس کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلا جائے گا۔
لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی بینچ کے صدر اور درخواست گزار توفیق آصف کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تئیس جنوری 2012 کو سینیٹ میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جنرل پرویز مشرف نے نہ صرف دو مرتبہ آئین توڑا بلکہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی توہین کی اس لیے مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ اس قرارداد کے باوجود جب جنرل مشرف چوبیس مارچ 2013 کو پاکستان لوٹے ہیں تو ان کو گرفتار کرنے کے بجائے حفاظتی ضمانت دی گئی۔ ان درخواستوں کی سماعت نو اپریل تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔
واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی بینچ کے صدر توفیق آصف سمیت پانچ افراد نے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی ہیں جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے اقتدار کے دوران دو مرتبہ آئین کو توڑا اور پاکستانی قانون میں اس کی سزا موت ہے۔
درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے اس ضمن میں کوئی عملی اقدامات نہیں کیے تھے اس لیے عدالت وفاقی حکومت کو ہدایت کرے کہ وہ سابق فوجی صدر کے خلاف پاکستانی قانون کے تحت کارروائی کرے۔
اس ضمن میں ابتدائی درخواست مولوی اقبال حیدر نے سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے پرویز مشرف کو ’غدار‘ قرار دیتے ہوئے درخواست گُزار کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر کے خلاف فیصلہ سپریم کورٹ کے اکتیس جولائی سنہ دوہزار نو کے فیصلے کی روشنی میں دیا جس میں عدالت عظمیٰ نے سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے تین نومبر سنہ دوہزار سات کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔
یاد رہے کہ پرویز مشرف سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو، سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب اکبر بُگٹی اور اعلی عدالتوں کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمات میں اشتہاری ہیں اور ان دنوں میں سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے دی جانے والی حفاظتی ضمانت پر ہیں۔







