مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل

پرویز مشرف یا اُن کی جماعت کی طرف سے اس اقدام سے متعلق کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا
،تصویر کا کیپشنپرویز مشرف یا اُن کی جماعت کی طرف سے اس اقدام سے متعلق کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا

پاکستان کی وزارت داخلہ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ اُنہیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دی جائے۔

سندھ ہائیکورٹ نے جمعہ کو تین مقدمات میں پرویز مشرف کی حفاظتی ضمانتوں میں توسیع کی تھی اور ساتھ ہی انہیں بلااجازت ملک سے باہر جانے سے روک دیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سلسلے میں ایف آئی اے کے حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ وہ امیگریشن حکام کو ہدایات جاری کر دیں۔

رابطہ کرنے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل انور ورک نے وزارت داخلہ کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا تاہم اسلام آباد کے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن میں تعینات ایک اہلکار کے مطابق اُنہیں متعقلہ افسران کی طرف سے ابھی تک زبانی ہدایات ملی ہیں کہ اگر سابق فوجی صدر اس ایئرپورٹ سے بیرون ملک جانے کی کوشش کریں تو اُنہیں روک لیا جائے۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف یا اُن کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی طرف سے اس اقدام سے متعلق ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یاد رہے کہ سابق فوجی صدر کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے لیے ایک درخواست سپریم کورٹ میں بھی دائر کی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پرویز مشرف سنہ دو ہزار سات میں ہونے والے لال مسجد آپریشن اور اُس میں ہونے والی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں اس لیے اُن کام نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے۔

لال مسجدآپریشن سے متعلق سابق آرمی چیف کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہے تاہم سپریم کورٹ نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے وفاقی شرعی عدالت کے جج کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا تھا اور پرویز مشرف اس کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

اُس وقت کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کمیشن کو دیے گئے بیان میں اس واقعے کی تمام تر ذمہ داری پرویز مشرف پر عائد کی تھی۔