سندھ: سیلاب کے پانی سے سانپ نکل کر خیموں میں متاثرین کو کاٹ رہے ہیں

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی
’شام کو سورج غروب ہونے کا وقت تھا میں بکریوں کو چارہ دے رہی تھی کہ کسی چیز نے ٹانگ پر کاٹا دیکھا تو سانپ الجھا ہوا تھا۔ میں نے چھڑانے کی کوشش کی تو اس نے دوبارہ کاٹا میری آواز پر بھائی آیا اور اس نے سانپ کو مارا یہ بھورے رنگ کا کھپر سانپ (وائپر) تھا۔‘
25 سالہ زینب النسا بروہی اس وقت سول ہسپتال دادو میں زیر علاج ہیں جہاں انھیں اینٹی سنیک وینم دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ انھیں خون بھی دیا گیا ہے۔
زیب النسا کی خالہ نے بتایا کہ ان کا گاؤں واھڑ کے قریب رئیس نگر ہے جو زیر آب آ چکا ہے اور وہ حفاظتی بند کے ٹیلے پر موجود ہیں جہاں سانپ نکل رہے ہیں۔ چند روز قبل بھی ان کے خاندان کی ایک عورت نے سانپ مارا تھا۔
زیب النسا کو دادو لانے کے لیے کشتی کا بندوبست کیا گیا اور کشتی آنے تک ان کا پاؤں باندھا گیا جس سے خون رس رہا تھا، سول ہسپتال میں انھیں ویکسین لگائی گئی جہاں وہ اس وقت زیر علاج ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دادو شہر سے باہر انڈس ہائی وے پر ایک خیمے میں رہائش پذیر شاہ زیب نے بتایا کہ گزشتہ شب ایک سانپ ان کے بچوں کے درمیان آ کر بیٹھ گیا جو سو رہے تھے۔ بچوں نے کچھ محسوس کیا، انھوں نے دیکھا تو بھورے رنگ کا سانپ تھا جس کو انھوں نے مار کر سڑک پر پھینک دیا۔

بقول شاہ زیب ان کے پاس چارپائیاں نہیں اور روشنی کا انتظام بھی نہیں، پانی کے قریب موجود ہیں اس لیے سانپ ان کے قریب آ جاتے ہیں، وہ خود کو مچھروں سے ہی نہیں بچا پاتے رات بھر جاگتے ہیں اس لیے سانپ پر نظر پڑ جاتی ہے۔
سندھ میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق یکم جولائی سے 13 ستمبر تک سانپ کے کاٹنے کے 134 واقعات ہو چکے ہیں۔
دادو سول ہسپتال کے حکام کے مطابق صرف ایک ماہ کے عرصے میں ان کے پاس سانپ کے کاٹنے کے 30 سے زیادہ کیس آ چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مزید پڑھیے
سندھ میں کچھ عرصہ قبل اینٹی سنیک وینم کی قلت سامنے آئی تھی، صوبائی حکومت کے ریکارڈ کے مطابق اس وقت صوبے میں ساڑھے 18 ہزار کے قریب اے ایس وی موجود ہے جن میں سے 15 سو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد نے فراہم کی ہیں۔
سندھ کے محکمہ صحت کے پارلیمانی سیکریٹری قاسم سومرو نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس اے ایس وی کی قلت نہیں ہے اور تمام ہسپتالوں میں اس کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سیلاب سے سانپوں کی پناہ گاہیں زیر آب آئی ہیں خاص طور پر جو حفاظتی بند ہیں وہاں ان کے کاٹنے کے کیس سامنے آ رہے ہیں۔
سندھ کے محکمۂ جنگلی حیات کے چیف کنزرویٹر جاوید مہر کے مطابق سندھ میں سانپوں کی تعداد کتنی ہے اس بارے میں ادارے نے کبھی سروے نہیں کیا تاہم سندھ میں 90 کے قریب اقسام کے سانپ پائے جاتے ہیں جن میں کوبرا، وائپر سمیت دیگر سانپ شامل ہیں ان میں وہ سانپ بھی ہیں جو زہریلے نہیں۔
جب انھیں دادو بائی پاس کے قریب مارے گئے سانپ کی تصویر بھیجی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ زہریلا سانپ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت خیرپور کا قریبی صحرائی علاقہ، دریائے سندھ کے قریب کچے کا علاقہ ، شھدادکوٹ قمبر اور دادو اور جام شورو کے پہاڑی اور سیم والا علاقے زیر آب آ چکے ہیں۔
یہاں اہلِ علاقہ کے مطابق سانپ پائے جاتے ہیں۔ میلوں تک پھیلے ہوئے پانی میں کئی سانپ زندہ دیکھے گئے ہیں جبکہ خیرپور اور شہدادکوٹ میں لوگوں نے ان کو مارا بھی ہے۔
منچھر جھیل سے پانی کے دریائے سندھ میں اخراج کے بعد دریائے سندھ کے رائیٹ سائیڈ پر لاڑکانہ، قمبر شھدادکوٹ، دادو اضلاع میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے، بعض علاقوں میں لوگ واپس بھی لوٹ رہے ہیں۔












