امریکن بلفروگ اور براؤن ٹری سانپ نے دنیا کو 16 ارب ڈالر کا معاشی نقصان پہنچایا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, لیو سینڈز
- عہدہ, بی بی سی نیوز
دنیا بھر میں تیزی سے اپنی نسل پھیلانے اور حملہ آور ہونے والی انواع کے باعث معاشی نقصان کا تخمینہ لگانے والے سائنسدانوں کےمطابق دو نسلیں کسی بھی دوسرے سے زیادہ نقصان کے لیے ذمہ دار ہیں۔
1986 سے اب تک امریکن بلفروگ اور براؤن ٹری سانپ نے عالمی سطح پر مجموعی طور پر 16.3 بلین ڈالر (13.4 بلین پاؤنڈ) کا نقصان پہنچایا ہے۔
ماحولیاتی نقصان کے علاوہ، ان دونوں جانورں کی نسلوں نے کھیتوں میں لگی فصلوں کو برباد کیا ہے اور ایسے مقامات پر بجلی کی بندش کا باعث بنے ہیں جہاں اسے بحال کرنا بہت مہنگا ثابت ہوا۔
محققین کو امید ہے کہ ان کے نتائج مستقبل میں ایسی ناگوار سمجھی جانے والے حملہ آور جانوروں کی نسلوں کو روکنے میں مدد کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنے کی حوصلہ افزائی کریں گی۔
رپورٹس کے مطابق سائنسدانوں نے براؤن ٹری سانپ کو مجموعی طور پر 10.3 بلین ڈالر کے نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس سانپ کی نسلیں بحرالکاہل کے کئی جزیروں میں بے قابو ہو کر پھیلتی گئیں۔
گوام جزیرے میں جہاں گزشتہ صدی کے دوران امریکی میرینز نے غلطی سے رینگنے والے جانوروں کو متعارف کرایا تھا، سانپ کی موجودہ آبادی بڑے پیمانے پر بجلی کی کٹوتیوں کا سبب بنتی ہے کیونکہ وہ بجلی کے تاروں پر رینگتے ہیں اور مہنگے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔
بحرالکاہل کے اس چھوٹے سے جزیرے پر 20 لاکھ سے زیادہ براؤن ٹری سانپ پائے جاتے ہیں، ایک اندازے کے مطابق گوام کے جنگل میں فی ایکڑ رقبے پر 20 سانپ موجود ہیں۔
جزیرے کے ماحولیاتی نظام کو ان حملہ آور جانوروں کی نسلوں سے زیادہ خطرہ ہے، ان کی وجہ سے مقامی جانوروں اور حیوانات کی نسلیں ختم ہونے کا ڈر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یورپ میں امریکن بلفروگ کی بہت تیزی سے بڑھتی تعداد کو کم کرنے کے لیے مہنگے انتظامی پروگراموں کی ضرورت ہے۔
امفیبین (جو کہ لمبائی میں 30 سینٹی میٹر (12 انچ) اور وزن میں آدھا کلو (17.6 اونس) تک بڑھ سکتا ہے) کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے اس کی افزائش کے اہم مقامات کے گرد مہنگی مینڈک پروف باڑ لگائی ہے۔
یورپ میں کی جانے والی ایک پرانی تحقیق کے مطابق امفیبین کے فرار کو روکنے کے لیے صرف پانچ تالابوں پر باڑ لگانے پر جرمن حکام کو 270000 یورو (226300 پاونڈ) خرچ کرنا پڑے۔
کہا جاتا ہے کہ امفیبین سب کچھ کھا جاتا ہے، حتیٰ کہ دیگر بلفروگ کو بھی کھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
جانوروں کی ایک اور نسل جسے عام طور پر کوکی مینڈک کہا جاتا ہے، کو مختلف طریقے سے معاشی نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ جن علاقوں میں کوکی مینڈک کثرت سے پائے جاتے ہیں وہاں ان کی انتہائی اونچی آوازوں کے باعث جائیداد کی قدروں میں کمی ہوئی ہے اور عموماً لوگ ان کے مسکن کے قریبی علاقوں میں رہنا پسند نہیں کرتے۔
اس تحقیق کے محقیقین کو امید ہے کہ یہ نتائج حکام کو مستقبل میں ایسے جانوروں پر قابو پانے اور بائیو سیکیورٹی کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دیں گے۔













