شوہر کی اہلیہ کو کوبرا سانپ سے قتل کرنے کی انوکھی واردات کی پولیس نے کیسے کھوج لگائی؟

انڈیا میں گذشتہ ہفتے ایک شخص کو دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ عام طور پر ایسی سخت سزائیں کم ہی دی جاتی ہیں لیکن اس شخص کا جرم یہ تھا کہ اس نے اپنی بیوی کو ایک کوبرا سانپ سے کٹوا کر ہلاک کیا تھا۔
بی بی سی کے نامہ نگار سوتک بسواس اور اشرف پادنا نے اس بھیانک قتل سے پہلے کے واقعات کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے۔
گذشتہ برس اپریل میں 28 برس کے سورج کمار نے سات ہزار روپے میں ایک دھاری دار کوبرا سانپ خریدا تھا۔ یہ سانپ دنیا کے سب سے زہریلے سانپوں میں سے ایک ہے۔
انڈیا میں سانپوں کی خرید و فروخت پر پابندی ہے اس لیے سورج نے یہ سانپ کیرالہ کی جنوبی ریاست کے ایک سپیرے سریش کمار سے خریدا تھا۔
سورج نے ایک پلاسٹک کے ڈبے میں ہوا کے گزر کے لیے ایک سوراخ کیا، اس میں کوبرا رکھا اور اسے گھر لے گئے۔ 13 روز بعد انھوں نے اس ڈبے کو بیگ میں رکھا اور اپنے سسرال پہنچے جو ان کے گھر سے 44 کلومیٹر دور تھا۔ یہاں ان کی اہلیہ اتھرا پہلے ہی سانپ کے کاٹنے کے ایک پراسرار واقعے سے صحت یاب ہو رہی تھیں۔
سورج اور اتھرا کی دو برس قبل ہی ملاقات ہوئی تھی جس میں شادیاں کروانے والی سروس کا کردار تھا۔
سورج کے والد ایک رکشا ڈرائیور تھے جبکہ ان کی والدہ گھر کے کام کرتی تھیں۔ اتھرا سورج سے تین برس چھوٹی تھیں اور انھیں سیکھنے میں معذوری کا سامنا تھا اور وہ کھاتے پیتے گھرانے سے تھیں۔ ان کے والد ربڑ کی تجارت کرتے تھے جبکہ ان کی والدہ ریٹائرڈ سکول پرنسپل تھیں۔
جب اس جوڑے کی شادی ہوئی تو سورج نے اتھرا کے والدین کی جانب سے جہیز میں دیا گیا 768 گرام سونا قبول کیا (جو آج کے ڈالر کی قدر کے حساب سے 32 ہزار ڈالر بنتا ہے)۔ اس کے علاوہ ایک سوزوکی سیڈان کار اور چار لاکھ روپے نقد بھی دیے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ اتھرا کے والدین ’اپنی بیٹی کی دیکھ بھال کے لیے‘ سورج کو آٹھ ہزار روپے ماہانہ بھی دیتے تھے۔‘
جب انھیں ایک سانپ نے ڈسا تو اتھرا ہسپتال میں 52 روز تک داخل رہنے کے بعد اپنے میکے ہی گئی تھیں۔ ہسپتال میں گزرے ایام میں ان کی تین خطرناک سرجریاں ہوئی تھیں تاکہ ان کی متاثرہ ٹانگ کا علاج کیا جا سکے۔ انھیں رسلز وائپر نامی سانپ نے ڈسا تھا جو گندمی رنگ کا سانپ ہے جو انڈیا میں ہر سال ہزاروں افراد کی موت کی وجہ بنتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پھر چھ مئی کی رات تفتیش کاروں کے مطابق اتھرا سستا رہی تھیں اور ایسے میں انھیں سورج کی جانب سے جوس کا گلاس دیا گیا جس میں خواب آور ادویات موجود تھیں۔ جب ان کی اہلیہ ان ادویات کے اثر کے باعث سو گئیں تو سورج نے اس ڈبے سے پانچ فٹ لمبا کوبرا نکال کر ان پر چھوڑ دیا۔
تاہم سانپ نے اتھرا پر حملہ کرنے کی بجائے ان کے جسم پر رینگنا شروع کر دیا۔ سورج نے سانپ کو اٹھایا اور ایک مرتبہ پھر اپنی اہلیہ پر سانپ پھینک دیا لیکن ایک مرتبہ پھر یہ ان کے جسم پر رینگنے لگا۔
سورج نے تیسری کوشش کی لیکن اس مرتبہ انھوں نے کوبرا کو اس کے سر سے پکڑا اور اسے زبردستی اتھرا کے بائیں بازو کے قریب لے گئے۔ مشتعل کوبرا نے اپنے دانتوں کے ذریعے انھیں دو مرتبہ کاٹا۔ اس کے بعد وہ نیچے اتر کر ایک الماری کے نیچے چھپ گیا اور پوری رات وہیں رہا۔
ایک ہیرپیٹولوجسٹ ماوش کمار کا کہنا تھا کہ ’کوبرا تب تک نہیں کاٹتے جب تک آپ انھیں اکسائیں ناں، سورج کو اسے سر سے پکڑ کر اپنی اہلیہ کو کاٹنے پر مجبور کرنا پڑا۔‘
تحقیق کاروں کے مطابق سورج نے جوس کے گلاس کو دھویا، اس چھڑی کو تباہ کر دیا جو انھوں نے سانپ کو محفوظ طریقے سے سنبھالنے کے لیے استعمال کی تھی اور اپنا کال ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہSREEDHAR LAL
جب اگلی صبح اتھرا کی ماں اس کے کمرے میں داخل ہوئیں تو اس نے پولیس کو بتایا کہ اس نے اپنی بیٹی کو بیڈ پر پڑا دیکھا، اس کا منہ کھلا ہوا تھا اور اس کا بائیں ہاتھ ایک طرف لٹکا ہوا تھا۔
ان کے مطابق سورج بھی کمرے میں موجود تھا۔
مانی میخالہ ورجیان نے اپنے داماد سے کہا کہ ’آپ نے یہ کیوں نہیں دیکھا کہ وہ جاگ رہی ہیں یا نہیں؟ سورج نے جواب دیا کہ وہ اسے تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔ اتھرا کے خاندان والے اسے ہسپتال لے گئے، جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کی ہے اور یہ کہہ کر پولیس کو بلا لیا کہ موت زیر دینے سے ہوئی ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کے بائیں بازو پر ایک انچ سے بھی کم فاصلے پر دو زخموں کی نشاندہی کی گئی۔ خون اور جسم کے دیگر حصوں کے نمونوں سے پتا چلا کہ اتھرا کے جسم میں کوبرا کا زہر ہے اور انھیں سکون پہنچانے والی ادویات بھی دی گئی تھیں۔
کوبرا کا زہر سانس کے پٹھوں کو مفلوج کر کے کسی کو گھنٹوں میں موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔
اتھرا کے والدین کی شکایت پر پولیس نے 24 مئی کو سورج کو اس کی بیوی کی غیر معمولی موت کے مقدمے میں گرفتار کیا۔ 78 دن کی تفتیش اور ایک ہزار سے زائد صفحات کی رپورٹ پر مشتمل پولیس کی تفتیش رپورٹ کے ساتھ اس قتل کے ٹرائل کا آغاز ہوا۔
دوران ٹرائل 90 سے زائد افراد بشمول ہرپیٹولوجسٹ اور ڈاکٹروں نے عدالت میں آ کر گواہی دی۔ استغاثہ نے اپنے مقدمے میں سورج کے فون کا کال ریکارڈ، انٹرنیٹ کی تفصیلات، مکان سے متصل باغ سے ملنے والے ایک مردہ کوبرا، خاندانی گاڑی میں ادویات کے ذخیرے کے بارے میں بھی عدالت کو آگاہ کیا۔
عدالت میں یہ ثبوت بھی پیش کیا گیا کہ سورج نے ایک نہیں بلکہ دو سانپ خریدے تھے۔
تفتیش کاروں نے بتایا کہ سورج نے رسل کا وائپر بھی خریدا تھا جس نے اتھرا کے مرنے سے کئی ماہ قبل اسے کاٹا تھا۔
سانپ پکڑنے والے سریش نے عدالت کے سامنے یہ اعتراف جرم کیا کہ اس نے سورج کو دو سانپ فروخت کیے تھے۔ ایک ہرپیٹولوجسٹ نے عدالت کو بتایا کہ اس بات کا بہت زیادہ امکان نہیں کہ کوبرا اتھرا اور سورج کے بیڈروم میں کھڑکی سے داخل ہوا۔
پولیس نے دوران تفتیش کرائم سین بنایا، وہاں ایک زندہ کوبرا چھوڑا اور سانپ سدھانے والے کے علاوہ بیڈ پر ایک متاثرہ خاتون کی ڈمی کو لٹا دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہSREEDHAR LAL
ماؤش کمار کے مطابق رات کو کوبرا سانپ زیادہ متحرک نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بار جب ہم نے کوبرا کو ڈمی پر گرایا تو یہ فرش پر پھسل گیا اور کمرے کے اندھیرے والے کونے میں چلا گیا۔ حتیٰ کہ جب انھوں نے کوبرا کو غصہ دلایا اور کاٹنے کی طرف مائل کیا تو بھی اس نے ڈمی کو کاٹنے کی کوشش نہیں کی۔
اس کے بعد اس نے ایک کوبرا کو گردن سے پکڑ لیا اور ڈمی کے پلاسٹک کے ہاتھ سے بندھے ہوئے مرغی کے ٹکڑے پر کاٹنے کی ترغیب دی۔ جب کوبرا نے اس مرغی کے ٹکڑے کو کاٹا تو کاٹنے کے درمیان فاصلہ اتنا ہی تھا جتنا کہ اتھرا کے بازو پر تھا۔
جج ایم منوج نے اس قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ شیطانی اور خوفناک آکسورائڈ کا معاملہ ہے۔‘ جج منوج نے سورج کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے کہا کہ ’اس نے اتھرا کو مارنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اسے حادثاتی طور پر کوبرا کے کاٹنے سے موت کا رنگ دینے کی کوشش کی۔‘
تفتیش کے مطابق ’چار ماہ میں یہ سورج کی اپنی بیوی کو کوبرا سے مارنے کی تیسری کوشش تھی یعنی اس سے قبل دو بار پہلے بھی اتھرا کو کوبرا کاٹ چکا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہSreedhar
سورج ایک مقامی بینک میں کولیکشن ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ وہ گذشتہ برس فروری میں سانپ پکڑنے والے سریش سے ملے اور رسل کا وائپر دس ہزار روپے میں خریدا۔ وہ پلاسٹک کنٹینر میں سانپ کو لے کر آئے تھے اور اسے ایک شیڈ میں لکڑی کے ڈھیر کے نیچے چھپا دیا۔
اس کے بعد 27 فروری کو سورج نے اپنے گھر کی پہلی منزل میں اس سانپ کو چھوڑ دیا اور اپنی بیوی کو بالائی منزل سے موبائل فون لانے کو کہا۔
اتھرا کی ماں نے پولیس کو بتایا کہ اتھرا نے ماربل کے فرش پر وائپر کو لپٹا ہوا دیکھا تو خطرے سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق اس کے بعد سورج آیا، لاٹھی سے سانپ اٹھایا اور گھر سے باہر نکل گیا۔
اس نے اسے واپس کنٹینر میں ڈال دیا۔ دو مارچ کی رات کو سورج نے دوبارہ یہی کوشش کی۔ اس نے اپنی بیوی کو میٹھے کے ساتھ سکون دینے والی ادویات دیں اور وائپر کو اس وقت کمرے میں چھوڑ دیا جب اتھرا سو رہی تھیں۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اس بار سانپ نے حملہ کیا۔ اتھرا درد کی وجہ سے چلاتے ہوئے جاگ گئیں۔ سانپ نے ان کی ٹانگ پر کاٹا اور اس کے بعد سورج نے کھڑکی سے سانپ کو باہر پھینکا۔
اتھرا کے والد وجیے سینن ودیادھرن نے کہا کہ کیرالہ میں سانپ کے کاٹنے کے کیسز عام ہیں۔ اس لیے ہمیں یہاں کسی غلط کام کا شبہ نہیں تھا۔ (انڈیا میں ہر سال تقریباً ساٹھ ہزار لوگ سانپ کے کاٹنے سے مر جاتے ہیں۔)
اس رات کو دو گھنٹے سے زیادہ وقت لگا کہ ایک ایسا ہسپتال ڈھونڈیں جو کہ انتہائی نگہداشت کے علاج کے لیے اہم ہو۔ اتھرا سوجن اور نکسیر میں مبتلا تھیں۔ تھری سکن ٹرانسپلانٹ سرجری کے بعد وہ آرام کی غرض سے کولام میں اپنے والدین کے سرسبز گاؤں میں واقع دو منزلہ گھر میں واپس آگئیں۔

،تصویر کا ذریعہSREEDHAR LAL
سورج اپنے ایک بیٹے اور والدین کے ساتھ پٹھانمتھیٹا میں اپنے گھر پر رہا۔ لیکن وہ پھر قتل کی سازش دوبارہ کر رہا تھا۔
تفتیش کاروں میں سے ایک انوپ کرشنا نے کہا کہ جب اس کی بیوی ہسپتال میں تھی تو سورج سانپوں کو سنبھالنے اور سانپ کے زہر کے بارے میں سیکھنے کے لیے انٹرنیٹ پر سرچ کر رہا تھا۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ سورج 2019 میں اپنے بیٹے دھرو کی پیدائش کے وقت سے اتھرا کے قتل کی سازش کر رہا تھا۔ اس کی انٹرنیٹ کی تاریخ سے معلوم ہوا کہ اس نے زہریلے سانپوں کی تلاش کرتا رہا اور یوٹیوب پر سانپ کی ویڈیو دیکھی، جس میں ایک مقامی طور پر معروف سانپ ہینڈلر کا چینل بھی شامل ہے۔
سانپ سنبھالنے والے کی ایک مشہور ویڈیو خطرناک اور جارحانہ رسل وائپر کے بارے میں ہے۔
سورج نے مبینہ طور پر اپنے دوستوں کو بتایا کہ اس کی بیوی کو خواب میں بھی زہریلے سانپ ان کا تعاقب کرتے تھے، یوں سانپ کے ڈسنے سے مرنا اس کا مقدر بن گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
تفتیش کاروں کے مطابق حقیقت میں سورج اپنی بیوی کو قتل کرنے، اس کے پیسے چوری کرنے اور دوسری عورت سے شادی کرنے کا ارادہ کیے ہوئے تھا۔
اس کیس کے سرکردہ تفتیشی پولیس افسر اپوکتن اشوک نے کہا کہ سورج نے بڑی احتیاط سے منصوبہ بنایا اور اپنی کوشش میں تیسری بار کامیاب ہو گیا۔
پبلک پراسیکیوٹر موہن راج گوپال کرشنن نے اس کیس کو انڈیا میں پولیس تحقیقات میں ایک سنگ میل کی حیثیت قرار دیا۔ جب پراسیکیوٹر فیصلہ کن طور پر یہ ثابت کر سکتے تھے کہ جانور کو قتل کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔
سورج کو اس قتل میں دو بار سزائے موت سنائی گئی ہے۔ مورہن راج کے مطابق سزا کے بعد بھی سورج نے اپنے کیے پر کسی قسم کے پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا ہے۔









