شادی کے 60 برس بعد جہیز کی واپسی کا مطالبہ

- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
'جج صاحب نے کہا لڑکا کہاں ہے؟ جب میرا 100 سالہ بھائی چھڑی کے سہارے چل کر عدالت میں پیش ہوا تو جج صاحب سمیت باقی لوگوں کو بھی ہنسی آ گئی،کہ کہاں لڑکا اور کہاں یہ بابا۔'
یہ کہنا ہے تھا نعمت علی کا جن کے بھائی اسماعیل کے خلاف لاہور کی فیملی کورٹ میں ان کی اہلیہ نے شادی کے تقریباً 60 برس بعد جہیز کی واپسی کی درخواست دی ہے۔
صوبہ پنجاب کے علاقے پتوکی کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے اسماعیل کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی عمر 100 برس ہے جبکہ ان کی اہلیہ تاج بی بی کی عمر 95 برس بتائی گئی ہے اور ان کی شادی 1960 میں ہوئی تھی۔
اس انوکھے دعوے کی سماعت منگل کو ہوئی تو اسماعیل اپنے ایک 85 سالہ گواہ یحییٰ کو لے کر عدالت میں پیش ہوئے اور سماعت کے بعد عدالت نے فریقین کو اگلی پیشی پر شہادتیں اور ثبوت پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جہیز کی واپسی کا مطالبہ
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسماعیل کے وکیل وسیم راجپوت اور شہباز علی نے بتایا کہ ہمارے موکل کے خلاف تاج بی بی نے کی جانب سے عدالت میں ایک فہرست جمع کروائی گئی ہے جس میں انھوں نے گھریلو استعمال کی چیزیں جیسا کہ فریج، گیس ہیٹر، جوسر، فرنیچر، واشنگ مشین، دو تولہ سونا سمیت دیگر اشیا کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے اور تمام سامان آج کے دور کے حساب سے تقریباً 10 لاکھ کی مالیت کا ہے۔
اسماعیل کے وکیل کے مطابق جن اشیا کا تاج بی بی نے مطالبہ کیا ہے ان کا تصور 1960 میں کیا بھی نہیں جاتا تھا۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ عدالت میں جرح کے دوران تاج بی بی سوال کیا گیا کہ آپ شادی کے بعد کھانا بناتی تھیں اور کیا گیس آتی تھی، جس پر انھوں نے جواب دیا کہ 'پتر اس دور میں تو ہم دیے جلاتے تھے، گیس کہاں سے آئی۔
تاج بی بی کے وکیل کی جانب سے عدالت میں جو فہرست جمع کروائی گئی ہے۔ اس کے مطابق جہیز میں 107 ملبوسات اور دیگر کپڑے تھے جن کی قیمت اس وقت تقریباً 28 ہزار روپے تھی جبکہ فرنیچر، سونا اور گھر کی دیگر اشیا شامل کر کے ان کی قیمت تقریباً ایک لاکھ دس ہزار روپے بنتی ہے۔
ان کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اسماعیل تاج بی بی کو ان کے جہیز کی مالیت کی رقم ادا کریں۔ انھوں نے اسماعیل کی مالی حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وہ ایک زمیندار ہیں اور اسے زرعی زمین سے آٹھ لاکھ روپے آمدن ہوتی ہے جبکہ انھوں نے ایک ڈیری فارم بھی بنا رکھا ہے جس سے ایک لاکھ روپے آمدنی آتی ہے اس لیے اسماعیل ان کی مؤکلہ کو باآسانی ایک لاکھ روپے ادا کر سکتا ہے۔
اس کے ساتھ تاج بی بی کے وکیل کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ اسماعیل ان کی مؤکلہ کو دو لاکھ روپے طبی اخراجات بھی ادا کرے۔
’گیس،بجلی ہی نہیں تھی تو چیزیں کہاں سے آئیں‘
اسماعیل کے بھائی نعمت علی نے بھی کہا کہ ’ہمارے علاقے میں گیس اور بجلی چند سال پہلے آئی ہے تو یہ کیسے گیس اور بجلی سے چلنے والی چیزیں 60 سال پہلے جہیز میں لے آئیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں اور میرا رشتے دار یحییٰ ان دونوں کی شادی کے گواہ بنے تھے۔ تاج بی بی میری پھوپی کی بیٹی ہے اور وہ اپنے ساتھ ایک چیز بھی جہیز میں نہیں لائی تھی۔ ‘
عدالت میں پیش ہونے والے گواہ یحییٰ نے بھی یہی بیان دیا کہ ان کی موجودگی میں ہی اسماعیل اور تاج بی بی کا نکاح ہوا تھا تاہم جہیز میں کوئی چیز نہیں دی گئی تھی۔
’تاج جہیز میں ایک پیالہ تک نہیں لائی تھی‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بابا اسماعیل کا کہنا تھا کہ وہ تاج بی بی کو 35 سال قبل طلاق دے چکے ہیں۔
’میری شادی تاج بی بی سے ایوب خان کی حکومت آنے کے سال بعد ہوئی تھی اور اس وقت میری سابقہ اہلیہ جہیز میں ایک پیالہ تک نہیں لائی تھی جبکہ میرے والد نے باراتیوں کو گڑ والے چاول بنوا کر دیے۔ ان لوگوں نے تو وہ چاول بھی پتیلیوں میں ڈال کر دیے تھے۔ ہم نے شادی کے چاول کھائے، نکاح ہوا اور ہم رخصتی کروا کر اسے لے گئے۔
’اس وقت انھوں نے کوئی چیز ہمیں نہیں دی تھی بلکہ ہم نے شادی کے موقع پر تاج کو کپڑے بھی دیے تھے ۔ اب وہ ایسی چیزیں مانگ رہی جو اس زمانے میں ملتی بھی نہیں تھیں۔ تاج بی بی کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔‘

’گھر والوں نے شادی پر ضرورت کی ہر چیز دی تھی‘
ادھر تاج بی بی کا دعویٰ ہے کہ اسماعیل نے انھیں ابھی طلاق نہیں دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میرے شوہر نے بچے نہ ہونے کی وجہ سے دوسری شادی کی جبکہ میں اس کی دوسری شادی کے خلاف تھی کیونکہ اس نے اور اس کے گھر والوں نے منتیں کر کے میرا رشتہ مانگا تھا۔ شادی کے بعد میں نے اپنے شوہر کا ہر قدم پر ساتھ دیا اور اس کے ساتھ مل کر محنت مزدوری بھی کی۔ لوگ ہماری جوڑی کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ ہیر رانجھا کی جوڑی ہے، اتنا پیار تھا ہمارے درمیان۔
’جب اسماعیل دوسری شادی کرنا چاہتا تھا تو میں نے اس شرط پر شادی کی اجازت دی کہ وہ مجھے حج کروائے گا، مہینے کا خرچہ دے گا اور ساتھ ہی ساتھ اور گھر کا آدھا حصہ جو ڈھائی مرلہ ہے وہ بھی میرے نام کرے گا۔ ان سب شرائط کو ماننے کے بعد ہی میں دوسری شادی کرنے دی جبکہ ہمارا معاہدہ سٹیمپ پیپر پر ہوا تھا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اسماعیل کی دوسری بیوی مجھ پر تشدد کرتی تھی اور اسماعیل نے بھی شادی کے بعد مجھے خرچہ دینا بند کر دیا اور پھر کچھ عرصے بعد گھر سے بھی نکال دیا۔ ’
میری ایک بھینس بھی ان کے پاس ہے جس کا دودھ بیچ کر میں گزارا کرتی تھی۔ گھر سے نکالے جانے کے بعد میں اپنے بھائی کے پاس آگئی لیکن میرے جہیز کا سامان اسی گھر میں رہ گیا جہاں سے میرے شوہر نے مجھے نکالا تھا۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ میرے گھر والوں نے مجھے شادی کے وقت ضرورت کی ہر چیز دی تھی جو میرے پاس نہیں ہے۔‘
تاج بی بی اپنے بھتیجے کے گھر کے ایک کمرے میں میں چھوٹی سی دکان کھول رکھی ہے۔ جہاں وہ روز مرہ کا سامان بیچتی ہیں اور اپنا گزر بسر کرتی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’میرا گزارہ کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے اس لیے میں اب چاہتی ہوں کہ کچھ اور نہیں تو کم از کم میرا شوہر وہ ڈھائی مرلے جگہ ہی مجھے دے دے تاکہ میں اسے کرایے پر چڑھا کر اپنی زندگی سکون سے گزار سکوں۔‘
’میرا بوڑھا بھائی اس عمر میں ذلیل ہو رہا ہے‘
اسماعیل کے بھائی نعمت علی کا کہنا ہے کہ تاج بی بی سے ان کے بھائی کی شادی پانچ برس ہی چلی تھی۔
’اس نے اس کیس سے پہلے بھی پتوکی میں ایک مقدمہ درج کروایا تھا جس میں انھوں نے الزام لگایا کہ اسماعیل نے ان کی ڈھائی مرلے جگہ پر قبضہ کر رکھا ہے جبکہ وہ زمین اپنے بھتیجے کو دینا چاہتی ہیں تاہم اس مقدمے کو پولیس نے چھان بین کے بعد خارج کر دیا تھا۔
نعمت علی نے الزام لگایا کہ تاج بی بی ان کے بھائی کو کافی عرصے سے تنگ کر رہی ہیں کبھی وہ اپنے کپڑے پھاڑ دیتی ہیں کبھی کوئی اور لڑائی کرتی ہیں۔ جب ان سے کچھ نہیں ہوا تو اب تاج بی بی نے لاہور میں جہیز کا کیس کر دیا ہے۔ ’میرا بھائی تو اس عمر میں ذلیل ہی ہو کر رہ گیا ہے۔‘












