خواتین کی داد رسی کا پہلا امتحان

،تصویر کا ذریعہVAWC
- مصنف, عمردراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
حال ہی میں ملتان میں خواتین کے لیے دادرسی مرکز کے حقیقی امتحان کا آغاز دو روز قبل ہوا جب اس میں موجود خواتین کے تھانے میں پہلی رپورٹ یعنی ایف آئی آر درج کی گئی۔
اس رپورٹ میں چند افراد کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
اس مرکز میں خواتین عملہ خواتین کی شکایات سننے سے لے کر فرسٹ ایڈ، طبی معائنے، نفسیاتی کونسلنگ، پولیس رپورٹ اور تفتیش تک سب کچھ ایک ہی چھت کے تلے فراہم کرتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے درخواست گزار خاتون نے نام اور ان کے کیس کے حوالے سے تفصیلات ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو ملزمان کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں اور وہ اپنی اور اپنے بچوں کی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہیں۔
تاہم انھوں نے دادرسی کے مرکز کے بارے میں سوال پر بتایا کہ انھیں وہاں مکمل توجہ ملی اور وہ تمام تر سہولیات سے مطمئن ہیں۔
’یہی مجھے اپنا سہارا لگ رہا ہے۔ جب تک ملزمان پکڑے نہیں جاتے میں اس کیس پر کچھ نہیں کہنا چاہتی کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ (ملزمان) کچھ کر نہ دیں۔‘
درخواست گزار خاتون کو پناہ اور اپنی حفاظت کی ضمانت درکار ہے اور ملتان میں قائم کیے جانے والے اس خواتین کے داد رسی کے مرکز کا مقصد وہی فراہم کرنا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ یہ مرکز ان کی مدد کیسے کر پائے گا؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مکمل طور پر خواتین کی طرف سے چلائے جانے والے اس مرکز میں قائم ویمن پولیس اسٹیشن کی انچارج نرمین نے بی بی سی کو بتایا کہ درخواست گزار خاتون واقعے کے بعد سے اپنے رشتہ داورں کے گھر پر قیام پذیر ہیں۔
مرکز آمد پر ان کی شکایت سننے کے بعد گواہان کی موجودگی میں ان کی ایف آئی آر درج کی گئی جس پر کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
تاہم پنجاب کے سٹریٹیجک ریفارم یونٹ کے ڈائریکٹر جنرل سلمان صوفی نے بی بی سی کو بتایا کہ مرکز کے اندر تو نہیں مگر ایسی جگہوں کا بندوبست کیا گیا ہے جہاں ایسی خواتین جو اپنی جان کو خطرہ محسوس کریں انھیں پناہ فراہم کی جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں خصوصاٌ درخواست گزار خاتون ویمن پروٹیکشن ایکٹ کے تحت پروٹیکشن آرڈر بھی لے سکتی ہیں۔ ’اس کے تحت فیملی کورٹ نے سات دن میں کیس کی سنوائی مکمل کرنی ہوتی ہے جس کی بعد 30 سے 60 دن کے اندر انھوں نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ تب تک وہ (خاتون) حفاظت میں رہ سکتی ہیں۔‘
اگر فیصلہ خاتون کے حق میں آ جاتا ہے تو ان کو ایک پروٹیکشن آرڈر بھی دے دیا جائے گا جس کے مطابق وہ افراد جن کے خلاف مقدمہ ہے خاتون سے ایک مخصوص فاصلے پر رہیں گے جس کی خلاف ورزی کی صورت میں چھ ماہ سزا اور جرمانہ عائد ہو گا۔
سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ درخواست گزار خاتون کے کیس کی تفتیش وغیرہ مرکز ہی میں کی جائے گی۔
’اب جب وہ آئی ہیں تو ان کو کسی اور ڈیپارٹمنٹ میں نہیں جانا پڑا۔ ان کے طبی معائنے کا بندوبست کروایا گیا جس کے بعد وہاں موجود خاتون پراسیکیوٹر نے پولیس کی معاونت کی کہ ان کے الزامات اور شواہد کی روشنی میں ایف آئی آر میں کون سی دفعات لگنی چاہییں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل اختیار کیے جانے والے طریقہ کار میں ایک بڑی خام یہ تھی کہ ایف آئی آر پہلے درج کر لی جاتی تھی تو اس میں غلط شقیں بھی لگ جاتی تھیں۔
مگر اس مرکز پر کیونکہ پہلے دن ہی سے پراسیکیوٹر کی شمولیت ہے، سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ ایسی غلطی کے امکانات نہیں۔ کیس کی تفتیش مرکز پر مامور خاتون پولیس آفیسر کریں گی اور جس علاقے میں واقعہ ہوا ہے وہاں کی پولیس شواہد اکٹھے کرنے میں ان کی مدد کرے گی۔ مرکز پر مامور خاتون پراسیکیوٹر عدالت میں کیس کی پیروی کریں گی۔
انھوں نے مزید وضاحت کی کہ اس مرکز کا مقصد صرف تشدد کے خلاف خواتین کی دادرسی نہیں۔ خواتین کے اس مرکز سے رابطہ کرنے سے کسی قسم کی شرائط یا ممانعت مشروط نہیں ہے۔ اگر خواتین کسی مسئلے پر صرف قانونی مشورہ لینا چاہیں، طبی معائنہ کروانا چاہیں یا مصالحت کروانا چاہتی ہوں تو بھی وہ یہاں رابطہ کر سکتی ہیں۔
سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ اس مرکز کا قیام ہی اس طرز پر کیا گیا ہے کہ یہ خواتین کے لیے پناہ گاہ کا کام کرے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ مرکز کے قیام کے ایک ہفتے کے اندر ہی 18 سے زائد کیس آ چکے ہیں تاہم ان میں سے ایک کی باقاعدہ رپورٹ درج ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ دو خواتین آئی تھیں جن کے گھر میں جھگڑے ہوئے تھے، ان کی مصالحت کروائی گئی جس کے بعد اب وہ واپس اپنے گھروں کو جانا چاہتی ہیں۔








