پاکستان میں سیلاب: قدرتی آفت کے دوران کم عمر بچیوں کی شادیوں کی وجوہات کیا ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شبینہ فراز
- عہدہ, صحافی
’کیوں، کیا سیلاب میں لڑکی کی شادی نہیں ہو سکتی؟ اِس سیلاب کی مصیبت میں ہمیں بیٹی کے رشتے کے عوض اگر 50 ہزار روپے مل رہے ہیں تو تم میڈیا والوں کو کیا پریشانی ہے؟‘
قادر بخش (فرضی نام) جب یہ بات کر رہے تھے تو اُن کی آواز میں غصہ واضح تھا کیونکہ ان کے مطابق یہ بات کر کے ہم اُن کے ذاتی معاملات میں مداخلت کر رہے تھے۔
وہ اپنی بیٹی کی شادی کے موضوع پر ہم سے بات کرنے کے لیے پہلے ہی بمشکل آمادہ ہوئے تھے۔
’ہمارا گھر، سامان سب پانی میں بہہ گیا ہے۔ کوئی ہماری مدد نہیں کر رہا ،حکومت بھی نہیں کر رہی، ایک کلو آٹا تک نہیں ملا۔ پانی اُترے گا اور ہم واپس گاﺅں جائیں گے تو وہاں خالی ہاتھ کیا کریں گے؟ یہ پیسے ہمارے گھر بنانے کے کام آئیں گے۔‘
انھوں نے اسی غصیلے لہجے میں اپنی بات جاری رکھی۔
ضلع دادو کی تحصیل میھڑ کے ایک گاﺅں کے رہائشی قادر بخش سے ہمارا یہ مکالمہ فون پر ہوا تھا۔ 50 سالہ قادر بخش کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ اُن کے مطابق ان کی بڑی بیٹی کی عمر لگ بھگ بارہ سال جبکہ چھوٹی کی تقریباً دس سال ہے۔
انھوں نے سیلاب میں بے گھر ہونے کے بعد اپنی 12 سالہ بیٹی کا رشتہ اپنے رشتے داروں میں طے کر دیا ہے۔ قادر بخش نے یہ رشتہ 50 ہزارکے عوض طے کیا ہے جس میں سے، اُن کے مطابق، انھیں 25 ہزار رخصتی سے پہلے مل چکے ہیں جبکہ بقیہ رقم شادی کے دن دینے کا وعدہ ہوا ہے۔
قادر کے مطابق ان کی بیٹی کی شادی ایک ماہ بعد ہونا قرار پائی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اُن کا کہنا ہے کہ وہ اپنی دوسری بیٹی کے لیے بھی رشتہ دیکھ رہے ہیں تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیل فراہم نہیں کی اور یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ یہ اُن کا ذاتی معاملہ ہے۔
پاکستان اس وقت طویل مون سون میں پہلے شدید بارشوں اور اب بپھرتے ندی نالوں اور دریاﺅں میں طغیانی کے باعث بدترین آفت کا سامنا کر رہا ہے۔ اس وقت صوبہ سندھ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں 23 اضلاع آفت زدہ قرار دیے جا چکے ہیں جبکہ این ڈی ایم اے کے مطابق ایک کروڑ 45 لاکھ سے زیادہ آبادی جزوی یا مکمل طور پر متاثر ہے۔
ان حالات میں خواتین اور خصوصاً نوعمر لڑکیوں کے لیے مسائل بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں بہت سے متاثرہ علاقوں سے اب یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ لوگ اپنی کمسن بچیوں کی شادیاں اور رشتے طے کر رہے ہیں۔
جب قادر بخش کو بتایا گیا کہ 12 برس کی بچی کی شادی قانوناً جرم ہے تو وہ بھڑک اٹھے اور اُن کا کہنا تھا کہ ’پہلے حکومت سے بولو کہ ہماری مدد کرے، پھر ہم کو سمجھانا کہ کیا غلط ہے اور کیا ٹھیک ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم چھ افراد کھانا کہاں سے کھائیں گے، میری بیوی بیمار ہے اس کے لیے دوا کا بندوبست کون کرے گا۔ پانی پتا نہیں کب اترے گا اور ہم کب واپس جائیں گے، تب تک ہمارا گزارا کیسے ہو گا؟ کون ہمارے مسئلے حل کرے گا؟‘
ظاہر ہے کہ قادر بخش کے اِن سوالوں کا جواب ہمارے پاس نہیں تھا۔


غیر سرکاری تنظیم ’زندگی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن‘ سے وابستہ مہتاب سندھو آج کل سندھ کے ضلع دادو اور اس کے نواحی علاقوں میں سیلاب زدگان کے لیے ریلیف کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
اُن کا دعویٰ ہے کہ ایسے فیصلے کرنے والوں میں قادر بخش اکیلے نہیں بلکہ ان کے گاﺅں میں اب تک مختلف خاندانوں کی دو درجن بچیوں کی شادیاں طے کر دی گئی ہیں اور اُن میں سے کوئی بچی اٹھارہ سال کی نہیں تاہم بی بی سی مہتاب سندھو کے اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مہتاب کا دعویٰ ہے کہ بچیوں کی جن مردوں سے شادیاں طے ہوئی ہیں ان میں سے کچھ عمر رسیدہ مرد بھی ہیں۔ انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ تمام رشتے پیسوں کے عوض طے کیے گئے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیلاب سے بے گھر ہونے والے افراد کو دوبارہ آباد کاری اور کچے گھر تعمیر کرنے کے لیے رقم درکار ہے۔
ایسی ہی ایک 16 سالہ بچی کی والدہ نذیراں سے بذریعہ فون بات ہوئی تو انھوں نے تسلیم کیا کہ ’ہاں ہم رشتے کے بدلے پیسے لیتے ہیں۔ ہم پر قرضہ بھی ہے اور سیلاب میں بے آسرا بھی ہیں تو اور کیا کریں؟‘
جب نذیراں کو ان کی بیٹی کی کم عمری کا احساس دلایا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ ’اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘
یاد رہے کہ گذشتہ دنوں حیدرآباد کے ایک کیمپ میں بھی دو شادیاں انجام پائی ہیں۔ رشتہ کرنے والوں نے بتایا کہ لڑکوں کی عمریں 25 اور لڑکیاں اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کی ہیں تاہم اس علاقے میں کام کرنے والے چند سماجی کارکنوں اور ریلیف ورکرز اس حوالے سے غیریقینی کا شکار ہیں۔
کم عمر بچیوں کی شادی کی روک تھام کے حوالے سے یونیسیف کا کہنا ہے پاکستان میں ماسوائے سندھ کے 16 سال کی بچی کی شادی قانونا جائز ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کم عمر بچیوں کی شادی کے حوالے سے دنیا بھر میں چھٹے نمبر پر موجود ہے اور ایسی بچیوں کی تعداد لگ بھگ 19 لاکھ کے قریب ہے۔
یونیسیف کے مطابق پاکستان میں 21 فیصد سے زائد بچیوں کی 18 سال کی عمر سے پہلے شادی ہو جاتی ہے اور تین فیصد اپنی 15ویں سالگرہ سُسرال میں مناتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سیلاب زدہ علاقوں میں کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر سیلاب متاثرین میں کم عمر بچیوں کی شادی کی روک تھام نہیں کی گئی تو یقیناً پاکستان اس فہرست میں اور اوپر آ جائے گا اور اس حوالے سے بہتری کی اب تک کی گئی کوششوں پر پانی پھر جائے گا۔
قدرتی آفات میں لڑکیوں کی شادی کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق آفات کے دوران خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں کم از کم تیس سے چالیس فیصد اضافہ ہو جاتا ہے اور بعض ماہرین کے نزدیک والدین بچیوں کو ہراسانی سے بچانے کے لیے بھی جلد از جلد شادی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
قدرتی آفات میں کم عمری کی شادیوں کے حوالے سے معروف قانون دان جبران ناصر کا کہنا تھا کہ ’ایسا ہوتا ہے۔ ہم نے 2005 کے زلزلے میں ایسے بہت سے کیسز دیکھے تھے۔ نہ صرف چھوٹی عمر کی شادیاں بلکہ بچیوں کا اغوا بھی رپورٹ ہوا تھا۔‘
جبران ناصر کا کہنا ہے کہ کم عمری کی شادی کے لیے قوانین موجود ہیں جن میں سہولت کاروں مثلاً قاضی، نکاح کے گواہان اور والدین تک کی سزا مقرر ہے۔
انھوں نے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی، پولیس اور علاقہ مجسٹریٹ تینوں کی ذمے داری ہے کہ ایسی شادیوں کو روکیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی بچی کی شادی صرف اس لیے کر رہا ہے کہ اس کے پاس خرچ کے پیسے نہیں تو اُن مجبور اور غریب والدین سے زیادہ متعلقہ حکومت بھی اس کی ذمے دار ہے۔ یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل حل کرے۔ اگر اس وقت کوئی خود مختار بلدیاتی نظام موجود ہوتا تو یقیناً مسائل کچھ کم ہوتے۔‘
سیلاب متاثرین میں کم عمر بچیوں کی شادی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ اب تک ان کے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں پہنچی۔
حکومت ہر طرح سے لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھ رہی ہے۔ کھانا، پانی، راشن اور ٹینٹ مہیا کر رہی ہے اور ہمارا یہ بھی وعدہ ہے کہ حکومت ہر ایک کو گھر بنا کر دے گی۔ پھر لوگ کیوں پریشان ہیں۔‘
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ کم عمر بچیوں کی شادی کی روک تھام کے حوالے سے قوانین موجود ہیں۔ ’اگر ہمارے پاس کوئی اطلاع آتی ہے تو یقنینا قانون کے تحت انھیں روکا جائے گا۔‘
کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر قائم ’نیشنل چیمپیئن کاکس آف پارلیمنٹ‘ کی رُکن سینیٹر کرشنا کماری کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ایسی شادیوں کو ہر صورت روکنا ہوگا، یہ قانونی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ ایسے کسی بھی واقعے پر قانون کی مدد حاصل کریں۔‘
انڈس ریسورس سینٹر نامی غیرسرکاری تنظیم نے جامشورو کے قریب دس ٹینٹ پر مشتمل ایک چھوٹا سا ریلیف کیمپ لگایا ہے جس میں دس خاندان آباد ہیں۔
اس تنظیم کی ڈسٹرکٹ مینیجر فرزانہ بوریرو کا کہنا ہے ’شادی کوئی کھیل تماشا یا تفریح نہیں، یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ان حالات میں شادی شدہ جوڑا کیسے اپنی نئی زندگی کی شروعات کر سکتا ہے۔ پھر یہ لڑکیاں اگر اس کم عمری میں حاملہ ہو جائیں تو دیکھ بھال کیسے ہو گی؟ ڈاکٹرز کہاں سے آئیں گی، ان ماﺅں اور ان کے ہونے والے بچوں کی زندگی کا رسک کیوں لیا جا رہا ہے۔‘
سندھ میں قانون کم عمری کی شادی کی مخالفت تو کرتا ہے مگر سیلاب میں ڈوبے ان غریبوں تک حکومت کی طرح شاید قانون بھی نہ پہنچ سکے۔













