حفاظتی بند کی تعمیر سے چارسدہ اور نوشہرہ سیلاب سے کتنے محفوظ رہے؟

خیبر پختونخوا میں سیلاب
    • مصنف, اسلام گل آفریدی
    • عہدہ, صحافی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں دریائے کابل سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر جاوید علی صبح سویرے اپنی کریانے کی دکان میں اپنے بھائی کے ساتھ گاہگ کو سودا دینے میں مصروف ہیں تاہم اُن سے چند قدم کے فاصلے پر گاؤں کے دوسرے لوگ گھروں اور راستوں سے حالیہ سیلاب کی لائی مٹی اور گند صاف کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بارہ سال پہلے جب سیلاب آیا تھا تو اُس میں گھر، دکان، مویشی سب کچھ پانی میں بہہ گیا تھا جبکہ یہاں سے پانچ کلومیٹر دور علاقے بھی شدید متاثر ہوئے تھے تاہم رواں سال دریا کے کنارے حفاظتی بند کی تعمیر کے وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ محفوظ رہے۔

خیبر پختونخوا میں آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے مطابق ہر سال ملک میں مون سون بارشوں کا سلسلہ 15 جون سے 15 ستمبر تک جاری رہتا ہے۔ ادارے نے 26 اگست کو تمام اضلاع کو سیلاب کے پیشگی خطرے کے حوالے سے مراسلہ جاری کیا تھا جبکہ 28 اگست کو کئی علاقے سیلابی ریلوں کی لپیٹ میں آئے۔

چارسدہ کے علاقے سردریاب میں سیلاب کے کئی دن گزر جانے کے باوجود بھی مکانات، زرعی زمینوں اور تجارتی مراکز میں پانی موجود ہے جن کو نکالنے کے لیے گاؤں کے نوجوانوں کو جمع کر کے عارضی نالہ کھودا جا رہا ہے۔

70 برس کے ممتاز اپنے علاقے ممتاز آباد کی فلاحی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ دریائے کابل میں حالیہ سیلاب میں پانی کا بہاؤ پہلے کے نسبت زیادہ تیز تھا لیکن ضلع چارسدہ کے علاقے حفاظتی بند کی وجہ سے قدرے محفوظ رہے تاہم اُن کے بقول حفاظتی بند کی لمبائی کم ہونے اور جگہ جگہ شگاف پیدا ہونے کی وجہ سے سیلابی پانی گاؤں میں داخل ہوا۔

اُنھوں نے کہا کہ کئی سال پہلے جب حفاظتی بند تعمیر ہو رہے تھے تو محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام کو بتایا گیا تھا کہ دریائے کابل پر گاؤں کے حدود میں داخل ہونے سے کئی میٹر پہلے حفاظتی بند تعمیر کیا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور حالیہ سیلاب میں پانی گاؤں میں داخل ہوا۔

سیلاب کی وجہ سے ممتاز آباد میں کوئی مکان مکمل طور تباہ نہیں ہوا البتہ کھڑی فیصلوں کو نقصان پہنچا۔

یاد رہے کہ ماضی میں سیلاب کی وجہ سے قریب کے کئی گاؤں ملیامیٹ ہو گئے تھے اور دوبارہ آبادکاری میں کئی برس لگے۔

خیبر پختونخوا میں سیلاب

سیلاب کے نقصانات کم کرنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے تین اضلاع چارسدہ، نوشہرہ اور پشاور میں دریائے کابل اور سوات پر حفاظتی بند کی تعمیر کے لیے سنہ 2014 میں منصوبہ بندی شروع کر دی۔

محکمہ آبپاشی میں پشاور کنال کے ایگزیکٹو انجینیئر شیرین خان نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں دریاؤں کے کنارے 105 کلومیٹر کی حفاظتی دیوار کی تعمیر کا کام سنہ 2015 میں شروع ہوا جس کے لیے 13 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ منصوبے پر زیادہ کام مکمل ہو چکا ہے لیکن کئی مقامات پر کام جاری تھا کہ سیلاب آیا۔

اُن کاکہنا ہے کہ لوگوں سے رضاکارانہ زمین کے حصول اور مالی مسائل کی بنا پر کام تاخیر کا شکار ہوا تاہم سیلاب کے بعد صوبائی حکومت کے جانب سے منصوبے پر کام تیز کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اب تک اس منصوبے پر نو ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں اور جون سنہ 2024 تک منصوبہ مکمل کیا جائے گا۔

صوبے میں سیلابی صورتحال میں دیگر اضلاع کی نسبت چارسدہ اور نوشہرہ میں نقصان کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ چارسدہ دریائے کابل اور دریائے سوات کے درمیان واقع ہے جبکہ سردریاب کے مقام پر دونوں دریا مل کر نوشہرہ کے طرف بڑھتے ہیں جہاں پر پانی کی مقدار میں مزید اضافہ ہوجاتاہے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق 28 اگست کو نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں سہ پہر پانچ بجے تین لاکھ 40 ہزار کیوسک پانی کا ریلا ریکارڈ کیا گیا جو کہ رات آٹھ بجے تک یہ سطح برقرار رہا جو کہ انتہائی خطرناک صورتحال تھی۔

محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا کے مطابق سنہ 2010 کے سیلاب میں نوشہرہ کے مقام پر چار لاکھ پچاس ہزار کیوسک پانی کا ریلا ریکاڈ کیاگیا تاہم اُس وقت پانی پھیل گیا تھا اور حفاظتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا تھا۔

خیبر پختونخوا میں سیلاب

نوشہرہ کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق رواں سال سیلاب کی وجہ سے جی ٹی روڈ کے قریب علاقے کم متاثر ہوئے لیکن دریا کے اُس پار علاقے زیادہ متاثر ہوئے جن میں امان گڑھ، نوشہرہ کلاں، گجربستی، خٹ کلے، پیر سباق، کینٹ، مصری بانڈہ، وتڑ، مرہٹی، اکوڑہ خٹک اور جہانگیرہ شامل ہیں۔

نوشہر کلاں مانہ خیل کے رہائشی سہیل نے بتایاکہ 27 اگست کو صبح آٹھ بجے دریا کے کنارے بنایا گیا خفاظتی بند ٹوٹ گیا تھا، جس سے پانی گاؤں میں داخل ہوا۔

اُن کے بقول یہ سب کچھ سیلاب کے پہلے ریلے کے ساتھ ہوا جبکہ بعد میں بڑے سیلابی ریلے کی وجہ سے دیوار کو مزید نقصان پہنچا اور پورا علاقہ پانی میں ڈوب گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ سنہ 2010 میں بھی سیلاب کی وجہ سے پورا علاقہ متاثر ہوا تھا اور کوئی دوبارہ علاقے میں گھر تعمیر کے لیے تیار نہیں تھا البتہ جب حکومت نے دریا کے کنارے حفاظتی دیوار تعمیر کرائی تو لوگوں کو یقین ہوا کہ مستقبل میں وہ سیلاب سے محفوظ ہوں گے۔

انجینیئر شیرین خان نے نوشہرہ میں حفاظتی بند ٹوٹنے کے حوالے سے کہا کہ وہاں گوالوں نے مویشوں کو دریا لے جانے کے لیے راستے بنائے تھے اور بند کی تعمیر کے دوران اُن کے مرضی کے مطابق راستے چھوڑ دیے گئے تھے جبکہ پانی کا دباؤ بڑھنے سے دیوار ٹوٹ گئی۔

اُنھوں کہا کہ محب بانڈہ کے ایک رہائشی نے بند کی تعمیر کے لیے بغیر معاوضہ حصول کے لئے عدالت میں کیس دائر کر دیا تھا جس کی وجہ سے 700فٹ دیوار پر کام نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان لوگوں کو ہوا۔

خیبر پختونخوا میں سیلاب

اُن کا کہنا ہے کہ نوشہرہ کینٹ میں بھی فوج اور مقامی لوگوں کے درمیان زمین کے ملکیت کے تنازعے کی وجہ سے 2200 فٹ حفاظتی بند پر تعمیراتی کام نہ ہوسکا جس کے وجہ سے قریبی علاقے سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوئے۔

اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں کسی بھی قسم کے روکاٹ بردشت نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور کسی صورت حفاظتی بند کی تعمیر کو ممکن بنایا جائے گا۔

نوشہرہ میں جی ٹی روڈ اور دریائے کابل کے درمیان واقع فش مارکیٹ میں قائم 20 سے زیادہ ہوٹل روایتی کھانوں کے لیے مشہور ہیں۔ غلام رسول بھی ایک بڑے ریستوران میں جنرل مینجر ہیں اور سیلاب کی وجہ سے ریستوران میں بڑی مقدار میں پانی، گند اور کیچڑ کی صفائی میں مصروف ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ سیلاب آنے کے بارے میں بتایا گیا تھا لیکن حکومت کی طرف سے دریا کے کنارے حفاظتی دیوار کی تعمیر سے ہم نے اپنی طرف سے اس کو مزید محفوظ بنایا تھا لیکن سیلاب کے ابتدا میں نکاس آب کی نالیوں میں پانی آنا شروع ہوا لیکن بعد میں دریا پر بنائے گئے دیوار سے بھی پانی اُوپر ہوگیا اور یہاں پر تمام ریستوران میں کرڑوں روپے کا سامان خراب کر دیا اور عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

انجینیئر شیرین کے مطابق دریائے کابل پر حفاظتی بند دو لاکھ 16 ہزار کیوسیک پانی کے دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے بنائے گئے تھے تاہم رواں سال سیلاب کا پانی نوشہر کے مقام پر ساڑھے تین لاکھ کیوسیک تک پہنچ گیا تھا، چند مقامات پر پانی حفاظتی بند کے اُوپر گزر گئے لیکن اس کے باوجود بھی سوائے ایک مقام پر کہیں بند ٹوٹنے کی شکایت سامنے نہیں آئی۔

امجد علی چارسدہ کے علاقہ سردریاب وینوگھڑی کے رہائشی ہیں۔ اُن کا گھر دریائے کابل کے کنارے واقع ہے تاہم اُن کے علاقے میں کئی کلومیٹر دور بہنے والے دریائے سوات کا پانی گاؤں میں داخل ہوا۔

خیبر پختونخوا میں سیلاب

اُنھوں نے کہا کہ ماضی میں حفاظتی بند کی عدم موجودگی کی وجہ سے دریائے کابل سے سیلابی نقصان ہوتا تھا لیکن بند کے تعمیر سے تقریباً پورا علاقہ محفوظ ہوچکا ہے مگر ضلع چارسدہ میں بہنے والے دریائے سوات پر پوری طرح بند تعمیر نہیں کرائے گئے، جس کی وجہ سے پورا علاقہ متاثر ہوا۔

اُن کے بقول گاؤں سے بارش کا پانی نکلنے کے لیے 25 فٹ چوڑا نالہ موجود ہے لیکن لوگوں نے اُن پر غیرقانونی تعمیرات کر کے پانی کا راستہ روک لیا ہے۔

محکمہ آپباشی کے مطابق رواں سال دریائے سوات کی وجہ سے ضلع چارسدہ میں زیادہ نقصان ہوا کیونکہ 2010 کے مقابلے میں اس سال پانی کا مقدار زیادہ تھا جس کی وجہ سے زیر تعمیر مہمند ڈیم اور منڈہ ہیڈورکس کے ساتھ گھروں اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچا۔

نوشہر ہ کے علاقے محب بانڈہ کے واجد علی کا گھر دو بار سیلاب سے متاثر ہوا اور آج کل وہ بیوی بچوں کے ساتھ مانکی کے علاقے میں رشتہ داروں کے ہاں رہائش پذیر ہیں۔

سیلاب
لائن

اُنھوں نے کہا کہ جب اُن کے علاقے میں دریائے کابل پر حفاظتی دیوار کی تعمیر ہو رہی تھی تو علاقے کے باثر افراد نے دریا سے اپنی زمینوں کو پانی لگانے اور مویشوں کو دریا تک لے جانے کے لیے محکمہ آبپاشی کے ساتھ مل کر حفاظتی دیوار تعمیر نہیں کرنے دی، جس کے وجہ سے حالیہ سیلاب میں اکثریتی غریب خاندانوں کے گھر، زرعی زمین اور مویشی پانی میں بہہ گئے۔

ڈپٹی کمشنر نوشہرہ میر رضا اوزگن نے کہا کہ اگر دریائے کابل پر حفاظتی دیوار تعمیر نہ کی جاتی تو حالیہ سیلاب سے سنہ 2010 کے مقابلے میں نوشہرہ میں زیادہ نقصان ہوتا۔ اُنھوں نے کہا کہ حفاظتی دیوار کے حوالے سے حتمی رپورٹ میں بعض مقامات پر اس کے اونچائی میں اضافے کے ساتھ کام کے معیار کو بہتر بنانے اور مزید علاقوں میں تعمیر کے تجاویز شامل کرائیں گے۔

چارسدہ میں 34 کلومیٹر، پشاور میں چار جبکہ نوشہرہ میں 67 کلومیٹر میں حفاظتی پُشتیں تعمیر کرائی گئی ہے۔ پُشتوں کی اونچائی بیس فٹ سے زیادہ ہے۔ محکمہ آپباشی کے جانب سے دریا کابل اور دریا سوات پر تعمیر کرائی پشُتوں کا تفصیلی جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ معلوم کرسکے کہ کہاں پر سیلاب کے وجہ سے نقصان ہو چکا ہے۔ ادارے کے طرف سے ضرورت کے مطابق پُشتوں کے مرمت اور مزید اونچائی کے ساتھ مستقبل میں ضلع پشاو ر کے شاہ عالم دریا پر چھ سو فٹ پُشت کی تعمیر بھی مجوزہ ہے۔

خیبر پختونخوا میں سیلاب

حالیہ اور سنہ 2010 کے سیلاب میں چارسدہ اور نوشہرہ میں نقصانات کا موزانہ

چارسدہ کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں ابتدائی رپورٹ کے مطابق دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ 180سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ سیلاب سے دو لاکھ افراد متاثر جبکہ 190گھر مکمل طور پر منہدم ہوئے ہیں اور 800 کو جزوی نقصان پہنچا۔ 11 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں، 120 سے زائد آبی نہریں تباہ اور 800 سے زائد مویشی پانی میں بہہ گئے ہیں۔

سیلاب میں منڈا ہیڈ ورکس کو بھی نقصان پہنچا جہاں سے تین اضلاع یعنی چارسدہ، نوشہرہ اور مردان کے زرعی زمینوں کے لیے پانی مہیاکیا جاتا تھا۔

2010 میں آنے والے سیلاب سے چارسدہ میں 66 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 115 افراد زخمی ہوئے تھے۔ ایک لاکھ چالیس ہزار لوگ بے گھر ہوئے، 33 ہزار 500 مویشی ہلاک ہو گئے تھے۔ چالیس ہزار سات سو ایکڑ زمین پر کھڑی فصیلں تباہ ہوئی تھے۔

نوشہر کے ضلعی انتظامیہ کے دفتر نے بتایا کہ پورے ضلع میں 36 علاقے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ نقصانات کے حوالے سے چھ مقامات سے ابتدائی معلومات حاصل کرلی گئی ہیں جن میں 12ہزار سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا اور ایک لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

خطرات کے پیش نظر مزید ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو اپنے علاقوں سے نکال دیا گیا ہے تاہم اب تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ مویشیوں کے مرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

136 ہزار ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں اور باغات تباہ ہو چکے ہیں۔ مختلف شعبوں کو ہونے والے نقصانات کا اندازہ چار ارب روپے لگایاگیا ہے۔

بارہ سال پہلے سیلاب سے نوشہر میں 167افراد جان سے ہاتھ دو بیٹھے تھے جبکہ دس سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے اور ساڑھے تین لاکھ لوگ بے گھر ہوئے تھے۔