خیبر پختونخوا میں سیلاب: ’ہمارے خاندان کا کل اثاثہ ایک مکان تھا لیکن اب وہ نہیں رہا‘

،تصویر کا ذریعہ Muhammad Salim
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
’ہمارے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہمارا گھر سیلاب میں ڈوب جائے گا، اچانک رات کو اعلان ہوا اور ہم بیوی بچوں اور والدین کو لے کر انجان منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔‘
احسان اللہ مزدور ہیں اور ان کے پانچ بھائی بھی مزدوری کرتے ہیں۔ والد ڈرائیور تھے لیکن اب وہ کام نہیں کر سکتے۔ ان کے گھر میں بیوی بچوں سمیت 20 افراد ہیں اور سب ایک ہی مکان میں رہتے تھے اور اب ان کا یہ مکان نہیں رہا۔
احسان اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کے گاؤں میں سیلاب آئے گا۔
’علاقے میں باتیں ہو رہی تھیں لیکن کسی کو یقین نہیں تھا کیونکہ اس گاؤں میں کبھی بھی سیلاب نہیں آیا۔‘
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پرووا میں سیلاب نے تباہی مچا دی ہے اور ہزاروں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
احسان اللہ کا تعلق تحصیل پرووا کے مضافات میں گاؤں کچہ ببر سے ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے مکان میں سات کمرے تھے اور ہر بھائی کا ایک ایک کمرہ تھا۔ دو بھائیوں کی شادی کچھ عرصہ پہلے ہوئی تھی تو بھابھیوں کے جہیز کا سامان پڑا تھا، ایک مہینے کی گندم اور آٹا بھی لے کر رکھا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ’ہم مزدوری کرتے ہیں۔ یہی مکان تھا جو ہمارے گھرانے کا کل اثاثہ تھا لیکن اب وہ مکان نہیں رہا اور ہم کھلے آسمان کے نیچے آ گئے ہیں۔‘
’ہمارے پڑوس میں بھی لوگوں کا بڑا نقصان ہوا ہے، سیلاب کا پانی سات سے آٹھ فٹ تک اونچا تھا۔ کچھ نہیں بچا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
احسان اللہ نے بتایا کہ سیلاب آئے کچھ دن ہو گئے ہیں اور لوگ وہیں پھر سے آباد ہونے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ لاہور آ گئے ہیں کیونکہ اب تو ان کے علاقے میں کام بھی نہیں رہا۔

،تصویر کا ذریعہHasan Mujtaba Ayub
گھر بار چھوڑ کر کہاں جائیں؟
خادم حسین تحصیل پرووا کے مضافات میں تھوڑی سے خشکی پر چارپائی پر بیٹھے تھے۔ ان کے بچے چارپائی کے ساتھ کھڑے تھے۔ خادم حسین اس سوچ میں تھے کہ اپنا یہ کچھ سامان جس میں صرف چارپائیاں اور برتن تھے، کہاں لے جائیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سیلاب کے اعلان کے بعد لوگ گھروں سے چلے گئے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ کچھ لوگ تو شہر میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں چلے گئے لیکن کب تک رشتہ داروں کے پاس رہیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جن کے رشتہ دار قریب نہیں، وہ کہاں جائیں۔ خادم حسین نے بتایا کہ ’ان کے پاس پینے کا پانی نہیں اور کوئی امداد کو بھی نہیں پہنچ رہا۔‘
یہ صرف دو خاندانوں کی کہانی نہیں بلکہ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پرووا کا پورا علاقہ سیلاب سے اسی طرح متاثر ہے۔ اکثر گھرانوں کی ساری جمع پونجی سیلاب بہا لے گیا ہے۔
اس علاقے میں زراعت کا انحصار بارانی پانی پر ہوتا ہے اور لوگ مویشی رکھتے ہیں لیکن سیلاب سے بیشتر لوگوں کے مویشی تک پانی میں بہہ گئے ہیں۔
پرووا شہر سے تعلق رکھنے والے کرنل ریٹائرڈ غلام یٰسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’علاقہ تباہ ہو گیا ہے۔ گھروں میں پانی داخل ہو گیا ہے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کوششیں کر رہے ہیں لیکن اتنی بڑی آفت سے کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ہر گھر میں تباہی ہوئی ہے لیکن سیاسی اور انتظامی سطح پر امداد کے لیے اقدامات نظر نہیں آ رہے۔‘

،تصویر کا ذریعہHasan Mujtaba Ayub
چترال میں سیلاب سے تباہی
خیبر پختونخوا کے بالائی علاقے چترال کے قریب کچھ دیہات بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ مقامی صحافی شاہ مراد بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہاں کئی سڑکیں، پل اور دیگر انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سیلابی ریلوں سے قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ ’ندی میں کچھ لڑکے سیلاب میں آنے والی لکڑیاں اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے جن میں سے دو لڑکے پانی میں بہہ گئے ہیں۔‘
مقامی لوگوں نے بتایا کہ بارشوں اور سیلابی ریلوں سے زراعت اور باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کچھ فصلیں تو بالکل ختم ہو گئی ہیں۔
حکومت کیا کر رہی ہے؟
خیبرپختونخوا حکومت نے ڈیرہ اسماعیل خان اور چترال کو آفت زدہ علاقہ قرار دے دیا ہے اور اس سلسلے میں محکمہ ریلیف کو فوری طور پر ضروری کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ محمود خان نے متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیاں تیز کرنے کا کہا ہے جبکہ سیلاب متاثرین کو کھانے پینے سمیت تمام اشیائے ضرورت کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایات دی گئی ہیں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ متاثرہ افراد کو خوراک کے علاوہ خیمے فراہم کیے گئے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں پرووا اور چترال میں کیمپ لگا دیے گئے ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں سیلاب کہاں سے آیا؟
کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلے نے خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور اس سے آگے صوبہ پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان کے مختلف علاقوں میں تباہی مچائی ہے۔
کوہ سلیمان سے بارانی پانی کے بہاؤ کو ’رودھ کوہی‘ نظام کہا جاتا ہے اور ڈیرہ اسماعیل خان میں پانچ بڑے آبی راستے ہیں، جنھیں مقامی سطح پر ’زام‘ کہا جاتا ہے۔
عام طور پر ان آبی گزرگاہوں میں ہر سال برسات کے مہینے میں کم ہی پانی آتا ہے لیکن کبھی کبھار جب بارشیں زیادہ ہوتی ہیں تو ان گزرگاہوں میں سیلاب کی صورتحال بن جاتی ہے۔
یہاں پانچ بڑے جبکہ باقی چھوٹے آبی راستے ہیں۔ گومل زام، ٹانک زام، شیخ حیدر زام، درابن زام اور چودھوان زام اہم ہیں۔ برسات کے مہینے یا بارشوں کے نتیجے میں آبی گزرگاہوں سے آنے والے پانی کو مقامی سطح پر محفوظ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ماہرین کے مطابق اس پانی کا بیشتر حصہ دریائے سندھ میں چلا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMuhammad salim
محکمہ زراعت کے ایریڈ ریسرچ کونسل کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نعمان لطیف نے بی بی سی کو بتایا کہ کوہ سلیمان ڈیرہ اسماعیل خان کے شمال سے جنوب تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہے اور لگ بھگ پانچ سو سے ساڑھے پانچ سو کلومیٹر تک طویل ہے، جو خیبر پختونخوا سے پنجاب، بلوچستان اور کچھ حصہ صوبہ سندھ تک پھیلا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر اس پہاڑی سلسلے میں تین ہزار فٹ سے زیادہ بلند چوٹیاں ہیں جہاں سردیوں میں برف بھی پڑتی ہے اور اس مرتبہ بارشیں بھی زیادہ ہوئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ چونکہ اس پہاڑی سلسلے میں زیادہ درخت نہیں اور ڈھلوان ہے تو پانی نیچے ڈیرہ اسماعیل خان، ڈیرہ غازی خان اور دیگر میدانی علاقوں کی جانب ہی آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مقامی سطح پر آبپاشی اور واٹر کنزرویشن کے منصوبوں سے منسلک ماہر عامر مغل نے بی بی سی کو بتایا کہ بنیادی طور پر دریائے سندھ کی جانب پانچ مختلف اطراف سے پہاڑوں سے پانی ان آبادیوں کے قریب سے گزرتا ہے، جس میں سے کچھ آبپاشی کے لیے استعمال ہو جاتا ہے۔
’ان آبی گزرگاہوں سے ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب یارک، پنیالہ، پہاڑ پور کے علاقوں سے لے کر مغرب کی جانب بلوچستان سے ملنے والے علاقے کبھی مستفید ہوتے ہیں تو کبھی ان سے تباہی آ جاتی ہے یعنی کبھی یہی پانی رحمت اور کبھی زحمت بن جاتا ہے۔‘
حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ان آبی گزرگاہوں کے قریب علاقوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس میں تحصیل پرووا، دارابان، چودھوان، درازندہ اور قریبی علاقوں میں کوئی ڈیڑھ سو کے لگ بھگ دیہات متاثر ہو ئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHasan Mujtaba Ayub
تحصیل پرووا سے مقامی شہری کاظم حسین نے بتایا کہ ان کا سارا علاقہ زیر آب ہے اور بارشوں اور سیلاب سے جہاں بڑی تعداد میں مکانات گرے ہیں وہاں ہسپتال، سکول اور دیگر سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
اسی طرح دارابان اور چودھوان میں بھی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ پرووا تحصیل ڈیرہ اسماعیل خان کے جنوب میں انڈس ہائی وے کے ساتھ واقع ہے، جس سے آگے تونسہ اور صوبہ پنجاب کا شہر ڈیرہ غازی خان واقع ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان سے مغرب کی جانب ڈیرہ ژوب شاہراہ ہے جبکہ کوہ سلیمان اور اس سے جڑے دیگر پہاڑی سلسلے شمال مغرب میں واقع ہیں۔ کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلوں نے جہاں ڈیرہ ژوب کے ساتھ واقع علاقوں کو نقصان پہنچایا، وہاں ان آبی ریلوں سے انڈس ہائی وے کے ساتھ علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
ڈیرہ ژوب شاہراہ ایک ہفتے سے بند ہے جو مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور پانی کے کٹاؤ سے بہہ گئی۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پہاڑی سلسلے میں بڑی تعداد میں گاڑیاں اور لوگ پھنس گئے تھے جن میں سے بیشتر کو نکالا جا چکا ہے۔
ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے ڈیرہ اسماعیل خان میں کل 147 دیہات سیلاب کی زد میں آئے ہیں جس میں سات افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے ہیں۔











