بارشیں اور سیلاب: نوابشاہ ایئرپورٹ عارضی طور پر بند، کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر ٹریفک معطل

،تصویر کا ذریعہRano Sand, Umerkot
صوبہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کی وجہ سے سندھ کی 90 فیصد سے زائد فصل مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے جبکہ حکومت کے پاس اب متاثرین کے لیے خیمے نہیں ہیں۔
کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ 23 اضلاع، 101 تحصیلیں، اور 5181 دیہات اس سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ مویشیوں کے نقصان کا اس وقت اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے پاس 86 ہزار خیمے موجود تھے جو متاثرین کو دے دیے گئے ہیں جبکہ اس وقت 10 لاکھ خیموں کی ضرورت ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ حالیہ ہنگامی صورتحال صوبہ سندھ میں 2010 کے سیلاب اور 2011 کی طوفانی بارشوں سے بھی زیادہ خراب ہے، اور اتنی بڑی ایمرجنسی پہلے اس صوبے میں نہیں ہوئی۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اُنھوں نے وفاق سے مدد کی اپیل کی ہے اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اُنھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ وفاق اس مشکل وقت میں سندھ کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔
ملک بھر میں 800 سے زائد اموات
پاکستان میں 2022 کا مون سون غیر معمولی حد تک طویل اور تباہ کن رہا ہے جس نے ملک کے طول و عرض میں سیلابی کیفیت پیدا کی ہے۔ ملک کے شمال میں گلگت بلتستان سے لے کر جنوب میں کراچی تک ہلاکتوں اور تباہی کا سلسلہ اب تک نہیں رکا ہے اور حکومت کو اس سے ہونے والے مالی نقصان کا مکمل تخمینہ لگانے میں مشکلات ہیں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے ذمہ دار وفاقی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے 14 جون سے اب تک کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق قریب ڈھائی ماہ کے دوران ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں کے باعث کم از کم 830 اموات ہو چکی ہیں اور ملک کے 116 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہWAQAR HUSSAIN/EPA-EFE/REX/Shutterstock
سیلاب اور بارشوں سے چار لاکھ سے زیادہ مکانات اور عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں سات لاکھ سے زیادہ مویشی بھی بہہ گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیلاب اور بارش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ شامل ہیں۔ بلوچستان کے 34 اور خیبرپختونخوا کے 33 اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ سندھ کے 23 اضلاع کو صوبائی حکومت نے آفت زدہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح جنوبی پنجاب کے تین اضلاع سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا ہے کہ سندھ میں غیر معمولی برساتیں ہو رہی ہیں اور بلوچستان و ڈیرہ غازی خان بھی خطرے کی زد میں ہیں۔ اسلام آباد اور صوبوں کا اس سطح کی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ عالمی برادری کو معاونت کرنی ہو گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
مزید بارشوں کی پیشگوئی
محکمہ موسمیات نے 24 سے 26 اگست کے دوران سندھ، جنوبی پنجاب، جنوب، شمال مشرقی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کہیں کہیں موسلا دھار بارش کی پیشگوئی کی ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب (پی ڈی ایم اے) کے مطابق 24 سے 26 اگست کے دوران لاہور، راولپنڈی، ملتان اور گوجرانوالہ میں نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں اور موسلادھار بارش کے باعث راولپنڈی کے مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور مری میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی اور چناب میں پانی کی سطح اور بہاؤ معمول کے مطابق ہے جبکہ موسلادھار بارشوں کے باعث 26 اگست تک ڈی جی خان کے پہاڑی علاقوں سے مزید پانی آنے کا خطرہ ہے جس سے دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آ سکتا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق 26 اگست تک جنوبی پنجاب میں مزید بارشوں سے سیلاب کا خطرہ ہے جبکہ سرگودھا ڈویژن اور ملتان میں بھی مزید بارشوں کا امکان ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے علاوہ کوہ سلیمان، سالٹ رینج سے منسلک ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
نوابشاہ ایئر پورٹ بند، کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ٹریفک معطل
دریں اثنا سندھ اور بلوچستان میں جاری حالیہ شدید بارشوں کے باعث کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ این 25 کو ایک بار پھر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ سلطان بگٹی کے مطابق لسبیلہ میں آج پھر شدید طوفانی بارشوں سے اونچے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے جس کی وجہ سے کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک اور آمدورفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔
انھوں نے کوئٹہ سے کراچی کے لیے سفر کرنے والی مسافر بسوں، مال بردار گاڑیوں اور دیگر نجی ٹریفک کو کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر سفر کرنے سے مکمل گریز کرنے کی تنبیہ کی ہے۔
دوسری طرف سندھ میں جاری غیر معمولی بارشوں کے باعث نوابشاہ ایئرپورٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً تمام ایئر فیلڈز پر پانی کھڑا ہے اور فی الحال یہ ناقابل استعمال ہیں اور ایروڈروم ابتدائی طور پر 26 اگست تک بند رہے گا۔ حکام کے مطابق ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
محکمہ ریلوے کے مطابق مختلف مقامات پر سیلاب سے ٹرینوں کا شیڈول متاثر ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSAOOD REHMAN/EPA-EFE/REX/Shutterstock
بلوچستان میں اس وقت کیا صورتحال ہے؟
قومی سطح پر این ڈی ایم اے 14 جون سے اب تک کے نقصانات کے اعداد و شمار وقتاً فوقتاً جاری کرتا رہا ہے۔
ان اعداد و شمار پر نظر دوڑائیں تو صوبہ بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں کے 34 اضلاع اور تین لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں اب تک 225 اموات ہو چکی ہیں۔
کوئٹہ کراچی ہائی وے کے علاوہ ایم ایٹ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہے۔ سیلاب اور متوقع بارشوں کے پیش نظر بلوچستان بھر میں ایک ہفتے کے لیے تعلیمی اداروں میں 27 اگست تک تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔
بلوچستان میں سیلاب سے نقصان پہنچنے والے انفراسٹرکچر کی بات کریں تو قدرتی آفات کے ادارے کے مطابق 26 ہزار مکانات، 710 کلومیٹر طویل شاہراہیں، 18 پل اور پانچ لاکھ سے زیادہ مویشی متاثر ہوئے۔
حکام کے مطابق نصیر آباد کے علاقے ربی میں قومی شاہراہ مکمل طور پر زیر آب ہے اور کوئٹہ کا زمینی راستہ سکھر قومی شاہراہ سے منقطع ہے۔
نصیر آباد ڈویژن میں سیلابی پانی کے باعث صورتحال سنگین ہوگئی ہے اور اس کے ضلع صحبت پور کا 90 فیصد زیر آب آ گیا ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں اور نہروں میں شگاف کے باعث نصیر آباد سے متصل جعفر آبادکا ضلع بھی سیلاب سے بری طرح سے متاثر ہو گیا ہے۔
سیلاب سے پورے ڈویژن میں نہ صرف مقامی لوگ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں بلکہ اس علاقے سے سندھ اور بلوچستان کے درمیان شاہراہ زیر آب آنے سے سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں جبکہ ریلوے لائن کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کے باعث ریل سروس بھی معطل ہے۔
سندھ کی صورتحال
سندھ حکومت 23 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے چکی ہے مگر این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبے میں 17 اضلاع سب سے زیادہ متاثرہ ہیں جن میں 19 لاکھ سے زیادہ کی آبادی سیلاب سے متاثر ہوئی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 14 جون سے اب تک قریب ڈیڑھ لاکھ افراد کو ریلیف کیمپ میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ صوبے میں 120 بچوں اور 35 خواتین سمیت کم از کم 239 اموات ہوئی ہیں جبکہ 700 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہREHAN KHAN/EPA-EFE/REX/Shutterstock
سندھ کی 2135 کلومیٹرز طویل شاہراہیں متاثر ہوئی ہیں، 45 پُل ٹوٹ گئے ہیں اور تین لاکھ سے زیادہ گھر و عمارتیں جزوی یا مکمل تباہ ہوئی ہیں۔ اس دوران دیہی آبادی کا اثاثہ قریب 3150 مویشی بھی متاثر ہوئے ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ کے مقامات خیرپور، مٹھی اور چھور کے مقامات پر زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 26 اگست تک صوبے کے بعض اضلاع میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ موسلا دھار بارشوں سے کراچی، حیدرآباد، ٹنڈو جام اور ٹھٹھہ میں شہری سیلاب کا خدشہ ہے۔
24 اور 25 اگست کو لاڑکانہ، جیکب آباد اور سکھر میں سیلابی ریلے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حیدرآباد ڈویژن کے نو اضلاع میں 28 اگست کے لیے طے شدہ بلدیاتی انتخابات ملتوی کر دیے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
سندھ کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ غیر معمولی موسلادھار بارشوں اور پہاڑوں سے بہنے والے سیلابی ریلے نے ضلع قمبر شہداد کوٹ میں تباہی مچائی، اس لیے مختلف شہروں اور علاقے کو ملانے والی اہم سڑکوں اور ہائی ویز کو زیر آب آنے سے بچانے کے لیے مٹی کے پشتے بنائے جائیں گے۔
ادھر صوبے میں جاری غیر معمولی بارشوں کے باعث نوابشاہ ایئرپورٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایروڈروم ابتدائی طور پر 26 اگست تک بند رہے گا اور ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ متبادل کے طور پر استعمال کے لیے دستیاب ہے۔
پنجاب کی صورتحال
پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے صوبے کے کل 16 اضلاع متاثر ہوئے ہیں جبکہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بہاولپور اور لاہور میں بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
صوبے میں 39 بچوں سمیت کل 151 اموات ہوئی ہیں جبکہ 300 زخمی ہوئے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
صوبے میں تقریباً 38 ہزار سے زیادہ مکانات، 33 کلومیٹر طویل سڑکیں بھی متاثر ہوئیں جبکہ این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق سات پلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 26 اگست تک ڈی جی خان اور تونسہ میں سیلابی ریلہ آنے کا خدشہ ہے۔
ادھر ترجمان وزیر اعلی پنجاب فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویزالٰہی نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ ’گھروں، فصلوں اور املاک کے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔‘
24 سے 25 اگست کے دوران مسلسل بارشوں سے راولپنڈی، اسلام آباد اور بہاولپور، ملتان، لاہور اور گوجرانوالا میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال
ادھر خیبر پختونخوا کے 33 اضلاع میں سیلاب سے 50 ہزار لوگ کسی نہ کسی حد تک متاثر ہوئے جبکہ صوبائی حکومت نے ڈیرہ اسماعیل خان اور چترال کے اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں 86 بچوں سمیت کم از کم 168موات ہو چکی ہیں جبکہ 228 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
صوبے میں 26 اگست تک مزید بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے جس سے ایبٹ آباد اور مانسہرہ سمیت دیگر علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔
بدھ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سوات کے مختلف علاقے سیلابی ریلوں کی لپیٹ میں آگئے ہیں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث مختلف شاہراہیں بند کی گئی ہیں جس سے مسافر پھنس گئے ہیں اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔
سوات کے سیاحتی مقام مینگورہ میں بھی سینکڑوں مکانات زیرِ آب آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے سوات کی متعلقہ انتظامیہ سے رابطہ کر کے ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو کاروائیاں شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حکام کے مطابق دیر بالا کے براول شلتلو میں پانچ بچے برساتی نالے میں بہہ گئے ہیں جو سکول کی چھٹی کے بعد گھر جا رہے تھے۔
گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر
اگر گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے متعلق بات کریں تو قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق خطے میں مجموعی طور پر 46 اموات ہوئیں جہاں بالترتیب چھ اور دس اضلاع کے تقریباً دس ہزار افراد متاثر ہوئے اور نو سو کے قریب مکانات متاثر ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ این ڈی ایم اے چیئرمین کے مطابق نقصانات کا یہ تخمینہ ابتدائی اطلاعات کی بنیاد پر لگایا گیا ہے جس کو حتمی نہیں کہا جا سکتا۔
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹینینٹ جنرل اختر نواز نے کہا تھا کہ نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے وفاق اور صوبوں کے ساتھ این ڈی ایم اے اور پاکستان فوج کام کریں گے۔















