پاکستان میں سیلاب زدگان تک امداد پہنچنے میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عمردراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
’اللہ کے واسطے ہماری مدد کرو۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو بھوکے پیاسے ہیں۔ میرا بیٹا رو رہا ہے۔‘ اتنا کہہ کر بیگم بی بی رونے لگتی ہیں مگر ان کی مدد کی اپیل نہیں رکتی۔
شاید انھیں امید ہے کہ ان کے سامنے کیمرہ ہے تو کوئی ان کی آواز سن لے گا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’پرائی زمین پر بیٹھے ہیں۔ کوئی شے نہیں پاس۔ رل گئے ہیں بالکل، بھوکے ہیں، غریب ہیں، کچھ نہیں ہے پاس۔ اللہ کا واسطہ ہے۔ خدا کا واسطہ ہے۔‘
بیگم بی بی، ان کے خاوند اور تین بیٹے ڈیرہ اسماعیل خان میں سیلاب سے گھر ٹوٹ جانے کے بعد کسی کی زمین پر رہ رہے ہیں۔ ان کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے چودھوان سے ہے لیکن وہ اکیلی نہیں جنھیں شکایت ہے کہ ان تک کوئی امداد نہیں پہنچی۔
صوبہ سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع علاقے شہداد کوٹ میں سیلاب کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے درجنوں خاندان، خواتین اور بچوں سمیت سڑک کے کنارے بیٹھے ہیں۔ زیادہ تر کے پاس سر چھپانے کے لیے ٹینٹ بھی نہیں۔
انیتا کھوسو کا خاندان بھی ان میں شامل ہے۔ وہ کہتی ہیں انھیں کسی نے اب تک کھانے کے لیے کچھ نہیں دیا۔ ایسا نہیں کہ وہ اور ان کے بچے بالکل فاقے کر رہے ہیں مگر ان کی مشکل یہ ہے کہ انھیں یہ اناج قریب کی دکانوں سے مانگنا پڑتا ہے۔
جب مل جاتا ہے تو وہ روٹی پکا لیتی ہیں، جب نہیں ملتا تو دس لوگوں کے خاندان میں کچھ کو بھوکا رہنا پڑتا ہے۔
سڑک کنارے بیٹھے چولہے پر توا چڑھا کر وہ اس روز ملنے والے آٹے سے آخری روٹیاں پکا رہی ہیں اور انھیں یہ نہیں معلوم کے آگے کیا ہو گا۔ ’کوئی کچھ نہیں دے کر جاتا۔ نہ کسی نے راشن دیا نہ کسی نے کوئی خیمہ دیا۔ ہمارے بچے باہر دھوپ میں بیٹھے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے پاس گزر بسر کے لیے جو مال مویشی تھے ان میں سے زیادہ تر سیلاب میں بہہ گئے۔ جو دو تین بچ گئے وہ بیچ کر وہ اب تک گزارا کرتی رہی ہیں۔ ’جو ہے وہی بنا رہی ہوں۔ جو اللہ دیتا ہے وہی کھا لیتے ہیں۔‘
صوبہ پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ جنوبی اضلاع میں بہت سے ایسے لوگ اب بھی موجود ہیں جن کی بستیاں باقی علاقوں سے کٹ گئی ہیں۔ یہاں کے باسیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ لگ بھگ ایک ماہ ہو چکا ہے کہ ان کے پاس نہ تو کوئی حکومتی نمائندہ آیا اور نہ ہی کوئی غیر سرکاری تنظیم۔
ضلع راجن پور کے علاقے جھوک مکول کے رہائشی حامد علی نے بی بی سی کو ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ انھیں کھانے پینے کا بنیادی سامان خریدنے کے لیے لگ بھگ چار کلومیٹر تک اس پانی میں چل کر جانا پڑتا ہے جس میں وہ آدھے سے زیادہ ڈوب جاتے ہیں۔
’ہماری طرف جو دکانیں تھیں ان میں بھی ہر چیز ختم ہو گئی ہے۔ نہ کوئی دوائی ہے، اگر کوئی بیمار ہو جائے تو اس کو باہر نہیں نکال سکتے اور یہاں ابھی تک ہمارا حال دیکھنے کوئی نہیں پہنچا۔‘
ایک مہینہ گزر چکا ہے کہ ان کے گاؤں کو باقی علاقوں سے ملانے والے راستے کئی فٹ گہرے پانی تلے ڈوبے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہUAE Embassy Pakistan
دوسری طرف پاکستان کو کئی دوست ممالک سے بھی مسلسل امدادی سامان مل رہا ہے اور ملک کے اندر سے بھی کئی تنظیمیں اور رضاکار امدادی سامان لے کر متاثرہ علاقوں کی طرف جا رہے ہیں۔
آفات سے نمٹنے کے حکومتی ادارے بھی یہ دعوٰی کر رہے ہیں کہ وہ تقریباً تمام متاثرہ علاقوں میں موجود افراد تک پہنچ چکے ہیں۔
صوبہ پنجاب کے پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق ان کے ادارے نے تمام علاقوں میں متاثرین کی لسٹیں مقامی حکام کی مدد سے بنوا رکھی ہیں۔
تو سوال یہ ہے کہ پھر بیگم بی بی، انیتا کھوسو اور حامد علی جیسے افراد تک کوئی بھی امداد اب تک کیوں نہیں پہنچ پائی؟
رضاکارانہ، انفرادی کوشش
اقرا منظور لاہور میں ایف سی کالج یونیورسٹی کی طالبہ ہیں اور ان کا تعلق پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقے لیہ سے ہے۔ انھوں نے اپنی یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ مل کر ایک گروپ بنایا ہے جو سیلاب متاثرین کے لیے فنڈ اور امدادی سامان جمع کر رہے ہیں۔
جلد ہی وہ لیہ اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں یہ امدادی سامان پہنچانے کے لیے سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
لاہور کی جامعہ پنجاب کے کئی طلبا گروپ بھی ایسی ہی مہمات چلا رہے ہیں۔ علی آفتاب اور ان کے دوست بھی ان میں شامل ہیں اور وہ زیادہ تر ادویات جمع کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
لیکن رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے ان طلبا میں زیادہ تر ایسے افراد شامل ہیں جن کے پاس آفت زدہ علاقوں میں کام کرنے کا کوئی تجربہ نہیں۔ جن چند لوگوں کو مقامی افراد کی مدد اور علاقوں سے قدرے آگاہی حاصل ہے وہ ایسے علاقوں میں کام کرنے کے طریقہ کار سے ناواقف ہیں۔
اقرا منظور اس سے قبل کووڈ 19 کی وبا کے دوران رضاکارانہ طور پر کام کر چکی ہیں تاہم انھیں قدرتی آفات کے علاقوں کا زیادہ تجربہ نہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں خود بھی اس علاقے سے ہوں اور ہمارے دوست جو ان علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں ہمارا ان سے رابطہ ہے، وہ ہمیں گائیڈ کر رہے ہیں کہ کس علاقے میں کس چیز کی ضرورت ہے اور وہاں راستوں کی صورتحال کیا ہے۔‘
انھیں امید ہے کہ وہ صحیح جگہ پر صحیح امدادی سامان پہنچا پائیں گے تاہم علی آفتاب ساتھ ہی یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر ان کے پاس ’آفات کے علاقوں میں کام کرنے کی تھوڑی بہت ٹریننگ ہوتی تو ہم جیسے دیگر کئی رضاکاروں کو بہت فائدہ ہوتا۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ رضاکارانہ کاوشوں کی آفت زدہ علاقوں میں اشد ضرورت ہوتی ہے تاہم ان تمام کاوشوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا نظام قائم کرنا ضروری ہے۔

،تصویر کا ذریعہRAJANPUR CREDIT 1122 RESCUE
انفرادی کوشش میں نقصان کیا ہو سکتا ہے؟
آفت زدہ علاقوں میں کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف جہاں رضاکارانہ یا انفرادی حیثیت میں متاثرہ علاقوں میں سامان لے جانے والوں کی وجہ سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ کم از کم سامان کی ترسیل ہو رہی ہوتی ہے وہیں ریسکیو اور ریلیف کی مجموعی کوشش میں اس کا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
رضوان بیگ غیر سرکاری تنظیم ’ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈیویلپمنٹ پاکستان‘ سے تعلق رکھتے ہیں اور آفات سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جو لوگ رضاکارانہ طور پر امداد لے کر جانا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ بات طے کرنا مشکل ہوتی ہے کہ ان علاقوں میں اس وقت کس چیز کی کہاں ضرورت ہے۔
’مثال کے طور پر ان کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ آیا متاثرین کو کھانا چاہیے، پانی چاہیے یا شیلٹر کی ضرورت ہے۔ یہ ضروریات ان اداروں کو معلوم ہوتی ہیں جو فیلڈ میں کام کر رہے ہوتے ہیں اور اپنا اندازہ لگا رہے ہوتے ہیں۔‘
رضوان بیگ کے مطابق اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انفرادی حیثیت میں لوگ ایک علاقے میں وہی چیز پہنچا دیتے ہیں جو وہاں پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ اسی طرح کئی علاقے ایسے ہوتے ہیں جن کو وہ اشیا ملتی ہی نہیں جن کی ان کو ضرورت ہوتی ہے۔
’اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کئی ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ ان علاقوں کو پہلے ہی امداد مل چکی ہے اس لیے وہ ادھر نہیں جاتے۔‘
رضوان بیگ سمجھتے ہیں کہ ایک مؤثر ریلیف کی کوشش کے لیے ضروری ہے کہ مختلف انفرادی کوششوں اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی قائم کی جائے۔

،تصویر کا ذریعہPDMA Balochistan
امداد کی ترسیل کا کام کیسے ہوتا ہے؟
ماہرین کے مطابق اصولی طور پر ایک حکومتی ادارہ پوری امدادی مہم کی رہنمائی کرتا ہے اور باقی تمام حکومتی اور غیر سرکاری ادارے اس کی سپورٹ میں کام کرتے ہیں۔ ان میں غیر سرکاری تنظیموں اور اداروں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ پاکستان میں یہ مرکزی ادارہ این ڈی ایم اے ہے۔
بین الاقوامی اور مقامی تنظیموں کے پاس تربیت یافتہ عملہ بھی ہوتا ہے اور مقامی علاقوں میں پہلے سے ایک نیٹ ورک موجود ہوتا ہے جس کو استعمال کر کے امداد کو مؤثر طریقے سے متاثرہ لوگوں تک بروقت پہنچایا جا سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں اپنے طور پر بھی امداد کی رقم مختلف اداروں سے حاصل کر لیتی ہیں جس کی وجہ سے حکومت پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔
رضوان بیگ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سنہ 2015 سے قبل اس نوعیت کا نظام موجود تھا جہاں غیر ملکی یا بین الااقوامی تنظیمیں اور ان کے کلسٹرز یا گروپس موجود تھے۔ سنہ 2010 کے سیلاب میں بھی ان تنظیموں نے امدادی کام کیا تھا۔
تاہم اس مرتبہ ایسی تنظیمیں زیادہ تر فیلڈ میں امدادی کام کرتی دکھائی نہیں دے رہیں۔ چند مقامی غیر سرکاری تنظیمیں ابتدا ہی سے امدادی کام کر رہی ہیں تاہم ان میں ایسی تنظیموں کی تعداد کم ہے جن کے پاس بڑا اور مؤثر نیٹ ورک موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیے
آئی این جی اوز زیادہ دکھائی کیوں نہیں دے رہیں؟
سنہ 2015 میں حکومت نے آئی این جی اوز کے حوالے سے ایک نئی پالیسی کا اجرا کیا جس کے مطابق پاکستان میں کام کرنے والی آئی این جی اوز کو وزارتِ داخلہ سے این او سی لینا اور ایک میمورینڈم آف انڈرسٹینڈنگ(ایم او یو) پر دستخط کرنا ضروری تھا۔ اس میں عموماً چھ ماہ کا وقت لگتا ہے۔
بظاہر ایسی پالیسیوں کی وجہ سے کئی آئی این جی اوز نے پاکستان میں گزشتہ چند سال میں اپنا کام یا تو محدود کر لیا یا پھر وہ بالکل دکھائی نہیں دیتیں۔
پاکستان میں سنہ 2010 کے سیلاب کے بعد آفات سے نمٹنے کے لیے ایک مرکزی ادارہ نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے قائم کیا گیا۔ بعد میں صوبائی سطح پر پی ڈی ایم ایز اور ضلعی سطح پر ڈی ڈی ایم ایز بھی وجود میں آئے۔
کسی بھی آفت کی صورت میں وفاق کی سطح پر این ڈی ایم اے ہی تمام کر ریلیف، ریسکیو اور بحالی کی مہم کو لیڈ کرتا ہے جبکہ باقی تمام سرکاری اور غیر سرکاری ادارے، آئی این جی اوز، این جی اوز وغیرہ اس کے ساتھ معاونت میں کام کرتے ہیں۔
ان سرکاری اداروں کو بنانے کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ کسی بھی آفت کی صورت میں ریلیف اور ریسکیو وغیرہ کے کام میں ہم آہنگی لائی جا سکے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ جب اس نوعیت کا نظام موجود ہے تو کیا حالیہ سیلاب کی صورتحال میں امداد کی فراہمی میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہAlkhidmat Foundation Pakistan
’این جی اوز کو ایک دوسرے اور حکومت پر اعتماد نہیں‘
آفات سے نمٹنے کے طریقہ کار یعنی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کے حوالے سے تحقیق کرنے والے کراچی کے سید طارق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے مشاہدے کے مطابق پاکستان میں اس وقت ریلیف اینڈ ریسکیو کی مہم میں بظاہر کوئی ہم آہنگی نظر نہیں آ رہی۔
سید طارق کے مطابق مؤثر طریقے سے امداد کو ان علاقوں تک پہنچانا، جہاں اس کی ضرورت ہے، کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا تھا کہ جس وقت سیلاب کی پیشگوئی کی گئی یا وارننگ جاری کی گئی تھی اسی وقت سامان ان علاقوں میں محفوظ مقامات پر پہنچا دیا جاتا۔
اس طرح ضرورت پڑنے پر اس کی بروقت ترسیل ممکن ہوتی تاہم ان کے خیال میں ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بعد میں تمام اداروں کو متحرک کیا جائے اور وسائل کو حرکت میں لایا جائے۔
’لیکن حکومتی سطح یا پھر این جی اوز کی سطح پر بھی ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیا اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں مقامی این جی اوز ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کرتیں اس لیے ان کے درمیان کسی قسم کی کوآرڈینیشن نہیں ہوتی۔‘
سید طارق کے خیال میں این جی اوز زیادہ تر انفرادی حیثیت میں کام کرنے کو ترجیح دیتی ہیں اور اس کی ایک وجہ حکومتی اداروں پر اعتماد کا فقدان بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2015 سے قبل اقوامِ متحدہ کے کئی ادارے اور تنظیمیں آفات کی صورت میں بڑھ چڑھ کر کام کرتی تھیں۔
’اس مرتبہ وہ بھی فیلڈ میں دکھائی نہیں دیے۔ سنہ 2010 کے سیلاب میں انھوں نے امدادی کاموں کو لیڈ کیا تھا اور باقی حکومتی اداروں نے ان کی معاونت میں کام کرنے کی کوشش کی تھی تاہم اقوامِ متحدہ کا ادارہ ان کی اس معاونت سے کوئی زیادہ خوش نہیں تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہISPR
کیا اب آئی این جی اوز، حکومت کی معاونت نہیں کر رہیں؟
سید شاہد کاظمی 26 آئی این جی اوز کے ایک گروپ پاکستان ہیومینیٹیرین فورم (پی ایچ ایف) کے کنٹری کوآرڈینیٹر ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ایسا نہیں کہ کوئی بھی آئی این جی اوز پاکستان میں کام نہیں کر رہیں۔
انھوں نے بتایا کہ بہت سی آئی این جی اوز حالیہ سیلاب میں معاونت کے لیے کام کر بھی رہی ہیں اور ان کے گروپ میں شامل ممبران نے اب تک 75 لاکھ امریکی ڈالر کی فنڈنگ بھی کی ہے جبکہ چھ ممبران نے مزید 24 لاکھ امریکی ڈالر کی امداد کی یقین دہانی کروا رکھی ہے۔
سید شاہد کاظمی نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے سنہ 2015 میں آئی این جی اوز کے لیے پالیسی لانا کوئی ایسا اقدام نہیں، جس کی وجہ سے یہ تنظیمیں پاکستان سے چلی گئی ہوں۔
ان کے خیال میں دوسرے کئی ممالک میں بھی ایسی پالیسیاں ہوتی ہیں تاہم سید شاہد کاظمی کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کی وجہ سے ایم او یو یا ان او سی وغیرہ کے حصول میں تاخیر کی وجہ سے آئی این جی اوز کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔
’ہم حکومت سے یہ درخواست ضرور کر رہے ہیں کہ جس طرح کووڈ 19 کی مہم کے دوران حکومت نے ایم او یو کے لیے چھ ماہ کی شرط کو وقتی طور پر ختم کیا تھا، اب بھی کر دیا جائے کیونکہ یہ ایمرجنسی معاونت، خوراک اور ادویات چھ مہینے انتظار تو نہیں کر سکتیں۔‘
انھیں امید ہے کہ حکومت اس تجویز پر کام کر رہی ہے اور جلد اس حوالے سے کوئی فیصلہ سامنے آ جائے گا۔
این جی اوز اور آئی این جی اوز کا کردار کتنا اہم ہو گا؟
ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کے ماہر سید طارق کے مطابق آئی این جی اوز اور این جی اوز کے پاس تجربہ کار عملہ موجود ہوتا ہے اور اس کے علاوہ ان کے پاس کسی بھی آفت کی صورت میں پوری منصوبہ بندی ہوتی ہے کہ فیلڈ میں کوآرڈینیشن کے ساتھ کام کیسے کرنا ہے۔
’تاہم ہمارے اداروں نے زیادہ تر کوئی کوشش نہیں کی ان بین الاقوامی اداروں سے سیکھا جائے اس لیے وہ تجربہ آگے منتقل نہیں ہو پایا۔‘
ان کے خیال میں اگر آئی این جی اوز اس وقت پاکستان میں موجود بھی ہوتیں تو بھی کوآرڈینیشن کی ضرورت رہتی۔
سید طارق کے مطابق پاکستان میں این ڈی ایم اے ایک ایسا ادارہ ہے جو کافی حد تک متحرک نظر آتا ہے تاہم ’ان کے پاس بھی عملے کی شدید کمی ہے اور پھر تربیت یافتہ عملے کی بھی کمی ہے۔‘
ایسی صورت میں حالیہ آفت سے نمٹنے کے لیے آئی این جی اوز کا کردار اور زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔
پی ایچ ایف کے کنٹری کوآرڈینیٹر سید شاہد کاظمی کے مطابق آئی این جی اوز کسی بھی آفت کی صورت میں نقصانات کے حوالے سے اپنے اندازے پیش کرتی ہیں۔
’ان اندازوں پر قائم رپورٹس بہت اہم ہوتی ہیں جن سے یہ پتا لگایا جاتا ہے کہ آفت سے نمٹنے کے لیے کتنی امداد کی ضرورت ہے۔ انہی رپورٹس کی بنیاد پر بین الاقوامی ادارے اور دوسرے ممالک مدد فراہم کرتے ہیں۔‘
سید شاہد کاظمی کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ بھی اس وقت پاکستان میں اس نوعیت کے جائزے کرنے میں مصروف ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان کی حکومت کی طرف سے مدد کی باضابطہ اپیل کے بعد یورپ اور برطانیہ میں موجود آئی این جی اوز نے بھی بین الاقوامی چیریٹی ڈرائیو کا آغاز کر دیا ہے۔
کوآرڈینیشن کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے ایک مرکزی رسپانس سینٹر قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس میں مرکزی کردار این ڈی ایم اے ہی ادا کرے گا۔













