سوات میں دریا کنارے غیر قانونی تعمیرات کیسے خطرہ بنیں؟

سوات

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

پاکستان میں غیر معمولی بارش کے نیتجے میں سیلابی صورت حال کے بعد جمعرات کو دریائے سوات میں بھی شدید طغیانی دیکھنے کو ملی جس نے کالام، بحرین اور مدین کے علاقوں میں دریا کنارے بنی عمارات کو تباہ کر دیا۔

سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں خصوصی طور پر کالام کے ایک ہوٹل کی تباہی کے مناظر خصوصی توجہ اور بحث کا حصہ بنے جس کا نام ہوٹل ہنی مون ہے۔

اس بحث میں سب سے اہم سوال یہ اٹھا کہ کیا دریا کنارے عمارتوں کی تعمیر کے وقت کسی قسم کے قوانین کے تحت اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ سیلابی صورت حال میں ایسا ہو سکتا ہے۔

چند سوشل میڈیا صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ 2010 میں بھی اس علاقے میں ایسی ہی تباہی آئی تھی اس کے باوجود اسی علاقے میں دریا کنارے پانی کے ممکنہ راستے میں عمارتوں کی اجازت کیوں دی گئی۔

اہم بات یہ ہے کہ ہوٹل ہنی مون 2010 میں بھی تباہ ہوا تھا۔

اس حوالے سے بی بی سی نے 2012 میں ایک خصوصی رپورٹ شائع کی تھی جس میں انھی سوالات کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی تھی۔

اس رپورٹ کو قارئین کی دلچسپی کے لیے دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے:

ریور پروٹیکشن ایکٹ سوات میں لاگو ہے جس کے تحت دریا کے کنارے سے دو سو فٹ میں کوئی عمارت بنانا غیر قانونی ہے

،تصویر کا ذریعہHotel Honeymoon

،تصویر کا کیپشنریور پروٹیکشن ایکٹ سوات میں لاگو ہے جس کے تحت دریا کے کنارے سے دو سو فٹ میں کوئی عمارت بنانا غیر قانونی ہے

سوات میں 2010 میں آنے والے سیلاب کی تباہی کے بعد لوگوں نے دریائے سوات کے کنارے رہائشی اور تجارتی تعمیرات تو دوبارہ شروع کیں لیکن فنِ تعمیرات اور اس سے متعلقہ قوانین سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے اپنی مرضی کے مطابق ہی مکانات اور کاروباری مراکز آباد کرنا شروع کر دیے ہیں۔

زرمت اللہ خان شنواری نے کالام میں دریا کے کنارے ’نیو ہنی مون‘ کے نام سے ایک نیا ہوٹل تعمیر کیا تھا۔ اس سے پہلے ان کا 100 کمروں کا ہوٹل 2010 کے سیلاب میں تباہ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے انہیں بیس کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

بی بی سی کے راحیل خان سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے نہ تو ان کو دریا کے کنارے ہوٹل تعمیر کرنے سے روکا اور نہ ہی ان کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے کسی قسم کے طریقے سکھائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ دریا کے کنارے آباد ہوٹلوں کا کاروبار زیادہ چلتا ہے اور اسی لیے سیلاب کے خطرے کے باوجود انھوں نے دوبارہ دریا کے کنارے ہی نیا ہوٹل تعمیر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہوٹل ہنی مون 2010 میں بھی تباہ ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

،تصویر کا کیپشنہوٹل ہنی مون 2010 میں بھی تباہ ہوا تھا

ضلع سوات کے نائب رابطہ کار افسر کامران رحمان نے دریا کے کنارے تعمیرات کو روکنے کے حوالے سے بی بی سی کے راحیل خان کو بتایا کہ ’دریا کے کنارے لوگ نجی زمینوں پر آباد کاری کر رہے ہیں۔ ہم نے صوبائی حکومت سے درخواست کی ہے کہ دریائے سوات کے حدود کی نشاندہی کرے یا پھر قانون سازی کے تحت تعمیراتی تجاوزات پر پابندی عائد کرے۔‘

دوسری طرف کالام سے صوبائی اسمبلی کے منتخب رکن جعفر شاہ کا کہنا تھا کہ دریا کی حدود معلوم ہیں اور متعلقہ قوانین بھی موجود ہیں جن کے تحت دریا کے کنارے کسی بھی قسم کی تعمیر کو روکا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس کے لیے باقاعدہ قانون موجود ہے اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے پاس رہنما اصول بھی ہیں جن کے تحت انہیں لوگوں کو آگاہ کرنا چاہیے کہ دریا سے کتنے فاصلے پر وہ تعمیرات کر سکتے ہیں۔ قانون کے مطابق دریا کے کنارے سے 200 فٹ کے اندر آبادی نہیں ہو سکتی۔‘

انھوں نے زور دیا کہ یہ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ہے اور اس کو ان قوانین پر عمل درآمد کروانا چاہیے۔

مینگورہ سے تعلق رکھنے والے ماہرِ تعمیرات شوکت علی شرر نے بتایا کہ قوانین تو بہت ہیں لیکن اصل مسئلہ ان پر عمل درآمد ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہاں ’ریور پروٹیکشن ایکٹ سوات‘ لاگو ہے جس کے تحت دریا کے کنارے سے 200 فٹ میں کوئی عمارت بنانا غیر قانونی ہے لیکن اس قانون پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہورہا۔

انھوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے علاوہ ’لوکل گورنمنٹ آرڈینینس‘ کے تحت تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ہے کہ زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی اور تمام تعمیراتی کام قانون کے مطابق کروانے کی نگرانی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ قدرتی آفات کی روک تھام کے قوانین کے مطابق ایسے علاقوں میں جہاں قدرتی آفات کا خدشہ زیادہ ہو وہاں کسی قسم کی عمارت تعمیر کرنا غیر قانونی ہے۔

شوکت علی نے زمین کی ملکیت اور زمین کے استعمال اور حکومتی اداروں کے کردار کے حوالے سے مزید کہا کہ ’ہماری حکومت اور ہمارے عوام دونوں زمین کی ملکیت اور زمین کے استعمال میں فرق نہیں کرتے، زمین کی ملکیت رکھنا اور اس کا مالک ہونا الگ بات ہے، ملکیت مالک کا حق ہے لیکن زمین کو کس طرح استعمال میں لایا جائے اس میں حکومت کی عملداری، ضابطوں کا اطلاق اور عمل دخل ہونا چاہیے۔ بد قسمتی سے یہ ہو نہیں رہا کیونکہ نہ حکومتی اداروں میں صلاحیت ہے اور نہ عوام کی یہ خواہش ہے اور اس طرح ہم دوبارہ تباہی کے لیے اسباب بنا رہے ہیں۔‘

2010 میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے دریائے سوات کے کنارے آبادی کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ ماہرین کے مطابق اب دریا کے کنارے دوبارہ تعمیرات قدرتی آفات کی صورت میں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے لیکن موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ ضلعی اور صوبائی حکومت کے متعلقہ ادارے ابھی تک دریائے سوات کے کنارے تعمیرات کو روکنے میں ہچکچا رہے ہیں۔