پاکستان میں سیلاب: پاکستان کا وسطی پنجاب سیلاب سے کیسے محفوظ رہا اور کیا انڈیا کا پاکستان میں آنے والے سیلاب سے کوئی تعلق ہے؟

راوی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, محمد صہیب
    • عہدہ, بی بی سی اردو

پاکستان میں جب بھی سیلاب آتے ہیں تو دبے دبے لفظوں میں اکثر افراد اس کی وجہ انڈیا کی جانب سے پانی چھوڑنا قرار دیتے ہیں۔

یہ بات کسی حد تک درست بھی ثابت ہوتی رہی ہے اور ماضی میں یہ سیلاب وسطی پنجاب کو بھی متاثر کرتے رہے ہیں، جہاں سے پاکستان کے تین دریا یعنی دریائے جہلم، چناب اور راوی گزرتے ہیں۔

تاہم حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقے بالکل مختلف ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کا آغاز بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب سے ہوا اور اب خیبرپختونخوا کے کچھ علاقے اس کی زد میں ہیں۔

اس سال آنے والے سیلاب کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی وجہ غیر معمولی بارشیں تھیں اور اس کے باعث جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں کہیں فلیش فلڈنگ اور کہیں اربن فلڈنگ کے باعث نقصان ہوا۔

تاہم اس وقت پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں جو سیلابی صورتحال دیکھی جا رہی ہے، وہ دراصل دریائے کابل، سوات اور اب دریائے سندھ میں آنے والے سیلاب کے باعث ہے۔

کچھ روز قبل پاکستان کی وفاقی وزیرِ ماحولیاتی تبدیلی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 'ہم ایک جگہ کے حوالے سے تجزیہ کرتے اور اس کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے تو معلوم ہوتا کہ کوئی اور جگہ بارش، یا سیلاب سے متاثر ہوئی ہے۔ یہ انتہائی غیر معمولی صورتحال ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔'

Pakistan Floods 4

لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عموماً پاکستان کے شمال سے شروع ہونے والی مون سون بارشیں بلوچستان اور سندھ میں کیوں جا برسیں اور اس دوران جب پورا ملک سیلاب سے متاثر ہے تو کیا وجہ ہے کہ وسطی پنجاب قدرے محفوظ ہے؟

اس بارے میں بی بی سی نے موسمیات کے ماہرین سے تفصیل سے بات کرتے ہوئے موسمِ گرما میں پاکستان کے موسمیاتی نظام کا جائزہ لیا ہے۔

پاکستان میں موسمِ گرما کے دوران مون سون سسٹمز اور ہیٹ ویوز

حالیہ سیلاب کی وجوہات جاننے سے قبل، یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں موسمِ گرما کے دوران موسمیاتی صورتحال کیا رہتی ہے اور اس دوران بارش برسانے والے مون سون سسٹمز کہاں سے آتے ہیں اور عموماً کہاں برستے ہیں۔

یہ موسمیاتی نظام دراصل خلیجِ بنگال یا بحیرہ عرب سے شروع ہو کر، انڈیا میں برستے ہوئے پاکستان کے شمالی علاقوں میں پہنچتے ہیں۔ یہاں ان کا ملاپ مغرب سے آنے والی ہواؤں سے ہوتا ہے جس کے بعد یہ بارش کا باعث بنتے ہیں۔

تاہم اس مرتبہ موسمِ گرما کی صورتحال شروعات سے ہی خاصی غیر معمولی رہی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل موسمیات صاحب زاد خان نے بی بی سی سے اس بارے میں خاصی دلچسپ تفصیلات شیئر کی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس سال پاکستان میں اپریل کے مہینے میں درجہ حرارت معمول سے پانچ ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

معمول کے درجہ حرات دراصل پاکستان کے تمام موسمیاتی سٹیشنوں پر اس ماہ میں ریکارڈ کیے گئے درجہ حرارت کی اوسط نکال کر سامنے آتے ہیں۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یعنی اگر اپریل میں معمول کا درجہ حرارت 31 ڈگری ہوتا ہے تو اس سال یہ 36 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب تھا۔

تام صاحب زاد خان کے مطابق 'دلچسپ بات یہ ہے کہ اپریل سنہ 2010 میں بھی درجہ حرارت معمول سے چار، ساڑھے چار ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔‘

'اسی طرح مئی کے ماہ میں بھی معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے گئے اور جون کا آغاز بھی ہیٹ ویو سے ہوا۔ تو یوں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب اپریل اور مئی کے مہینوں میں درجہ حرارت زیادہ شدید ہوتے ہیں، تو مون سون بھی زیادہ متحرک ہوتی ہے۔'

سندھ اور بلوچستان میں غیر معمولی بارشیں کیوں ہوئیں؟

پاکستان کی پالیسی برائے ماحولیاتی تبدیلی کے لیڈ آتھر اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے لیے بطور کنسلٹنٹ کام کرنے والے ڈاکٹر قمر الزمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ انتہائی حیرت انگیز بات ہے اور اس کی نظیر پہلے نہیں ملتی کے تمام کے تمام پانچ، چھ سپیل خلیجِ بنگال سے ہوتے ہوئے انڈیا میں معمول سے کم برسیں اور پاکستان میں عمومی طور پر شمالی اور بالائی علاقوں میں برسنے کی بجائے وہ سندھ اور بلوچستان میں جا کر برسیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'ان سسٹمز کی شدت بہت زیادہ تھی، یہ انتہائی کم دباؤ اور ڈپریشن کے سسٹمز تھے اور ان سب کا ایک ہی ٹریک تھا، جو آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا، یہ سب ایک ہی طرف سے ہو کر گزرے۔

انھوں نے بتایا کہ 'عام طور بلوچستان میں مون سون سسٹم نہیں جاتے تھے اور مغربی موسمی سسٹمز کے ذریعے بارشیں ہوتی تھیں۔

'اس مرتبہ یہ پیٹرن تبدیل ہوا اور سندھ سے ہوتے ہوئے مون سون سسٹم بلوچستان میں داخل ہوئے۔'

چناب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

صاحب زاد خان اس بارے میں مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'عام طور پر ہوا کے کم دباؤ والا علاقہ اس دفعہ بلوچستان اور سندھ میں تھا جس نے خلیجِ بنگال اور بحیرہ عرب سے آنے والے موسمی نظام کو پوری قوت سے اپنی طرف کھینچا۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'اس کی مثال یوں لیجیے کہ جب جون میں ملک کے دوسرے حصوں میں بارش تھی، تو بلوچستان کے علاقوں نوکنڈی وغیرہ میں درجہ 45 سینٹی گریڈ سے زیادہ تھے۔

'یہ صرف بلوچستان تک ہی محدود نہیں تھا، بلکہ ایران میں ایک آھواز سٹیشن ہے، وہاں پانچ اگست کو 53 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔'

انھوں نے کہا کہ 'اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ انتہائی کم دباؤ والا علاقہ مون سون کو اپنے راستے سے ہٹا کر اپنی جانب کھینچتا رہا، اور یوں جو بارش پاکستان کے شمال علاقوں سے شروع ہوتی تھی، وہ اس مرتبہ بلوچستان اور سندھ سے شروع ہوئی۔'

ڈاکٹر قمر الزمان کہتے ہیں کہ 'اس سے پہلے جو ہم دیکھ رہے تھے، وہ بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب تھے، تاہم اب جو سوات، خیبرپختونخواہ اور آزاد کشمیر میں دیکھنے کو مل رہا ہے یہ دریاؤں کے باعث آنے والا سیلاب ہے، جو ہم اس سے قبل عام طور بھی دیکھا کرتے تھے۔'

محکمہ موسمیات

،تصویر کا ذریعہCourtesy Met Dept Pakistan

وسطی پنجاب کیوں محفوظ رہا؟

یہ سب تفصیل بتانے کے بعد یہ جاننا انتہائی آسان ہے کہ اس دوران وسطی پنجاب کیسے محفوظ رہا۔

پاکستان کے وسطی پنجاب میں انڈیا کی جانب سے چھوڑے گئے اضافی پانی اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہونے والی بارش کے باعث پانی آتا ہے۔

ڈاکٹر قمر الزمان بتاتے ہیں کہ اس مرتبہ دلچسپ بات یہ ہے کہ مون سون سسٹمز کے باعث انڈیا میں بھی معمول سے کم بارشیں دیکھنے کو ملی ہیں، یوں جو سیلابی پانی عام طور پر انڈیا سے آ کر پاکستان میں وسطی پنجاب کو متاثر کرتا تھا، ویسا نہیں ہوا۔

انڈیا کی جانب سے اس موسمِ گرما میں بھی چناب اور راوی میں پانی چھوڑا گیا، تاہم اس کی مقدار غیر معمولی نہیں تھی اور یہ پاکستان کے وسطی پنجاب میں تباہی کا باعث نہیں بنا۔

انڈیا کے محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق انڈیا کی وہ ریاستیں جن کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں اور جہاں سے پاکستان کے وسطی پنجاب میں بہنے والے دریا شروع ہوتے ہیں وہاں بھی گذشتہ تین ماہ کے دوران معمول یا اس سے کچھ کم بارش ہوئی ہے۔

سیلاب

،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock

انڈیا کے محکمہ موسمیات کی جانب سے شائع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق یکم جون سے 28 اگست کے درمیان انڈیا کے زیرِ انتظام جموں اور کشمیر میں معمول سے صرف 12 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں، انڈین پنجاب میں 11 فیصد کم اور ہماچل پردیش میں معمول سے پانچ فیصد کم بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔

اسی طرح صاحب زاد خان کی جانب سے شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق یکم جولائی سے 27 اگست کے درمیان پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں معمول سے تین فیصد کم بارش ہوئی۔

سیلاب

،تصویر کا ذریعہOCHA Asia Pacific

یوں جب پاکستان کے شمالی علاقوں میں بارش معمول سے کم ہوئی، تو پاکستان کے وسطی پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی مقدار معمول سے کم رہی ہے۔

صاحب زاد خان بتاتے ہیں کہ 'جہلم دریا اس وقت 55 فیصد خالی پڑا ہے اور حالات ایسے ہیں کہ ہیڈ رسول سے نیچے ہم پانی چھوڑ ہی نہیں رہے۔ اس سے ان علاقوں کی ری چارجنگ اتنی زیادہ نہیں ہو گی اور یوں ایسے علاقوں میں آنے والے دنوں میں پانی کی کمی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔'

وہ کہتے ہیں کہ ’ان دریاؤں میں پانی کا آنا پاکستان کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اس وقت پاکستان میں زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر ہوتی ہے۔‘