کالعدم تحریک طالبان کا یکطرفہ طور پر ایک ماہ سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان

سوات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس وقت دونوں جانب سے فائر بندی ہے لیکن مستقبل کیا ہو گا اس کے متعلق کوئی کچھ نہیں کہہ رہا
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس، پشاور

کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے یکطرفہ طور پر گذشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے ان فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا جن پر اتفاق ہوا تھا۔

گذشتہ رات کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ترجمان محمد خراسانی کی جانب سے میڈیا کو جاری پیغام میں جنگ بندی ختم کرنے کے فیصلے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا گیا کہ'حکومت پاکستان کی جانب سے اس ایک ماہ میں مذاکرات کی کامیابی کے لیے کوئی کوشش نہیں کی گئیں اس لیے جنگ بندی جاری رکھنا اب ممکن نہیں ہے۔'

حکومت پاکستان کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ بی بی سی نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے بھی اس معاملے پر رابطہ کیا لیکن ابھی تک ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کے بارے میں سب سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں گفتگو کی تھی جس کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ افغان طالبان ثالثی کا کاردار ادا کر رہے ہیں۔

اس کے بعد کالعدم تحریک طالبان اور حکومت پاکستان دونوں کی جانب سے مذاکرات کی تصدیق کی گئی اور گزشتہ ماہ ٹی ٹی پی نے جنگ بندی کا اعلان بھی کیا تھا۔

کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے یکطرفہ طور پر گزشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے ان فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا جن پر مزاکرات کے دوران اتفاق ہوا تھا۔

ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی اپنے پکڑے گئے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی اپنے پکڑے گئے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے

'جنگ بندی کے دوران کوئی رابطہ نہیں ہوا'

ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کی جو وجوہات بیان کی گئی ہیں ان میں قیدیوں کی رہائی نہ ہونا، عسکری کارروایوں کا جاری رہنا اور حکومت پاکستان کی جانب سے رابطوں کا فقدان شامل ہیں۔

حکومت اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے ایک ماہ مکمل ہونے پر طالبان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 25 اکتوبر کو افغان طالبان کی ثالثی میں ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے نمائندوں کا اجلاس ہوا۔ 'اس اجلاس میں جو فیصلے ہوئے ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔'

کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ترجمان محمد خراسانی کا خط میں کہنا تھا کہ 'اب تک نہ تو حکومت کی جانب سے کمیٹی کے پانچ اراکین کے نام آئے اور نا ہی ٹی ٹی پی اراکین کے ساتھ اس ایک ماہ کی جنگ بندی کے دوران کوئی رابطہ ہوا ہے۔'

ٹی ٹی پی کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت نے ان کے کچھ قیدیوں کو رہا کیا لیکن انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

'اب تک کالعدم تنظیم کے 102 اراکین کو رہا نہیں کیا کیا گیا اور مختلف علاقوں میں ٹی ٹی پی کے اراکین کے خلاف کارروائیاں بھی کی گئیں۔'

اس بیان میں تفصیل بیان کی گئی ہے کہ حکومت نے ان کے خلاف کہاں کہاں کاررائیاں کیں اور کتنے قیدی رہا کیے گئے جنھیں دوبارہ گرفتار کیا گیا ۔آخر میں کہا گیا ہے کہ ایسے حالات میں جنگ بندی کو توسیع دینا ممکن نہیں ہے ۔

سوات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس وقت دونوں جانب سے فائر بندی ہے لیکن مستقبل کیا ہو گا اس کے متعلق کوئی کچھ نہیں کہہ رہا

مذاکرات ابہام کا شکار رہے

حکومت پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے مذاکرات کی تصدیق کے باوجود یہ معاملہ کافی ابہام کا شکار رہا۔

بی بی سی کو وزیرستان سے ایسی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ طالبان کے ساتھ حکومت کے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں لیکن یہ مذاکرات حکومت کی جانب سے کون کر رہا ہے، اس پر ابہام تھا۔

قبائلی علاقے سے معتبر ذرائع نے بتایا کہ ان بالواسطہ مذاکرات میں حکومت اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہوا۔

ذرائع کے مطابق چند طالبان قیدیوں کو رہا بھی کیا گیا تھا۔ قبائلی علاقوں سے ذرائع نے بتایا کہ کم از کم دو طالبان قیدیوں کو رہا کر کے افغانستان کے شھر خوست پہنچا دیا گیا تھا تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

ذرائع نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ ان مذاکرات کے دوران ٹی ٹی پی سے علیحدہ دو گروہ ایسے تھے جن کے ساتھ مذاکرات میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ ان میں ایک منگل باغ کی کالعدم تنظیم لشکر اسلام پاکستان اور دوسرا گروپ حافظ گل بہادر کا تھا۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان اور شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات اور فائر بندی پر اپوزیشن کی جانب سے تنقید کے بعد عسکری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا انحصار ریاست کی جانب سے طے کردہ شرائط اور ریڈ لائنز پر ہو گا جو تحریک طالبان کے سامنے رکھی جا چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے

'ایک ماہ میں مذاکرات نہیں ہو سکتے'

بی بی سی نے ماضی میں ایسے مذاکرات کا حصہ رہنے والے افراد سے بات چیت کی تو انہوں نے بھی اس امر سے لا علمی کا اظہار کیا کہ یہ مذاکرات کہاں ہو رہے تھے اور کون کر رہا تھا۔

سابق سفارتکار اور تجزیہ کار رستم شاہ مہمند ماضی میں اس طرح کے مذکرات کا حصہ رہے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف شکایتوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ان پر بات چیت میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ مذاکرات ایک ماہ میں مکمل نہیں ہو سکتے ۔'

انھوں نے مزید کہا کہ ان کے اندازے کے مطابق ان مذاکرات کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے، لیکن اس میں وقت لگے گا کیونکہ دونوں اطراف کی اپنی اپنی مجبوریاں ہیں۔

'حکومت کا مطالبہ ہو سکتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے لوگ آئین کی بالادستی تسلیم کریں، عام شہریوں کی طرح پر امن رہیں ، یہاں قانون کے تحت زندگی گزاریں، کاروبار کریں تو حکومت انھیں کچھ نہیں کہے گی۔'

ان کا کہنا تھا کچھ انتہائی مطلوب لوگوں کے معاملے پر بات چیت میں زیادہ وقت درکار ہو گا کیونکہ حکومت چاہے گی کہ ان پر مقدمات جاری رہیں جب کہ طالبان کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ عام معافی کا اعلان سب کے لیے ہونا چاہیئے۔

رستم شاہ مہمند نے بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق اب ٹی ٹی پی پر افغان طالبان کا دباؤ بڑھ گیا ہے کیونکہ افغان حکومت نہیں چاہتی کہ ٹی ٹی پی کی وجہ سے ان کے حالات پاکستان حکومت سے خراب ہوں۔'افغان طالبان نہیں چاہتے کہ ان کی سر زمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہو۔'

رستم شاہ مہمند کے مطابق حکومت پاکستان چاہتی ہے کہ جتنا جلدی ہو سکے ٹی ٹی پی کے ساتھ معاہدہ ہو تاکہ 'قبائلی علاقوں میں امن قائم ہو سکے اور ترقیاتی کام شروع ہو سکیں۔' ساتھ ہی ساتھ اس معاہدے کی صورت میں افغانستان سے آنے والے پناہ گزین بھی واپس جا سکیں گے۔

ذاکرات عوامی سطح پر مقبول نہیں'

دفاعی امور کے ماہر اور تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ حکومت کے مذاکرات عوامی سطح پر زیادہ مقبول نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت بھی اس بارے میں کسی قسم کی بات نہیں کر رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد کافی حد تک حالات پر قابو پا لیا گیا تھا اور صرف شمالی وزیرستان اور باجوڑ کے کچھ مقامات باقی رہ چکے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ شمالی وزیرستان کے ساتھ افغانستان کی سرحد پر جدران قبیلہ حقانیوں کا علاقہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں موجودہ وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اس میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں 'نہیں لگتا کہ حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کرے گی یا ان کے مطالبات تسلیم کرے گی کیونکہ اب ان طالبان کی بقا خطرے میں ہے اور افغانستان میں بھی یہ کھل کر کام نہیں کر سکتے ۔'

ماضی میں افغانستان پاکستانی طالبان کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھی جاتی تھی کیوں کہ عسکری اداروں کی جانب سے دعوی کیا جاتا تھا کہ پاکستانی طالبان پاکستان میں کارروائی کر کے افغانستان فرار ہو جاتے تھے۔

'خدارا ان لوگوں کو پھر نہ لائیں'

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان کے مختلف شہروں میں متعدد حملوں کی ذمہ داریاں قبول کی تھیں جن میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ بھی شامل تھا۔اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ ان مذاکرات کے خلاف ہیں۔

آرمی پبلک سکول پر حملے میں شدت پسندوں کی گولیوں کا نشانہ بننے والی استانی سعدیہ گل خٹک کے والد گل شہزاد خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ 'پاکستان ایک آزاد ریاست ہے اور اس کا اپنا آئین اور قانون ہے، جو اس کے خلاف ورزی کرتا ہے اسے سزا دی جاتی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ٹی ٹی پی کے لوگ مجرم ہیں، انھیں حکومت پکڑ کر عدالت میں پیش کرے اور اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو سخت سے سخت سزا دینی چاہیے۔'

اس واقعہ میں کے ایک اور متاثرہ خاندان اجون ایڈووکیٹ کا ہے، جن کے بیٹے اسفندیار کی جان اس حملے میں چلی گئی تھی۔

اسفندیار کی بہن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے روتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے خلاف ہیں۔

'خدارا ان لوگوں کو پھر نہ لائیں بلکہ ان لوگوں کو سخت سے سخت سزائیں دیں، تاکہ آئندہ کوئی اس طرح سوچنے کی کوشش بھی نہ کر سکے۔'