جمشید اقبال: محکمہ جنگلات کا وہ اہلکار جس کے خون میں جنگلات سے محبت اور درختوں کی حفاظت شامل تھی

،تصویر کا ذریعہChitral Forest Fire
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع لوئر چترال کی تحصیل دروش کے جنگلات میں لگی آگ پر قابو تو پا لیا گیا ہے لیکن آگ بجھانے کی کوشش میں رضا کارانہ طور پر حصہ لینے والے محکمہ جنگلات کے اہلکار جمشید اقبال اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
عینی شاہد اور محکمہ جنگلات چترال کے فارسڑ محمد عالمگیر کے مطابق حادثہ جمعے کی شام پیش آیا۔
’بارش کی وجہ سے جنگل میں پھسلن تھی۔ ہم واپسی کے راستے پر تھے کہ جمشید اقبال کا پاؤں پھسلا اور کم از کم وہ آٹھ سو میٹر کھائی میں جا گرے۔‘
محمد عالمگیر کے مطابق ان کو امدادی کارکنان کی مدد سے کھائی سے نکال کر ہسپتال پہنچایا گیا، جہاں پر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
محمد عالگمیر نے بتایا کہ جشمید اقبال دروش ہی کے رہائشی تھے۔
’آگ لگنے کی اطلاع نے ان کو بے چین کر دیا اور انھوں نے خود مجھے پیغام بھیج کر کہا کہ وہ آگ بجھانے کے آپریشن میں حصہ لینا چاہتے ہیں حالانکہ ان کی ڈیوٹی کسی اور مقام پر تھی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے بھی جمشید اقبال کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ یہ ہمارے ہیروز ہیں جو ہمارے جنگلات کی حفاظت کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہChitral Forest Fire
جمشید اقبالجنگلات سے محبت کرتے تھے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد عالمگیر نے بتایا کہ وہ اور جمشید اقبال نہ صرف ایک ہی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ دونوں نے محکمہ جنگلات میں دس سال قبل ایک ساتھ شمولیت اختیار کی تھی۔ دونوں اپنے اپنے فرائض بھی تقریباً ایک ہی مقام پر ادا کرتے رہے تھے۔
جمشید اقبال نے سوگواروں میں دو بیٹے اور بیوہ چھوڑی ہیں۔
محمد عالمگیر کا کہنا تھا کہ بحیثیت فارسڑ جنگلات کی حفاظت کرنا ہمارے فرائض میں شامل تھا مگر جنگلات سے محبت اور درختوں کی حفاظت جمشید کے خون میں شامل تھی۔
’وہ اپنے فرائض کے اوقات سے زیادہ کام کرتے تھے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ہمیں قدرت نے موقع دیا ہے کہ قدرت کے ان خزانوں کی حفاظت کریں تو اس میں ہمیں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔‘
محمد عالمگیر کا کہنا تھا کہ وہ درختوں اور جنگلات کی حفاظت اپنے بچوں سے بڑھ کر کرتے تھے۔
’کئی مرتبہ ایسے ہوا کہ بااثر لوگوں نے جنگلات کو نقصان پہچانے کی کوشش کی تو جمشید ان کے راستے کی رکاوٹ بن گئے۔ کئی مرتبہ ایسے ہوا کہ ان کی ہمت کی وجہ سے جنگلات بڑے نقصان سے بچے۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہChitral Forest Fire
جنگلات میں لگی آگ پر خفا
محمد عالمگیر بتاتے ہیں کہ انھیں 18 اگست کی شام کو اطلاع ملی کہ جنگلات میں آگ لگی ہوئی ہے۔ جس کے بعد انھوں نے مقامی رضاکاروں کی مدد حاصل کرنے کے لیے مقامی آبادیوں میں اعلان کروائے اور 19 اگست کو علی الصبح دو ٹیمیں روانہ کی گئیں۔
’ایک ٹیم صبح سویرے اذان کے بعد روانہ ہو گئی جبکہ میں اور جمشید تقریباً سات بجے روانہ ہوئے۔ اس دوران جمشید آگ لگنے پر بہت خفا تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے یہ قیمتی خزانے کا بہت بڑا ضیاع ہے، جس کا کوئی مداوا نہیں۔‘
محمد عالمگیر کے مطابق جنگلات کی طرف زیادہ راستہ پیدل ہے۔
’جمشید خود بھی تیز تیز چل رہے تھے اور ہم سب کو بھی کہہ رہے تھے کہ ہم تیز چلیں تاکہ موقع پر پہنچ کر آگ کو قابو کرنے کے اقدامات کیے جا سکیں۔‘
محمد عالمگیر نے بتایا کہ جنگل میں آگ بجھانے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ آگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
’اس کے لیے کھدائی کی جاتی ہے اور مختلف تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔ جمشید موقع پر پہنچتے ہی کام میں جت گئے۔‘
’وہ دو دو تین تین لوگوں کا کام کر رہے تھے اور کام کرنے والے تمام لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے تھے۔ ساتھ میں بارش کی بھی دعا کر رہے تھے۔ ہم لوگوں کو کام کرتے ہوئے چند گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ بارش شروع ہو گئی۔ جس سے آگ تھم گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہChitral Forest Fire
آگ سے ہونے والا نقصان
محکمہ جنگلات چترال کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بارے میں تفصیلی رپورٹ بعد میں مرتب کر کے ارسال کی جائے گئی تاہم مقامی لوگوں کے مطابق آگ سے جنگلات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
شاہین شاہ تحصیل دروش کے رہائشی اور سوشل ورکر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جنگلات میں دو، تین روز تک آگ لگی رہی۔
انھوں نے بتایا ’آگ کے شعلے لوگوں نے دور آبادیوں سے دیکھے تھے۔ اس آگ سے چار، پانچ گھروں پر مشتمل ایک آبادی بھی متاثر ہوئی لیکن وہ بعد میں محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے۔‘
’باقی کی آبادیاں تین چار کلو میٹر دور واقع ہیں تو آگ ان تک نہیں پہنچی تھی۔ زیادہ تر یہ آگ پہاڑوں پر واقع جنگلات تک پھیل رہی تھی۔‘
شاہین شاہ کے مطابق آگ لگنے کے بعد مقامی لوگ بھی موقع پر پہنچ گئے تھے۔
’آگ کی تپش اتنی زیادہ تھی کہ لوگ آگ لگنے والی جگہ سے تقریباً آدھ کلو میٹر دور رہنے پر مجبور تھے۔ دور رہ کر ہی یہ لوگ آگ کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کے پاس بھی آگ بجھانے کے کوئی مناسب آلات نہیں تھے، جس وجہ سے آگ پھیل رہی تھی مگر اس وقت غیبی مدد مل گئی اور بارش کی وجہ سے آگ قابو میں آ گئی۔
شاہین شاہ کے مطابق آگ سے چووندیری اور زرین کے جنگلات کو بہت زیادہ نقصان پہنچا جبکہ دروش اور اس کے اردگرد جنگلات کو بھی نقصاں ہوا۔
’یہ جنگلات تیار ہونے میں کئی سو سال لیتے ہیں۔ ان جنگلات کی تباہی سے ہم کئی سو سال پیچھے چلے گئے ہیں۔‘










