بھارتی ماہی گیروں کو رہائی کے بعد وطن واپسی کے لیے روانہ کر دیا گیا

بھارتی ماہی گیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ہفتے ہیں 145 بھارتی ماہی گیروں کو کراچی کی جیل سے رہا کر کے واپس ان کے ملک بھیجا گیا تھا

پاکستان کے شہر کراچی کی ایک جیل سے ایک سو چالیس سے زیادہ بھارتی ماہی گیروں کو رہا کر کے انڈیا کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔ ان ماہی گیروں کو آٹھ ماہ قبل پاکستانی سمندری حدود میں مچھلیاں پکڑتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔

گذشتہ ہفتے میں پاکستان سے رہا ہونے والا یہ دوسرا بڑا گروہ ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں خیر سگالی کے جذبے کے تحت چھوڑا گیا ہے۔

کراچی میں ایدھی فاؤنڈیشن کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ رہا ہونے والے گروہ کے اراکین یہاں سے انڈیا کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیئے

انڈیا اور پاکستان میں حقوقِ انسانی کے سرگرم کارکن ماہی گیروں کی رہائی کے متعلق بہت عرصے سے مہم چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غریب ماہی گیروں کو غلطی سے سمندری سرحد پار کرنے پر گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

ماہی گیر، سندھ
،تصویر کا کیپشنانڈس ڈیلٹا پر بسنے والے خاندانوں کے مردوں کے پاس دریا پر جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے

بی بی سی کی شمائلہ جعفری نے کچھ ماہ پہلے ایک رپورٹ میں دونوں ممالک کے ماہی گیروں کے گھر والوں پر ایک رپورٹ تیار کی تھی جس میں ان خاندان والوں کی مشکلات کا ذکر کیا گیا تھا کہ کس طرح ان غریب ماہی گیروں کے گھر والے اپنے پیاروں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اکثر قیدی ماہی گیر اپنے گھروں کے واحد کفیل ہوتے ہیں۔ ان کی قید کے بعد ان کی بیویوں اور ماؤں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ یا تو سمندر میں جا کر مچھلیاں پکڑیں یا گلیوں میں جا کر بھیک مانگیں۔

جھنگی سر، سندھ
،تصویر کا کیپشنماہی گیروں کے خاندان والے اپنے پیاروں کا انتظار کرتے رہتے ہیں

پاکستان اور انڈیا نے ماہی گیروں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تھا۔

تجویز دی گئی تھی کہ اس کمیشن کے ارکان کو سال میں ایک مرتبہ ان جیلوں کا دورہ کرنا چاہیے جن ماہی گیر قید ہوتے ہیں۔ انھیں ان کی معاونت کرنے کے لیے ان تک رسائی ملنی چاہیے۔ ماہی گیروں کو بہتر خوراک، علاج معالجے کی سہولت اور جیل میں رہنے کی بہتر سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔

ان میں سے کسی بھی تجویز پر شاذو نادر ہی کبھی عمل کیا جاتا ہے۔

دونوں ممالک نے اس بین الاقوامی معاہدے پر بھی دستخط کر رکھے ہیں جس کی رو سے ماہی گیروں کو گرفتار کرنا ممنوع ہے تاہم یہ دونوں ملک اسے نظر انداز کرتے ہیں۔

ہر چھ ماہ بعد قیدی ماہی گیروں کے معاملے کے حل کے لیے مذاکرات ہوتے ہیں تاہم پیش رفت بہت سست روی سے ہوتی ہے۔