ماہی گیری، دھتکاری ہوئی بیویوں کا ذریعہِ معاش

یہ تصاویر دیپتی آستانہ کی ہیں، جس میں انھوں نے ایسی ماہی گیر خواتین کے روز و شب کی عکس بندی کی جنھیں اُن کے شوہر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

مچھیرے

،تصویر کا ذریعہDeepti Asthana

،تصویر کا کیپشنمتوکارایپیا کی عمر 52 سال ہے۔ اُن کے شوہر نے 24 سال پہلے انھیں چھوڑ دیا تھا لیکن باقاعدہ طلاق نہیں دی تھی۔ شوہر کے جانے کے بعد انھوں نے ماہی گیری کر کے اپنے بچیوں کا پیٹ پالا۔ وہ انڈیا کی ریاست تمل ناڈو کے ایک دیہات میں رہتی ہیں
مچھیرے

،تصویر کا ذریعہDeepti Astana

،تصویر کا کیپشناُن کی بیٹیاں اب امودا اور سلوا جوان ہو گئی ہیں لیکن جس وقت ان کے والد انھیں چھوڑ کر گئے تھے تو اُن کی عمر دو اور پانچ سال تھی۔ دیہات میں موجود دیگر لڑکیوں کی طرح اُن کے پاس بھی بہتر زندگی گزارنے کے چند مواقعے ہی موجود ہیں۔ ان دونوں کی شادی 18 سال سے کم عمر میں ہو گئی تھی
مچھیرے

،تصویر کا ذریعہDeepti Asthana

،تصویر کا کیپشنسلوا جب آٹھ برس کی تھیں تب سے وہ اپنی ماں کے ساتھ کام پر جا رہی ہیں۔ وہ کبھی سکول نہیں گئیں۔ انھیں کم عمری میں ہی اپنے ہمسائے سے محبت ہو گئی اور 14 سال کی عمر میں وہ حاملہ ہو گئی تھیں۔ اُن کی شادی ہوئی لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد اُن کے شوہر انھیں چھوڑ گئے تھے اور باقاعدہ طور پر طلاق لینے کے لیے انھیں آٹھ سال تک کوشش کرنا پڑی۔
مچھیرے

،تصویر کا ذریعہDeepti Asthana

،تصویر کا کیپشنسلوا کا بیٹا اب 14 سال کا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اُس نے کبھی بھی اپنے والد کے بارے میں نہیں پوچھا ہے۔ وہ نہیں چاہتیں کہ اُن کا بیٹا بڑے ہو کر ماہی گیر بنے۔ وہ چاہتی ہیں کہ وہ دفتر میں کام کرے
مچھیرے

،تصویر کا ذریعہDeepti Asthana

،تصویر کا کیپشنسلوا کی دوسری بہن امودا نے سکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ آگے بھی پڑھنا چاہتی تھیں لیکن اُن کی ماں تعلیم کے اخراجات پورے نہیں کر سکتی تھیں کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ ماہی گیری میں امودا ان کی مدد کریں۔
مچھیرے

،تصویر کا ذریعہDeepti Asthana

،تصویر کا کیپشنامودا کے دو بچے ہیں۔ اُن کے شوہر بھی دو سال قبل انھیں چھوڑ گئے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ شراب نوشی کی وجہ سے اُن کی کافی لڑائی ہوتی تھی۔ انڈیا کے دیہی علاقوں میں عمومی طور پر طلاق، بیوی کا نان نقطعہ اور بچوں کے حصول کے لیے قانون طریقہ کار اختیار نہیں کیا جاتا ہے۔ اور گاؤں کے بڑے ان مسئلوں کے حل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں
مچھیرے

،تصویر کا ذریعہDeepti Asthana

،تصویر کا کیپشنگاؤں کی لڑکیاں کم عمری ہی میں ماہی گیروں شروع کر دیتی ہیں۔ خاندان لڑکیوں کے جہیز کے لیے شروع ہی سے رقم جمع کرنا شروع کر دیتے ہیں
مچھیرے

،تصویر کا ذریعہDeepti Asthana

،تصویر کا کیپشنتمل ناڈو کے اس چھوٹے سے دیہات میں خواتین ماہی گیروں کی زندگی بہت مشکل ہے۔ ہردس میں سے ایک خاتون کو اُس کا شوہر چھوڑ کر جا چکا ہے۔ اگرچہ شادی کو اُن کی زندگی میں بہت اہمیت حاصل ہے اس لیے شوہر سے علیحدگی کے بعد انھیں امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ اُن شادی دوبارہ ہو.