Hello, Hola کیسے بنا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جس طرح ایک جسم میں خلئیے (cells) بنتے اور مٹتے رہتے ہیں اسی طرح ایک زندہ زبان میں بھی الفاظ بنتے بگڑتے اور متروک ہوتے رہتے ہیں۔ زندہ زبان سے مراد وہ زبان ہے جسے لوگ ترسیلِ خیالات کے لئے استعمال کرتے ہیں جبکہ مردہ زبانیں وہ ہیں جن کا عملی استعمال اب ختم ہو چکا ہے اور لوگ تحریر و تقریر کے لئے اب انہیں استعمال نہیں کرتے مثلا سنسکرت اور لاطینی یہ دونوں زبانیں ماضی میں علم و ادب کی زبانیں تھیں اور قدیم علوم کے بہت سے اہم ذخائر انہی زبانوں میں محفوظ ہیں یورپ کی زندہ زبانوں میں بہت سے ایسے الفاظ ہیں جن کی جڑیں ہمیں لاطینی یا قدیم یونانی زبانوں میں ملتی ہیں۔ ہر زندہ زبان جہاں قدیم زبانوں سے رس حاصل کرتی ہے وہیں اپنے آس پاس کی زبانوں سے بھی متاثر ہوتی ہےمثلا اُردو میں اگر قدیم مقامی بھاشاؤں اور سنسکرت کے الفاظ کا سراغ ملتا ہے تو بعد میں اس نے فارسی اور عربی سے بھی استفادہ کیا ہےاور آج کی پاکستانی اُردو میں پنجابی اور دیگر مقامی زبانوں کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ انگریزی بھی ایک زندہ زبان ہے۔ اسکا علمی اور ادبی ذخیرہ الفاظ اگرچہ یورپ کی کلاسیکی زبانوں سے آیا ہے لیکن دنیا بھر پر انگریزوں کی حکومت کے باعث انگریزی کو دنیا کی مختلف زبانوں سے واسطہ پڑتا رہا اور اور یوں کئی زبانوں کے الفاظ انگریزی میں شامل ہوتے رہے۔ مضامین کے اس نئے سلسلے میں ہم انگریزی کے کچھ لفظوں کی تاریخ کھنگالیں گےاور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آج کی جدید شکل اختیار کرنے سے پہلے یہ الفاظ ارتقا کی کن کن منزلوں سے گزرے ہیں۔ کیا آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ آج کل انگریزی کا سب سے زیادہ بولا جانے والا لفظ کونسا ہے؟ ’Hello‘ جی ہاں۔ تو آئیے ہم اپنی کھوج کا آغاز اسی لفظ سے کرتے ہیں۔ ’Hola‘ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ قدیم فرانسیسی لفظ ’Hola‘ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ’کیسے ہو‘ اور یہ فرانسیسی لفظ غالباً 1066 عیسوی کے نارمن حملے کے وقت انگلستان پہنچا تھا۔ لیکن دو تین صدیوں میں اس لفظ کی صورت خاصی تبدیل ہو گئی ہے اور انگریز شاعر چاسر کے زمانے تک یعنی 1300 کے بعد یہ لفظ Hallow کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ مزید دو سو سال گزرنے پر یعنی شخصپیر کے زمانے میں یہ لفظ Halloo کی صورت میں ڈھل گیا۔ اور شکاریوں اور ملاحوں کے ہتھے چڑھا تو اِس لفظ کی بہت سی شکلیں نمودار ہوئیں مثلاً Halloa, hallooa, hollo سن 1800 تک اِس لفظ کی ایک خاص شکل متعین ہو چکی تھی اور وہ تھیHullo کچھ عرصے کے بعد جب ٹیلی فون ایجاد ہوگیا تو اِس لفظ کو نئی زندگی ملی۔ شروع شروع میں جب اِس آلے کی کارکردگی مشکوک تھی تو ہیلو کہنے کی بجائے لوگ پوچھا کرتے تھے ?Are you there لیکن معروف امریکی موجد تھامس ایڈسن کو اتنا لمبا جملہ پسند نہ تھا۔ اُس نے جب پہلی مرتبہ فون کیا تو اُسے یقین تھا کہ دوسری جانب اُس کی آواز پہنچ رہی ہے چناچہ اُس نے صرف اتنا کہا Hello وہ دن اور آج کا دن ــ دنیا بھر میں ہم ٹیلی فونی گفتگو کا آغاز اسی لفظ سے کرتے ہیں۔ اس سلسلے کے آئندہ مضامین میں ہم انگریزی کے بہت سے الفاظ کی دلچسپ تاریخ بیان کریں گے۔پڑھتے رہئیے اور اپنی رائے سے ہمیں بھی آ گاہ رکھئیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||