انگریزی جملے کی ساخت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہر زبان میں جملے کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایک زبان سے دوسری زبان میں جملہ منتقل کرتے ہیں تو لفظی ترجمے پر انحصار نہیں کرتے بلکہ جملے کے مزاج کو ادا کرنے کے لیے لفظوں کی ترتیب میں ردوبدل کر دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی جملے کا موازنہ کئی سطحوں پر ہو سکتا ہے۔ سب سے بنیادی فرق تو فعل، فاعل اور مفعول کی ترتیب کا ہے۔ انگریزی جملے میں ان عناصر کی ترتیب یوں ہوتی ہے: subject - verb- object مثلاً یہ جملہ دیکھیے۔ Jameel eats bread جمیل روٹی کھاتا ہے۔ اس میں جمیل فاعل ہے یعنی subject جیسا کہ آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ اردو جملے میں فاعل کے فوراً بعد مفعول آ جاتا ہے اور فعل آخر میں چلا جاتا ہے۔ اردو میں ایک طویل اور مرکب جملہ مرتب نہ ہو سکنے کی ایک وجہ فاعل، مفعول اور فعل کی یہ ترتیب بھی ہے۔ فاعل اور فعل جملے کے بنیادی اجزا ہوتے ہیں اور ان کی مدد سے مفہوم کی ایک مختصر ا کائی وجود میں آ سکتی ہے۔ مثلاً ’جمیل کھاتا ہے‘ اپنے طور پرمفہوم کی ایک مکمل ا کائی ہے ۔ اسکی مزید وضاحت کرتے ہوئے ہم بتا سکتے ہیں کہ جمیل کیا کھاتا ہے، کہاں کھاتا ہے، کب کھاتا ہے اور کیسے کھاتا ہے۔ لیکن اردو جملے میں یہ تمام معلومات ہمیں جمیل (فاعل) اور کھاتا ہے (فعل) کی درمیانی جگہ میں فِٹ کرنی ہونگی اور ایسا کرنے میں ہم جملے کو بہت بوجھل کر دیں گے۔ جمیل کے روٹی کھانے کا عمل اگر ہم تفصیل سے بیان کریں تو اردو میں کچھ اسطرح کا جملہ وجود میں آسکتا ہے: اس جملے میں قباحت یہ ہے کہ فاعل (جمیل) اپنے فعل (کھاتا ہے) سے بہت دور ہو گیا ہے ۔ لیکن انگریزی میں یہ جملہ اس لئے برا نہیں لگتا کہ پہلے ہی دو لفظوں میں فاعل اور فعل کا ملاپ ہو جاتا ہے (Jameel eats) اور اسکے بعد آپ تمام ضمنی معلومات ایک ایک کر کے فراہم کرتے چلے جاتے ہیں : جمیل کیا کھاتا ہے، کیسے کھاتا ہے، کب کھاتا ہے، کہاں کھاتا ہے ، اردو جملے میں آپکو یہ تمام معلومات’جمیل‘ اور ’کھاتا ہے‘ کی درمیانی جگہ میں ٹھونسنی پڑیں گی، لیکن انگریزی جملے میں چونکہ ایسی کوئی مجبوری نہیں ہوتی اس لئے طویل اور مرکب جملہ بھی انگریزی میں قابلِ برداشت بن جاتا ہے۔ چونکہ ان مضامین میں ہمارا بنیادی مقصد انگریزی جملے کی ساخت کا مطالعہ کرنا ہے اس لئے آیندہ نشست میں ہم دیکھیں گے کہ انگریزی جملے میں اسمائے صفت (adjectives) کی ترتیب کیا ہوتی ہے اور متعلق افعال (adverbs) کس ترتیب میں آتےہیں۔ (یہ مضمون ہمارے نئے سلسلے ’پروفیسر گرامر‘ کی پہلی کڑی ہے۔ ان مضامین میں انگریزی گرامر کے بنیادی اصول عملی مثالوں کے ساتھ واضح کئے جائیں گے) |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||