adjectives کی ترتیب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلی نشست میں ہم نے اردو اور انگریزی جملے کا موازنہ کرتے ہوئے محسوس کیا تھا کہ انگریزی جملے میں پیچیدہ خیالات اور ایک سے زائد تصورات بیک وقت بیان کیے جا سکتے ہیں جکہ اردو جملہ فعل، فاعل اور مفعول کی مخصوص ترتیب کے باعث گوناں گوں خیالات کو خود میں سمونے سے قاصر رہتا ہے۔ اسی وجہ سے اردو میں ہم خیال کے مختلف پہلوؤں کو الگ الگ جملوں میں بیان کرنا پسند کرتے ہیں۔ آج کی نشست میں ہمیں اسمائے صفت یعنی adjectives کے بارے میں بات کرنی ہے۔ اردو جملے میں اگر دو سے زیادہ adjectives ایک ساتھ آ جائیں تو جملہ بوجھل محسوس ہوئے لگتا ہے جبکہ انگریزی جملہ تین چار adjectives کو آسانی سے سہار لیتا ہے۔ اس موقع پر ایک وضاحت ضروری ہے کہ ان گزارشات کا مقصد انگریزی کی توصیف یا اردو کی تنگ دامانی کا شکوہ کرنا نہیں بلکہ دونوں زبانوں میں جملوں کی ساخت کا مطالعہ کرنا ہے۔ تو آئیے آج کی گفتگو کا آغاز ایک انوکھے لفظ سے کرتے ہیں اور وہ لفظ ہے: OPSHACOM یقیناً آپ اس لفظ کا مطلب نہیں جانتے ہوں گے اور ڈکشنری میں ڈھونڈنے کی کوشش بھی مت کیجیئے کیونکہ یہ لفظ ایک خاص مقصد کے لیے ایجاد کیا گیا ہے۔ انگریزی جملے میں جب بہت سے adjectives آ جائیں تو وہ ایک خاص ترتیب میں نمودار ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر ہمارے پاس ایک خوبصورت چھوٹی نیلی پینسل ہے جو کہ جاپان میں بنی ہے تو ان صفات کا بیان اس ترتیب میں ہو گا۔ a beautiful small blue Japanese pencil اگرچہ عام طور پر انگریزی جملے میں تین سے زیادہ adjectives استعمال نہیں کیے جاتے لیکن اصول کو سمجھنے کے لیے ہم ایک طویل اور مصنوعی جملے کی مثال لیتے ہیں۔ a beautiful long new black British plastic pen اس جملے میں پین کی جو خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ایک مخصوص ترتیب میں سامنے آئی ہیں۔ سب سے پہلے ہم نے پین کے بارے میں رائے دی ہے کہ وہ خونصورت ہے، پھر اس کا سائز بتایا ہے۔ اس کے بعد اس کے نئے یا پرانے ہونے کا ذکر ہے، پھر اس کا رنگ بتا کر اس جگہ کا بتایا ہے جہاں یہ پین بنا تھا۔ اور آخر میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ پین کس چیز کا بنا ہے۔ ان سب باتوں کو یاد رکھنے کے لیے ہمیں adjectives کی مندرجہ ذیل ترتیب یاد رکھنی ہو گی: OPinion -- SHape -- Age -- Colour -- Origin -- Material -- noun اس ترتیب کو یاد رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہر لفظ کے ابتدائی حروف لے کر جوڑ لیے جائیں اور اس طرح جو لفظ وجود میں آئے اُسے زبانی یاد کر لیا جائے۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ عجیب و غریب لفظ OPSHACOM کیونکر وجود میں آیا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہم نے جو ترتیب بتائی ہے وہ ایک عمومی ترتیب ہے، خاص مواقع پر جب کسی ایک خصوصیت پر زور دینا ہو تو اس ترتیب میں رد و بدل بھی کر لیا جاتا ہے۔ اب ہم آپ کی مشق کے لیے دس جملے دے رہے ہیں۔ آپ کو ان جملوں میں adjectives کی ترتیب درست کرنی ہے۔ مثال: a (red lovely) dress اس کی صحیح ترتیب یوں ہو گی۔ a lovely red dress مشق: |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||