’فوج سے اختیارات کی واپسی شروع‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں فوج کو خصوصی اختیارات دینے والے قانون آرمڈ سپیشل پاورز ایکٹ کو ہٹانے کے عمل پر کام شروع کر دیا ہے۔ یہ بات ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹر پارٹی کی جانب سے انسانی حقوق کے بارے میں شروع کی گئی بحث کے دوران کہی ہے۔ عمر عبد اللہ نے اسمبلی کے اراکین کو بتایا’ہم نے آرمڈ سپیشل پاورز ایکٹ اور ڈسٹربڈ ایریاں ایکٹ سے متعلق کام شروع کر دیا ہے‘۔ ایوان میں وادی کے بیشتر اراکین فوج کو دیے گئے خصوصی اختیارات کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوج کو اس کے کیمپوں ميں واپس بھیج دیا جائے۔ عمر عبد اللہ نے مزید کہا ’پہلا قدم اٹھاتے ہوئے سرینگر میں سی آر پی ایف کی جگہ ریاستی پولیس کو تعینات کیا گیا ہے‘۔ اس سے قبل حزب اختلاف کی جماعت پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی نے حکومت پر سخت الفاظ میں نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا’ کشمیر میں لوگوں کو گھروں سے زبردستی نکالا جاتا ہے اور ختم کر دیا جاتا ہے، اس عمل سے کشمیر میں دہشت کا ماحول بنایا جا رہا ہے، اسے فوری طور پر روکا جائے‘۔ محبوبہ نے مزید کہا کہ حکومت کو فورا فوج کو دیے گئے خصوصی اختیارات واپس لینا چاہيں ’اس سے کم میں کشمیری عوام کو سکون نہيں مل سکے گا‘۔ فوج کو حاصل خصوصی اختیارات انہیں متنازع علاقوں میں آپریشن کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ کشمیر میں فوج کو یہ خصوصی اختیارات جولائی 1990 میں دیے گئے تھے۔ | اسی بارے میں کشمیر: ہڑتال اور سیکورٹی پابندیاں25 February, 2009 | انڈیا کشمیر: چار شدت پسند ہلاک31 January, 2008 | انڈیا محاصرہ ختم ہونے کے بعد مظاہرے25 December, 2007 | انڈیا ’حالات جلد معمول پر آ جائیں گے‘22 November, 2007 | انڈیا کشمیر: میجر سمیت چھ ہلاک09 November, 2007 | انڈیا فوجی مداخلت کی سالگرہ پر احتجاج27 October, 2007 | انڈیا کشمیر: دو میجرز سمیت 12 ہلاک03 October, 2007 | انڈیا کرکٹ: کشمیر میں فرقہ وارانہ کشیدگی25 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||