BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 September, 2007, 16:33 GMT 21:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرکٹ: کشمیر میں فرقہ وارانہ کشیدگی

کشمیر فائل فوٹو
انتظامیہ نے کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس کو چوکسی کا حکم دے دیا ہے
ٹوئنٹی ٹوئنٹی فائنل میں ہندوستان کی فتح اور پاکستان کی ہار کے بعد انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے بعض اضلاع میں فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوئے ہیں جن میں دو پولیس افسروں اور کئی پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں شہری زخمی ہوگئے ۔ اس دوران سرینگر میں بھی پتھراؤ اور فائرنگ کے واقعات رونما ہوئے۔

کنٹرول لائن کے قریب واقع ضلع راجوری کے رہائشی شفیق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ رات ساڑھے آٹھ بجے جب میچ کا فیصلہ انڈیا کے حق میں ہوا تو ہندو فرقہ پرست تنظیموں شیو سینا اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے مرکزی جامع مسجد کے باہر پٹاخے چلائے اور آتش بازی کی جس سے تراویح میں مصروف نمازی برہم ہوگئے۔

شفیق کا کہنا ہے کہ ’ بعد میں کچھ بزرگ لوگ باہر آئے اور مشتعل نوجوانوں کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن اس کے ردعمل میں کارکنوں نے مسجد کے اندر پٹاخے پھینکے جس سے حالات کشیدہ ہوگئے اور مقامی لوگوں نے شیو سینا اور بجرنگ دل کے کارکنوں کا تعاقب کیا‘۔

مقامی پولیس کے مطابق بعد میں مقامی مسلمانوں نے جلوس نکالنے کی کوشش کی جسے روکنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ پولیس مظاہرین کے درمیان ہوئے تصادم میں کئی پولیس اہلکاروں سمیت تیرہ شہری جن میں اکثریت طلبا کی ہے زخمی ہوگئے۔

 شہر میں پولیس اور نیم فوجی عملہ فیلگ مارچ کررہا ہے اور مقامی آئین کی دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کردی گئی ہے، جسکی رو سے کسی بھی جگہ چار افراد کے اجتماع پر پاپندی عائد کردی گئی ہے
ضلع انتظامیہ

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے بھی جلوس نکالنے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنادیا۔ قابل ذکر ہے کہ راجوری میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔

راجوری کے ڈپٹی کمیشنر محمد رفیق شیخ کے مطابق ضلع میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور انتظامیہ نے کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس کو چوکس رہنے کا حکم دے دیا ہے۔

مسٹر شیخ نے بی بی سی کو فون پر بتایا ’حالات تو قابو میں ہیں لیکن اگر ضرورت پڑی تو ہم کرفیو لگانے کے انتظام کرچکے ہیں‘۔

ضلع انتظامیہ کےایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں پولیس اور نیم فوجی عملہ فیلگ مارچ کررہا ہے اور مقامی آئین کی دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کردی گئی ہے، جسکی رو سے کسی بھی جگہ چار افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

دریں اثناء جموں میں ہی ہندوؤں کے اکثریتی ضلع ریاسی سے بھی انڈوپاک میچ کا فیصلہ ہونے کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی کی اطلاع ہے۔ ضلع کے ڈپٹی کمشنر سنجیو ورما نے بی بی سی کوبتایا کہ ’فتح کے جلوس پر تو مسلم شہریوں نے گل باری کی ، لیکن کچھ غلط فہمی کی وجہ سے بعض نوجوانوں کے بیچ ہاتھا پائی ہوگئی اب حالات قابو میں ہیں‘۔

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مسجدوں میں نماز تراویح کے دوران ہندو نوجوانوں کی ایک ٹولی نے مقامی مسجد پر پٹاخے پھینکنے کے بعد اندر داخل ہونے کی کوشش کی جس کے بعد دونوں گروہوں کے درمیان تصادم ہوگیا۔

 اس دوران سرینگر کی مرکزی فوجی چھاؤنی بادامی باغ سے ملحقہ بستی سونہ وار کے رہائشیوں نے بتایاکہ میچ ختم ہوتے ہی فوجی اہلکاروں نےفضا میں فائرنگ کی جس سے علاقہ لرز اُٹھا

پولیس کا کہنا ہے کہ مشتعل ہجوم کو فوراً منتشر کردیا گیا لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رات بھر مسلم باشندے اس ’سینہ زوری‘ کے خلاف احتجاج کرتے رہے۔

پونچھ اور راجوری میں بی جے پی کے سینئر لیڈر کلدیب راج گپتا نے جموں سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’ کچھ لڑکوں نے فتح کی خوشی میں جلوس نکالا، راستے میں مسجد پڑتی ہے، مسجد کے کچھ لوگوں نے لڑکوں کو تھپڑ مارے اور پھر ہنگامہ ہو گیا۔

بعد میں رات بھر پولیس نے فائرنگ کی اور مسلم ہجوم نے تین ہندوؤں کی دکانیں لوٹ لیں۔’ تاہم ضلع کمشنر نے کسی قسم کے لوٹ مار کی تصدیق نہیں کی ہے‘۔

اِدھر سرینگر کے پائین شہر میں جامع مسجد علاقے میں بھی کچھ نوجوانوں نے پاکستان کی ہار پر پیر کی شب برہمی کا اظہار کیا اور سرکاری املاک پر پتھراؤ کیا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ’ نوجوانوں کی اس مشتعل ٹولی کو فوراً منتشر کیا گیا، واقعہ میں کوئی زخمی نہیں ہوا‘۔

اس دوران سرینگر کی مرکزی فوجی چھاؤنی بادامی باغ سے ملحقہ بستی سونہ وار کے رہائشیوں نے بتایاکہ میچ ختم ہوتے ہی فوجی اہلکاروں نےفضا میں فائرنگ کی جس سے علاقہ لرز اُٹھا۔

تاہم فوجی ترجمان کرنل انِل کمار ماتُھر نے بتایا کہ ’ لڑکوں نے پٹاخے چلائے ہونگے، فائرنگ تو نہیں ہوئی۔ ہندوستان جیتے یا پاکستان یہ تو گھر کی بات ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد