BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تعلیم کی جگہ کرکٹ کو ترجیح دی‘
کشمیر میں کرکٹ سٹیڈیم
کشمیر میں کرکٹ ایک مقبول کھیل بنتا جا رہا ہے

اٹھارہ سالہ آفاق رحیم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے واحد کرکٹر ہیں جو سہولیات نہ ہونے کے باوجود پاکستان کی انڈر 19 ٹیم میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

آفاق جن کا تعلق جنوبی ضلع میرپور سے ہے پہلی مرتبہ سن 2000 ء میں ملائیشیا کا دورہ کرنے والی پاکستان کی انڈر 19 ٹیم میں شامل تھے۔ رحیم گزشتہ چار سال سے کشمیر کےاس علاقے کی انڈر19 اور سنیئرٹیموں کی طرف سے پاکستان میں کرکٹ کھیلتے آرہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2000 ء میں یہاں کرکٹ کھیلنے والوں کو پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی تھی۔

پیش ہے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ساتھ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے نوجوان کرکٹر آفاق رحیم کے انٹرویو کا متن۔

س: آپ نے کرکٹ کے ساتھ ساتھ تعلیم کو جاری رکھا ہے۔

ج: نہیں۔ میں نے صرف نویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ میری پڑھائی میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی اس لیئے میں پڑھائی جاری نہ رکھ سکا۔ میری زیادہ دلچسپی کرکٹ کی طرف ہے۔ میرا مزید تعلیم حاصل کرنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں۔

س: کرکٹ کا شوق کیسے پیدا ہوا۔

ج: مجھے بچپن سے ہی کرکٹ کا تھوڑا بہت شوق تھا اور ہم اکثر سڑکوں اور گلیوں میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ لیکن بعد میں سکول کی سطح کے ٹورنامنٹس میں حصّہ لینے کے باعث میری کرکٹ میں دلچسپی میں اضافہ ہوا اور میں نے پڑھائی کی بجائے کرکٹ کی طرف توجہ دینی شروع کر دی۔

س: آپ کو اس شوق میں گھر والوں کی کہاں تک حمایت حاصل ہے۔

ج: شروع شروع میں گھر والے اتنی حمایت نہیں کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ کھیل میں کچھ نہیں ہے اور پڑھائی کی طرف زیادہ توجہ دو۔ لیکن جوں جوں میں کھیلتا گیا اور مواقع ملتے گئے تو انہوں نے بھی میری حوصلہ افزائی اور حمایت شروع کر دی اور اب گھر والے میرے ساتھ ہیں۔

س: یہ کس طرح ممکن ہوا کہ آپ پاکستان کی انڈر 19 ٹیم میں شامل ہوئے۔

ج: 2000 ء میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سینیئر اور 18 سال سے کم عمر ٹیم کو پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی۔ اسی سال ہماری سینیئر ٹیم کے ساتھ ساتھ انڈر 19 ٹیم نے پہلی بار پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ میں حصّہ لیا۔ میں بھی انڈر 19 ٹیم میں شامل تھا۔ ہماری ٹیم نے چھ میچوں میں حصّہ لیا اور میں نے ان چھ میچوں میں 625 رنز بنائے جن میں تین سینچریاں اور دو ففٹیز شامل تھیں۔ ڈومیسٹک میں اچھی کارکردگی کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2000 ء میں مجھے ملائیشیا کے دورہ کرنے والی انڈر 19 ٹیم میں شامل کیا۔ 2000 ء میں ہماری ٹیم نے تیسری مرتبہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں حصّہ لیا۔ اس میں ہماری ٹیم نے پانچ میچ کھیلے جن میں میں نے 735 رنز بنائے جن میں5 ففٹیز اور 3 سینچریاں شامل تھیں۔ میر ے اچھے کھیل کی وجہ سے مجھے اگست 2003 میں سری لنکا کے دورے پر جانے والی انڈر 19 ٹیم میں شامل کیا گیا۔

س: ان دوروں کے دوران آپ کی کارکردگی کیسی رہی؟

ج: میں ملائیشیا کے خلاف کوئی بھی میچ نہیں کھیل سکا کیونکہ میں پہلے ہی آزمائشی میچ کے دوران زخمی ہو گیا تھا۔ البتہ سری لنکا کے خلاف تین روزہ میچوں میں سے ایک میچ میں میں نےحصّہ لیا جس کی پہلی اننگ میں 35 رنز بنائے جبکہ دوسری اننگ میں 20 رنز بنائے۔

س: آپ کی کارکردگی کیوں اچھی نہیں رہی؟

ج: دیکھیں جی کرکٹ بائی چانس کھیل ہے لیکن میں مایوس نہیں ہوا۔ ایسا ہوتا رہتا ہے۔

بچے کرکٹ کھیل رہے ہیں
کرکٹ میں تربیتی کیمپوں کی کمی ہے

س: آپ کرکٹ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں ؟

ج: جی میں کرکٹ کو نہ صرف جاری رکھنا چاہتا ہوں بلکہ میرا سب سے بڑا مقصد یہی ہے کہ میں پاکستان کے لئے کھیلتا رہوں اور کشمیر اور پاکستان کا نام روشن کرتا رہوں۔

س: آپ کرکٹ میں اپنے مستقبل کو کیسے دیکھتے ہیں۔

ج: اگر مجھے زیادہ مواقع ملے تو میں بہت پر امید ہوں کہ ایک دن پاکستان کی سینئر ٹیم تک پہنچ جاؤں گا۔

س: کھلاڑیوں میں آپکا کون آئیڈیل ہے؟

ج: میرے آئیڈیل سعید انور ہیں کیونکہ وہ اٹیکنگ بلے باز ہیں اور میچ ونر کھلاڑی ہیں۔ اس کے علاوہ میرے آئیڈیل عمران خان ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے پاکستان نے عالمی کپ میں کامیابی حاصل کی اور ان کی شخصیت متاثر کن ہے۔

س: کشمیر کے اس علاقے میں کرکٹ کا کیا مستقبل ہے۔

ج: ہمارے علاقے میں کافی ٹیلنلٹ موجود ہے۔ یہاں نوجوان محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ لیکن یہاں نوجوانوں کو سہولیات میسر نہیں ہیں۔ کشمیر کے اس علاقے میں جو دو کرکٹ سٹیڈیم زیر تعمیر ہیں ان سے کرکٹ میں کافی بہتری آئے گی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر سطح پر تربیت یافتہ کوچز کی ضرورت ہے۔ اور اس وقت ہمارے لڑکوں کے لئے کسی بھی سطح پر کوچنگ کا کوئی انتظام نہیں۔

س: آپ بیٹنگ میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں یا باؤلنگ میں؟

ج: میں بیٹنگ میں زیادہ دلچسپی لیتا ہوں اور دائیں ہاتھ سے کھیلنے والا اوپنگ بلے باز ہوں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد