کشمیر میں سکیئنگ مقابلے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرینگر سے تقریباً 50 کلومیٹر دور گلمرگ میں ہندوستان کا پہلا انٹرنیشنل سکیئنگ مقابلہ ہو رہا ہے۔ آئندہ ہفتے سے شروع ہونے والے اس مقابلے میں ہندوستانی اور بیرونی ممالک کے سینکڑوں کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ ’ونٹر گیمز فیڈریشن آف انڈیا‘ کے سیکریٹری آر کے گپتا نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ہندوستان میں ایسا کوئی مقابلہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی اہمیت خاصی بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ کی دلچسپی میں اس لیے بھی اضافہ ہو جاتا ہے کہ یہ کشمیر میں ہو رہا ہے۔ گزشتہ 15 برس سے کشمیر صرف پرتشدد واقعات کے سبب خبروں میں رہا ہے۔ ان واقعات میں چالیس ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ جموں و کشمیر میں حالیہ برفباری کی وجہ سے سرینگر آنے والوں کی تعداد میں خاصہ اثر پڑا ہے۔ آر کےگپتا نے بتایا کہ موسم خراب ہونے کی وجہ سے اٹلی، ایران اور ترکی جیسے ممالک سے آنے والے کھلاڑی سرینگر نہیں پہنچ سکے کیونکہ سرینگر آنے والی تمام پروازیں منسوخ کر دیں گئی ہیں۔ لیکن آئندہ برس ایسی مشکلات سے نمٹنے کے لیے ابھی سے تیاریاں شروع کر دی گئی ہيں۔ مسٹر گپتا نے کہا ’ہم آئندہ برس کسی بھی پریشانی سے نمٹنے کے لئے تیار رہیں گے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ مقابلہ شروع ہونے سے کچھ روز پہلے ہی کھلاڑیوں کو سرینگر بلوا لیا جائے گا۔‘ ونٹر گیمز فیڈریشن آئندہ برس گلمرگ میں ’ایشائی جونیئر الپائین اسکئی چمپیئن شپ‘ کا انعقاد بھی کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ سال ہی ’انٹرنیشنل اسکیئنگ فیڈریشن‘ کے تکنیکی ماہرین نے گلمرگ کی برفیلی ڈھلانوں کو بین الاقوامی چیمپیئن شپ کے لئے منظوری دے دی تھی۔ گپتا نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’یہ بھارت کی پہلی ڈھلانیں ہیں جنہیں انٹرنیشنل سکیئنگ فیڈریشن نے منظوری دی ہے‘۔
مسٹرگپتا کے مطابق گلمرگ میں اچھے ہوٹلوں کی تو کچھ کمی ضرور ہے لیکن بین الاقوامی معیار کے لحاظ سے بالکل مناسب ہیں۔ سیاحت کے ریاستی ڈائریکٹر سلیم بیگ نے بتایا ہے کہ آئندہ تین برسوں میں حکومت سکیئنگ کے علاقوں کے آس پاس نئے ہوٹل تعمیر کرائے گی۔ اس چیمپئن شپ کے ذریعے ہندوستانی کھلاڑی اگلے برس ہونے والے ’اولمپکس‘ کے لئے کوالیفائی بھی کر سکتے ہیں۔ ہندوستان سے کم از کم ایک کھلاڑی اگر پانچ ریس جیت جاتا ہے تو وہ اولمپکس میں سکیئنگ کھیلوں کے لئے کوالیفائی کر سکےگا۔ ہندوستان نے آخری مرتبہ 1988 میں اولمپکس کے اسکیئنگ مقابلوں میں حصہ لیا تھا۔ مسٹر گپتا نے بتایا کہ گلمرگ میں فی الحال 3 مقابلے کرائے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد کھلاڑی دو مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے ملک کے باہر جائیں گے۔ اس وقت گلمرگ میں 16 کھلاڑیوں کو ناروے کے کوچ ٹریننگ دے رہے ہيں۔ کشمیر کی حکومت اس چیمپئن شپ میں خاصی دلچسپی لے رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بین الاقوامی چیمپئن شپ مقابلوں سے کشمیر میں غیرملکی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مسٹر بیگ کہتے ہيں کہ انٹرنیشنل ٹی وی چینلز نے اس چیمپئن شپ میں دلچسپی دکھانی شروع کر دی ہے۔ انہوں نے کہا ’ کشمیر ملک میں انٹرنیشنل کھیل لے کر آرہا ہے اور یہ انٹرنیشنل کھیل کشمیر میں سیاح لانے میں مدد کر رہا ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||