BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 February, 2009, 15:44 GMT 20:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: ہڑتال اور سیکورٹی پابندیاں

 کشمیر فوج
بارہمولہ، سوپور اور سرینگر کے بیشتر علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کردیا
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے شمالی قصبہ سوپور میں اکیس فروری کی شام فوج کی فائرنگ سے دونوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف بدھ کو پوری وادی میں ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔

وہیں حکومت نے بارہمولہ، سوپور اور سرینگر کے بیشتر علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کردیا۔

اس دوران سخت ترین سیکورٹی پابندیوں کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔جبکہ میراواعظ عمر فاروق اور دیگر راہنماؤں کو گھروں میں ہی نظر بند کیا گیا ہے۔

واضح رہے پچھلے پانچ روز سے بارہمولہ، سوپور، سرینگر اور دوسرے مقامات پر مظاہرین اور پولیس و نیم فوجی اہلکاروں کے درمیان تصادم ہوا ہے، جن میں پولیس کے مطابق اب تک کئی پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم ساٹھ افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

ہڑتال کی کال سید علی گیلانی کی سربراہی والی حریت کانفرنس نے دی تھی جبکہ میرواعظ عمر فاروق نے اس سلسلے میں عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ سوپور جاکر اجتماعی فاتح خوانی میں شرکت کریں۔

پولیس کے ایک سینئر افسر نے بی بی سی کو بتایا ’ منگل کی شام صوبائی انتظامیہ اور پولیس کے درمیان میٹنگ ہوئی جس میں امن و قانون کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ بدھ کو چونکہ ہلاک ہونے والے جوانوں کا رسم چہارم ہوگا اور کچھ عناصر گڑ بڑ پھیلانے کی کوشش کرینگے، لہٰذا عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی جائے۔‘

بارہمولہ اور سوپور کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ سرینگر اور ان قصبوں کو ملانے والی شاہراہوں پر خاردار تاریں بچھا دی گئی ہیں جبکہ اندرونی بستیوں میں بھی رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں۔

اکیس فروری کی شام فوج کی فائرنگ سے دونوجوانوں کی ہلاکت ہوئی تھی

میرواعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو فون پر بتایا’ نوجوانوں کو بلااشتعال فائرنگ میں مارنا، اور پھر تعزیتی اجلاس پر پابندی، بلا اعلان کرفیو اور لیڈروں کی گھروں میں نظربندی اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر میں کچھ نہیں بدلا۔ کہنے کو منتخب سرکار ہے لیکن حربے وہی ہیں جو گورنر راج میں تھے۔ اس سب کے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔ لوگ پھر سڑکوں پر آئینگے۔‘

واضح رہے صوبائی وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اس حوالے سے ضلع مجسٹریٹ کو پہلے ہی حکم دیا ہے کہ وہ پندرہ روز کے اندر اندر معاملہ کی تفتیشی رپورٹ پیش کریں۔

فوج اور پولیس نے بھی اپنی اپنی سطح پر بھی تفتیش شروع کردی ہے۔ شمالی کشمیر کے ڈی آئی جی مسٹر میر کا کہنا ہے’ابھی تو تفتیش بہت سُست رفتار سے جاری ہے، کیونکہ پہلی ترجیح امن و قانون ہے۔ بدھ کو امن قانون کے بگاڑ کا خدشہ ہے، لیکن فی الوقت حالات قابو میں ہیں، اور کافی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی عملے کو تعینات کیا گیا ہے۔‘

مظاہروں کا یہ تازہ سلسلہ ایک ایسے وقت میں دوبارہ شروع ہوگیا ہے جب کانگریس اور نیشنل کانفرنس کی نئی مخلوط حکومت کو بنے ابھی صرف سات ہفتے ہوئے ہیں اور بدھ کو عمرعبداللہ کی حکومت جموں میں جاری اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے ساتھ مصروف ہے۔

اسی بارے میں
فوج کی فائرنگ سے دو ہلاک
21 February, 2009 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد