تنخواہوں میں اضافہ کےلیے ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں گو کہ فی الوقت علیٰحدگی پسند احتجاجی تحریک بظاہر کم ہو گئی اور مسلح شورش کا اثر بھی نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن کانگریس اور نیشنل کانفرنس کی نئی مخلوط حکومت صوبے کے ساڑھے چھ لاکھ سرکاری ملازمین کے ساتھ ٹکراؤ کے راستہ پر گامزن ہے۔ صوبائی ملازمین تنخواہوں میں اضافہ کی تجویز دینے والے ہندوستان کے چھٹی قومی کمیشن کی سفارشات لاگو کرنے کی مانگ کر رہے ہیں۔ تاہم حکومت کا اصرار ہے کہ کمیشن کی سفارشات پر عمل کرنے کے لیے اس کے پاس وافر مالی وسائل نہیں ہیں۔ لیکن ملازمین اپنے مطالبات پر بضد ہیں اور انہوں نے دھمکی دی ہے کہ تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ منظور نہ کیا گیا تو جموں کشمیر میں ہمہ گیر احتجاجی تحریک شروع کرینگے۔ ملازمین تنظیموں کےاتحاد جوائنٹ ایمپلائز ایکشن کمیٹی کی کال پر سوموار کو صوبے کے تمام دفتروں میں اس حوالے سے تین روزہ تالہ بند ہڑتال کا آغاز ہوا ہے۔ اس سلسلے میں ستائیس جنوری کو پہلی ہڑتال کی گئی، اس کے بعد دس اور گیارہ فروری کو بھی دفاتر بند رہے ۔ ایکشن کمیٹی کے سربراہ عبدالقیوم وانی نے بی بی سی کو بتایا’حکومت ٹال مٹول کرتی ہے۔ ان لوگوں نے عوام سے سرکاری نوکریوں کا وعدہ کیا اور ووٹ مانگے۔ اب یہ لوگ پہلے سے تعینات ساڑھے چھ لاکھ ملازمین کا بھی استحصال کرتے ہیں۔اگر وسائل نہیں ہیں تو نئی نوکریا کہاں سے آئینگی‘۔ صوبے کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اس سلسلے میں کہتے ہیں’ ہم لوگ یہاں کی روایتی اور جدید صنعتوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے کوشاں ہیں۔ اگر میں اس وقت چھٹے تنخواہ کمیشن کی سفارشات لاگو کرتا ہوں تو مجھے سالانہ تنخواہوں کے خرچہ ، جو پانچ ہزار تین سو کروڑ ہے، پر ایک ہزار چھ سو کروڑ روپے کا اضافی بوجھ ڈالنا ہوگا اور ساتھ ہی بقایا جات کی ادائیگی کے لئے دو ہزار آٹھ سو کروڑ روپے کا اضافی سرمایہ بھی درکار ہوگا۔ پیسہ آئے گا کہاں سے؟‘ واضح رہے پچھلے ہفتے ایک بین الاقوامی کمپنی ’ایسار‘ کی طرف سے سرینگر میں سو کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے جدید کال سینٹر کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا تھا ’مجھے لگتا ہے کہ سرکاری نوکریوں پر تکیہ کرنا ہماری عادت بن گئی ہے اور نجی سیکٹر نظرانداز ہورہا ہے۔ آج اگر میں دو لاکھ ملازمین کی چھٹی بھی کردوں تو سسِٹم پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘ حکومت کے پاس وسائل کی کمی اور ملازمین کی طرف سے مطالبات منوانے تک تحریک جاری رکھنے کے اعلان سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور ملازمین کے درمیان کشیدگی فی الحال ختم نہیں ہوگی۔ |
اسی بارے میں کشمیر: عالمی ہوائی اڈہ کا افتتاح14 February, 2009 | انڈیا توہین قرآن کی غلط فہمی اور احتجاج08 February, 2009 | انڈیا کشمیر میں سکیورٹی چوکس25 January, 2009 | انڈیا کشمیر2008:تشدد، عدم تشدد اور تبدیلی31 December, 2008 | انڈیا ’سیاسی استحکام کا قیام سب سے بڑا چیلنج‘28 December, 2008 | انڈیا کشمیر: کڑے پہرے میں ووٹنگ24 December, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||