کشمیر: عالمی ہوائی اڈہ کا افتتاح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی انتہائی بااثر خاتون اور کانگریس سربراہ سونیا گاندھی نے سنیچر کو سرینگر میں عالمی ہوائی اڈے کا افتتاح کیا۔ انہوں نے دوبئی کے لیے ریاست کی پہلی براہ راست پرواز کو ہری جھنڈی لہرا کر روانہ کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے ریاست میں تعمیر و ترقی کی اہمیت بتائی اور کہا کہ پچھلے سال نومبر۔دسمبر میں یہاں ہونے والے پُرامن انتخابات میں لوگوں کی بھاری شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ الیکشن مسلح شورش پسندوں اور تمام دیگر علیحدگی پسندوں کے لئے ایک سبق ہیں، کیونکہ الیکشن سے ثابت ہوگیا کہ لوگ ہمارے ہی ساتھ ہیں۔ علیحدگی پسندوں کو اب عوام کی بہبود کے لیے قومی دھارے میں شامل ہونا چاہیے۔‘ سونیا گاندھی کی تقریرکا معنی خیز پہلو یہ تھا کہ انہوں نے پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی گزشتہ روز پاکستانی حکام کی طرف سے ممبئی سازش میں پاکستانی کردار کے اعتراف پر کچھ بولا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سونیا چونکہ اپنے پچھلے دوروں کے دوران قومی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کو خبردار کرتی رہی ہیں، لہٰذا ان کا اس بار پاکستان کا نام نہ لینا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت ہند پاکستان کی طرف سے ممبئی حملوں کی تحقیات سے قدرے مطمئن ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلے دو ماہ کے دوران سونیا گاندھی تیسری بار کشمیر آئیں ہیں۔ پچھلے سال تین دسمبر کو انتخابی مہم کے سلسلے میں انہوں نے شمالی کشمیر کے اوڑی قصبہ میں ایک ریلی سے خطاب کے دوران پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ وہ ہندوستان کی طرف سے دوستانہ تعلقات کی خواہش کو اس کی کمزوری نہ سمجھے۔ اسی طرح بائیس دسمبر کو جموں کے آر ایس پورہ میں تقریر کی اور پاکستان کو خبردار کیا کہ اگر وہ ’ہمارے ملک میں خون خرابہ کرنے کی سازش میں ملوث ہوا تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔‘ ریاست میں کانگریس اور نیشنل کانفرنس کی مخلوط حکومت بننے کے بعد سونیا گاندھی کا یہ پہلا دورہ تھا۔ سونیا نے سرینگر سے بارہمولہ کے لئے ریل سروس کا بھی افتتاح کیا۔ ان کے ہمراہ شہری ہوابازی کے مرکزی وزیر پرفل پٹیل اور ریلوے وزیر لالو پرساد یادو بھی تھے۔ واضح رہے سرینگر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا ایک ارب روپے کی لاگت سے چار سال میں تعمیر کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہاں ایک ساتھ ساڑھے چار سو عالمی مسافروں کے لئے سہولات کا انتظام کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں19 December, 2008 | انڈیا 60 سال بعدگاڑیاں ایل او سی کے پار 21 October, 2008 | انڈیا کشمیر ٹرین:خدشات اور توقعات11 October, 2008 | انڈیا کشمیر: زمین پھر شرائن بورڈ کے حوالے31 August, 2008 | انڈیا کشمیر میوزیم میں ’چوری‘ 19 April, 2008 | انڈیا یوم جمہوریہ، کشمیر میں کرفیو؟25 January, 2007 | انڈیا سب کشمیری مشکوک؟14 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||