BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 February, 2009, 17:08 GMT 22:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
توہین قرآن کی غلط فہمی اور احتجاج

لوگ ہیلمٹ پر قرانی آیات دیکھ کر مشتعل ہو گئے۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حفاظت کے لیے قرانی آیات استعمال کرنے والے سیاح کے خلاف احتجاج اور مظاہرے کیے گئے ہیں۔

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے صحت افزا مقام گلمرگ میں سنیچر کو حالات اس وقت کشیدہ ہوگئے جب مقامی لوگ سکینگ کرنے والے ایک سیاح کے ہیلمٹ پر قرانی آیات دیکھ کر مشتعل ہو گئے۔

پولیس نے پیٹرک رحیم نامی سیاح کو فوراً اپنی تحویل میں لے لیا تاہم دو روز تک گلمرگ اور سرینگر کے مختلف علاقوں میں مظاہروے ہوتے رہے۔

اتوار کی شام صوبے کے مفتی اعظم بشیر الدین نے ایک پریس کانفرنس میں یہ انکشاف کیا کہ پیٹرک نے 'توہین قران' کے ارتکاب پر ندامت کا اظہار کیا ہے اور عوام سے معافی مانگی ہے۔

تاہم گلمرگ کے پولیس افسر محمد عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ، 'پیٹرک دراصل یورپ کے شمالی ملک سویڈن کا باشندہ ہے۔ وہ قطر میں انجینئر تھا اور اسی دوران اس نے ایران کی ایک لڑکی الہام سے شادی کر لی۔

محمد عبداللہ نے بتایا کہ پیٹرک نے تفتیش کے دوران بتایا کہ اس کی بیوی نے اسے خطروں کے پیش نظر قرانی آیات کو ہیلمیٹ پر نقش کرنے کے لیے کہا تھا۔

پیٹرک نے پولیس کو بتایا ہے کہ ایران میں یہ رواج ہے کہ جب کسی پُرخطر سفر پر جاتے ہیں تو قرانی آیات کو حفاظت کی علامت کے طور ساتھ رکھتے ہیں۔

مفتی بشیرالدین نے مطالبہ کیا ہے کہ غیرملکی سیاحوں کو کشمیر آمد اسلام اور قران کے تئیں یہاں کے حساس جذبات سے آگاہ کیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد