BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 March, 2007, 18:30 GMT 23:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’برآمد قرآن مغلیہ دور کا ہے‘
نسخہ کا وزن تیرہ کلوگرام ہے اور یہ بہتر حالت میں ہے
ہندوستان کے جنوبی شہر بنگلور میں پولیس نے چار سو سال پرانے قرآن کا ایک نسخہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس نسخے کا تعلق مغل بادشاہ اورنگزیب سے ہے۔

بنگلور کے جوائنٹ پولیس کمشنر گوپال ہوسر نے بی بی سی کو بتایا کہ جو شخص اس کتاب کو فروخت کرنے کی کوشش کررہا تھا اسےپولیس نےگرفتار کر لیا ہے۔ان کے مطابق اس بیش قیمتی مذہبی کتاب کی قیمت پانچ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔

اس بات کا امکان ہے کہ فارسی رسم الخط میں لکھاگیا قرآن کا یہ نسخہ اورنگزیب عالمگیر کے اپنے ہاتھوں کا لکھا ہوا ہے۔ نسخہ انتالیس سنٹی میٹر لمبا اور بیس سنٹی میٹر چوڑا ہے اور اس سے خوشبو نکلتی ہے۔

نسخہ کا وزن تیرہ کلوگرام ہے اور یہ بہتر حالت میں ہے۔ گرفتار شخص کے مطابق کتاب کل ایک ہزار سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہے اور آخری صفحہ پر اورنگزیب عالمگیر کے دستخط بھی موجود ہے۔

ہر صفحہ پر کانسی کا لیپ لگا ہوا ہے اور ایسے کیمیائی مادے کا استعمال کیا گيا ہے جو کتابت کو محفوظ رکھ سکے۔ نسخے کو لکھنے کےلیے سونے اور چاندی کی روشنائی کا بھی استعمال کیاگيا ہے۔

مغل بادشاہ ارونگزیب نے 1556 سے 1605 عیسوی تک ہندوستان پر حکومت کی اور انہیں اپنے دور اقتدار میں ہندؤوں کے ساتھ متعصب سلوک کی وجہ سے ایک متنازعہ بادشاہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے تاہم انہیں فن اور ادب سے محبت کرنے والوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔

گرفتار شخص ایم جی سوکارن کا تعلق ریاست کے سرحدی علاقے سے ہے۔گرفتار شخص نے پولیس کو بتایا کہ کتاب آگ سے محفوظ رہتی ہے کیوں کہ اس کتاب پر آگ سے بچنے کے لیے بھی ایک قسم کے مادے کا استعمال کیا گيا ہے۔

پولیس کے مطابق ایم جی سوکمار اس نایاب کتاب کو فروخت کرنے کےلیے بنگلور آئے تھے۔

پولیس اہلکار محکمہ آثار قدیمہ سے مدد لے رہے ہے تا کہ اس کتاب کی صحیح عمر کے بارے میں پتہ لگایا جا سکے۔

پولیس نے ایم جی سوکمار سے ایک چالیس کلو وزنی تانجور پینٹنگ بھی ضبط کی ہے۔ پینٹنگ میں ایک بادشاہ اور اس کے وزیر کو پینٹ کیاگیا ہے۔

کمشنرگوپال ہوسر کا کہنا ہے کہ قدیم اثاثوں کی خرید و فروخت میں ملوث افراد کی تلاش کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں تفتیش جاری ہے۔

اسی بارے میں
اداکار فردوس جمال کا مشن
04 January, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد