اداکار فردوس جمال کا مشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں فنکاروں کی طرف سے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا رجحان تو چل رہا ہے لیکن ٹی وی، فلم اور سٹیج کے معروف اداکار فردوس جمال نے اپنے لیے ایک قدرے مختلف مشن چنا ہے۔ انہوں نے قرآنی آیات یا مقدس ناموں والے اوراق محفوظ کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ فردوس جمال نے پاکستان بھر میں تحریک تحفظ اسلامی اوراق نامی اس مہم کا آغاز پشاور سے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ان کے ساتھ اس موقع پر پشاور کے ایک حکیم عالم زیب بھی موجود تھے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے کہنہ مشق اداکار فردوس جمال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بدقسمتی سے اخبارات، رسائل اور کورس کی کتب میں اللہ اور رسول کے نام اور قرآنی آیات شائع کی جاتی ہیں جو بعد میں گندگی کے ڈھیروں اور پاؤں کے نیچے پہنچ جاتی ہیں۔ ’ہم بحیثیت مسلمان چاہتے ہیں کہ اسلامی تقدس کی اس پامالی کو روکا جا سکے‘۔ فردوس جمال کا کہنا ہے کہ اس تحریک کا ایک مقصد اس موضوع پر بحث شروع کرنا بھی ہے تاکہ ایسے طریقوں کے بارے میں سوچا جاسکے جن سے یہ بےحرمتی روکی جائے اور عوام میں شعور بیدار کیا جائے۔ ’ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ اخبارات، ابلاغ یا تبلیغ کا کام روک دیں لیکن ہمیں اس مسئلے کا حل بھی تلاش کرنا ہوگا۔ ہمیں اسلامی نظریاتی کونسل یا علماء سے اس بارے میں فتوی لینا چاہیے کہ ان اوراق کے تحفظ کا سب سے بہتر طریقہ کونسا ہے۔ جلانے سے فضائی آلودگی اور دریاؤں میں گندگی کی حالت کی وجہ سے اور وہ کون سا ایسا طریقہ ہے کہ ان اوراق کا تقدس برقرار رہے اور کسی کو نقصان بھی نہ ہو۔’ اس تحریک کی اصل روح رواں پشاور کے حکیم عالم زیب ہیں جو گزشتہ بیس برسوں سے ان مقدس اوراق کے تحفظ کے لیے کوشش کرتے رہے ہیں۔ فردوس جمال نے اس نوجوان حکیم کے اہم مشن میں مدد اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہوئے شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’ہمیں یقین ہے کہ شاید میری وجہ سے لوگ ہماری بات سن لیں‘۔ فردوس کا کہنا تھا کہ اس تحریک کی رکنیت مفت ہے اور وہ کسی سے نقد رقم کا بطور چندہ تقاضہ بھی نہیں کرتے۔ ’ہر پیشے سے منسلک افراد اس کارِ خیر میں شامل ہوسکتے ہیں۔ کوئی خود ٹرانسپورٹ یا مزدوروں کا بندوبست کردے تو کردے ہم رقم نہیں مانگ رہے‘۔ فردوس جمال کا کہنا تھا کہ وہ اسلامی اوراق کے علاوہ دیگر مذاہب کی کتابوں کا بھی تقدس برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں نجی سطح پر مختلف افراد اور تنظیمیں ایسے اوراق کو محفوظ کرنے کی کوششیں پہلے سے کر رہے ہیں۔ کوئٹہ میں تو بعض مخیر حضرات ایک پہاڑ کو کھود کر غاروں میں ایسے اوراق محفوظ کر لیتے ہیں۔ کوئٹہ میں اس پہاڑ کا نام جبل النور رکھا گیا ہے۔ لیکن یہ کافی مہنگا طریقہ ہے۔ | اسی بارے میں قرآن کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج 29 June, 2005 | پاکستان قرآن کی بے حرمتی: لاہور میں احتجاج08 February, 2006 | پاکستان قرآن کی بے حرمتی کا ایک اور مقدمہ29 June, 2006 | پاکستان کرکٹ کے تبلیغی09 March, 2004 | کھیل قرآن کی مبینہ بےحرمتی پر قتل20 April, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||