کرکٹ کے تبلیغی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئی دو ہفتے پہلے لاہور کے ایک اردو روزنامے نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان یوسف یوحنا کے بارے میں ایک خبر اپنے پہلے صفحے پہ نمایاں طور پر شائع کی۔ یہ خبر نہ تو یوحنا کی بیٹنگ کے بارے میں تھی، اور نہ ہی بھارتی ٹیم کےپاکستان کے دورہ سے اسکا کوئی تعلق تھا۔یہ خبر تھی ان کوششوں کے بارے میں جو ایک سابقہ ٹیسٹ کرکٹر کی یوحنا کو، جو کے عیسائی ہیں، اسلام کی طرف راغب کرنے کی کوششوں کے بارے میں تھی۔ خبر میں کہا گیا تھا کہ یوحنا اسلام سے بہت متاثر ہیں اور پھر یہ تاثر دیا گیا تھا کہ شا ید وہ کسی وقت اسلام قبول کر لیں۔ جی ہاں یوحنا کو دین اسلام کی طرف راغب کرنیکا کریڈٹ سعید انور کو دیا گیا تھا۔ باریش سعید انور جو کہتے ہیں کہ ان کی زندگی اب وہ نہیں، جو پہلے کبھی تھی۔ عام خیال یہ ہےاور اس خیال کو سعید انور کے اپنے انٹرویوز سے تقویت ملتی ہے کہ سعید انور کی نئی زندگی کا آغاز ایک المیے سے ہوا۔ انکی صاحبزادی کا انتقال انہیں اُس تبلیغی گروپ کے قریب لے گیا جس کا ایک اہم تبلیغی طریقہ ذاتی المیوں سے دوچار لوگوں کو اسلام کی تعلیمات کی طرف راغب کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے مواقع پر غم سے گھرے لوگ صبر و سکون کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ اور دینی تعلیمات اور ذکر الہی یقیناً ان کے لئے اُس طاقت کا باعث ہوتاہے جس کی انہیں ایسے المناک مواقع پر شدید ضرورت ہوتی ہے۔ بیٹی کے انتقال کے بعد ہم نے یہ سُنا کہ سعید انور نے اپنی زندگی یکسر تبدیل کر لی ہے۔ سنُا گیا کہ انہوں نے اپنے شاندار میوزک سسٹم کو بند کر کے رکھ دیا ہے اور اب وہ اپنا زیادہ وقت اسلام کی تبلیغ میں گزارنا چاہتے ہیں۔
سعید انور کی باریش منشی کی زندگی کا آغاز اُس وقت ہوا جب انکا ملک پاکستان دنیا میں اپنے امیج کو بہتر کرنے کی تگ و دو میں تھا۔ کہا یہ جاتا ہے کہ پچھلے برس کے ورلڈ کپ سے قبل کھیلی گئی دو ایک سیریز کے لئے سعید انور کو ٹیم سے باہر کرنے میں ایک بڑا فیکٹر شاید ان کی گھنی داڑھی تھی۔ اُس وقت یہ کہا گیا تھا کہ ارباب اختیار یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کے (فنڈا مینٹالسٹ) ’بنیاد پرست‘ امیج کو بڑھاوا ملے۔ پھر جب سعید انور کو دوبارہ ٹیم میں شامل کیا گیا تو ازرہِ مزاق یہ بھی کہا گیا کہ اُن کو زیادہ عرصے تک کریز پر رہنے سے منع کر دیا گیا ہے۔ اُس کے بعد اُنکی ٹیم میں کوئی مستقل حیثیت نہیں رہی۔ حال ہی میں وہ سابقہ ٹیسٹ کھلاڑیوں کی ٹیم کے ساتھ ہندوستان کے دورے سے واپس آئے تو ایک بار پھر اخبارات میں اُن کی تصاویر نظر سے گزریں اور خبریں بھی جن میں وہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان امن کے داعی کے طور پر سامنے آئے۔ اُن کے ساتھ لیگ سپن باؤلر مشتاق احمد بھی نظر آئے۔ یہ بھی باریش ہیں اور کہا جاتاہے کہ تبلیغ کی طرف اپنی توجہ مبذول کئے ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے ٹیسٹ کرکٹر جو آجکل داڑھی رکھے ہوئے ہیں وہ ہیں مشہور آف سپنر ثقلین مشتاق۔
سعید انور اور مشتاق احمد کے علاوہ کئی ایک پاکستانی کرکٹرز جن میں موجودہ کپتان انضام الحق بھی شامل ہیں کچھ برسوں میں تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف رہے ہیں مگر اصل میں جس شخصیت سے کرکٹرز میں اس تحریک کا آغاز ہوا وہ شاید سعید احمد ہیں۔ سیعد احمد کا شمار پاکستان کرکٹ کے چند مایہ ناز بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ وہ نمبر تین پوزیشن پر کھیلا کرتے تھے۔ اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ظہیر عباس سے بھی اچھی بلے باز کی صلاحیت رکھتے تھے۔ سعید احمد کئی سالوں سے مختلف کرکٹ میچوں کے درمیان کھلاڑیوں میں دین کی تبلیغ کرتے آئے ہیں۔ اور یقیناً اُن کے انداز بیان سے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ مگر سعید انور کی تبلیغی سرگرمیوں سے یہ ہوا کہ عام لوگوں کی ان سرگرمیوں میں دلچسپی بڑھ گئی۔ اُن کے سامنے ملک کا ایک مایہ ناز کھلاڑی تھا جس کو انہوں نے ابھی چند روز پہلے میدان میں مخالف ٹیم کے چھکے چُھڑاتے ہوئے دیکھا تھا۔ ظاہر ہے وہ سیعد احمد کے مقابلے میں سعید انور سے زیادہ اپنے آپ کو ’ریِلیٹ‘ کر سکتے تھے۔ ایک مسلمان ملک میں لوگوں کا اسلام کی طرف رجحان کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ مگر سپر اسٹارز کا ایک عوامی سطح پر لوگوں کو دین کی طرف راغب کرنا نسبتاً نئی بات ہے۔ اور یہ روش صرف کرکٹرز تک محددو نہیں ہے۔ شو بزنس کے کئی بڑے نام آج پہلے سے زیادہ نمایاں طور پہ عام لوگوں کو دین کی طرف راغب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں ایک بڑا نام پاپ سٹار جنید جمشید کا ہے۔ ان کے علاوہ بھی ٹی وی پروگراموں میں اکثر و بیشتر فنکار اپنی ذاتی زندگی کو مثال بنا کر دین کی طرف رجوع ہونے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ابھی چند روز پہلے معین اختر یہ کہہ رہے تھے ’لوگ کہتے ہیں میعن اختر مولوی ہو گیا ہے میں جو بھی کرتا ہوں یہ ’وہ‘ مجھ سے کروا رہا ہے‘۔
کیا یہ رجحان پاکستان میں بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی کی طرف کی اشارہ کرتا ہے۔۔۔۔۔ اس سوال کا جواب دینا شاید اُن لوگوں کے لئے بہت آسان ہے جو کوئٹہ میں باریش مردوں کے ایک گروپ کو ناصرف یہ کہ طالبان گردانتے ہیں بلکہ اُن کی تصویر کھنیچ کر دنیا کہ مشہور اخباروں میں یہ کہہ کر چھپواتے ہیں کہ طالبان پاکستان میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو اس سے پہلے عمران خان کو Born again Muslim کے لقب سے نواز چکُے ہیں اور انکی سرگرمیوں کے بار میں اخباری رپورٹوں میں Imran goes out to bat for Allah جیسی سرخیاں جسپاں کر کے اپنی مفروضیت پسندی کا حق ادا کر چکے ہیں۔ ایک صاحب نظر پاکستانی کے لئے بھی یہ بات بالکل صاف ہے کہ پاکستان میں عام طور پر لوگوں کا دین کی طرف رُجحان بڑھ رہا ہے۔ ایک ڈر ضرور موجود ہے کہ کہیں اگلا دور ان لوگوں کا نہ ہو جو لوگوں کو تشدد کے ذریعے اپنے مقصد کے حصول کی طرف راغب کرتے آئے ہیں۔ اور پھر یہ ڈر کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنے اُن قلندروں کو کھو بیٹھیں جو بلا تقسیم ملک و مَسلک لوگوں کو یکجا کرتے ہیں۔ جب حالات ’بہت بُرے‘ تھے تو ہم نے دیکھا کہ ایک باریش مردِ قلندر سابقہ ٹیسٹ کرکٹر وسیم راجہ جب امرتسر میں اپنی ایک اننگز شروع کرنے آئے تو اُنہوں نے سکھوں کی مخصوص پگڑی سر پر باندھی ہوئی تھی۔ اب حالات بہت اچھے ہیں مگر کون جانے کہ کوئی یہ جرات کرنا بھی چاہے گا یا نہیں ۔۔۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||