BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 January, 2009, 07:39 GMT 12:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چار شدت پسند اوردو فوجی ہلاک

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران کئی رہائیشی مکان فوج کے مورٹار شیلنگ اور متواتر فائرنگ کی وجہ سے تباہ ہوگئے۔
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیرمیں مختلف مقامات پر فوج اور مبینہ مسلح شدت پسندوں کے درمیان تازہ جھڑپوں میں چار شدت پسند اور دو فوجی جوان ہلاک ہوگئے ہیں۔

سرینگر میں تعینات بھارتی فوج کی پندرہویں کور کے ترجمان کرنل اوما مہیشور نے بی بی سی کو بتایا : ’یہ جھڑپیں شمالی کشمیر کے سوپور، بانڈی پورہ اور ہندوارہ قصبوں میں ہوئیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سوپور میں فوج اور پولیس نے مشترکہ آپریشن میں ممنوعہ لشکر طیبہ کے کمانڈر ابو حمزہ کو ہلاک کردیا ہے۔ اس کارروائی میں فوج کا ایک جوان بھی ہلاک ہوگیا ہے۔

ایک اور جھڑپ بانڈی پورہ کے آیت مولہ گاؤں میں ہوئی جہاں ایک مکان میں چھپے کالعدم جیش محمد کے دو شدت پسندوں کو فوج اور پولیس نے مشترکہ آپریشن میں ہلاک کردیا۔ اس کارروائی میں ایک فوجی محمد امین بھی مارا گیا۔ فوج نے چار گھنٹوں کی اس کارروائی میں مارے گئے شدت پسندوں کی شناخت وسیم بلال عرف مجاہد اور شکیل گانجا کے طورکی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران کئی مکانات فوج کے مارٹر شیلنگ اور متواتر فائرنگ کی وجہ سے تباہ ہوگئے۔ اِدھر ہندوارہ میں بھی فوج نے باکی آکر کے مقام میں ایک جھڑپ کے دوران ممنوعہ لشکر طیبہ کے ایک شدت پسند کو ہلاک کردیا ہے۔

یہ آپریشن منگل کی شام کو شروع کیا گیا اور بدھ کی شام تک اس میں کم از کم چار مکانات تباہ ہوگئے تھے۔ فوجی ترجمان کرنل اوما نے بتایا کہ علاقہ میں احتیاطی تلاشی کا کام جاری ہے تاہم آپریشن ختم ہوچکا ہے۔

گزشتہ چند ماہ سے صوبے میں عام حالات معمول پر آرہے ہیں، وادی کے مضافات اور دوردراز جنگلات میں اس طرح کی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ہفتے کے آغاز میں جموں اور کشمیر خطے میں الگ الگ واقعات میں کم از کم چھ شدت پسند مارے گئے۔ اس حوالے سے فوجی ترجمان کرنل اوما مہیشور نے بتایا : ’اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ملی ٹینسی بڑھ گئی ہے۔ وادی میں ساڑھے آٹھ سو شدت پسند سرگرم ہیں۔ وہ کارروائی نہیں کرتے۔ لیکن ٹھنڈ کی وجہ سے وہ پہاڑی اور جنگلی علاقوں سے بستیوں کی طرف آتے ہیں تو فوج اپنا کام کرتی ہے۔‘

اسی بارے میں
کشمیر میں سکیورٹی چوکس
25 January, 2009 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد