BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 November, 2008, 12:51 GMT 17:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: بم حملے میں نوجوان ہلاک

کشمیر، الیکشن مخالف مظاہرے
تشدد کے بعد بارہمولہ قصبہ میں تناؤ کی صورتحال
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں منگل کو ایک بم دھماکے میں ایک نوجوان کی موت کے بعد بارہمولہ ضلع میں پچھلے پانچ روز سے جاری کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق جیسے ہی نیشنل کانفرنس کے سیاسی اُمیدوار اپنے حمایتیوں کے ہمراہ گھر گھر مہم کے سلسلے میں سوپور کے براٹھ کلان علاقے میں پہنچے تو نامعلوم افراد نے ان پر دستی بم پھینکا جسکا نشانہ چوک گیا اور ایک دوکان کے نزدیک گر کر پھٹ گیا۔

دھماکے کے نتیجہ میں چودہ سالہ آفاق احمد ہلاک جبکہ نیشنل کانفرنس کے دو کارکن زخمی ہوگئے۔

بارہمولہ میں تعینات سینئر پولیس آفیسر آنند جین نے بم حملے میں ایک لڑکے کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا’ دوپہر ڈیڑھ بجے سوپور میں سیاسی امیدوار پر عسکریت پسندوں نے گرینیڈ پھینکا جس میں ایک لڑکا ہلاک ہوگیا۔ لیکن قصبہ میں اب حالات نارمل ہوگئے ہیں۔‘

اُدھر بارہمولہ قصبہ میں گزشتہ جمعہ کو پولیس کی فائرنگ میں دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد مسلسل ہڑتال ہے اور مقامی پولیس نے قصبہ کے تین اہم پُلوں کو سیل کردیا ہے۔

مقامی شہریوں نے بی بی سی کو بتایا’جمہ کو ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی یاد میں آج یہاں فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں لوگوں کی شمولیت کا امکان تھا۔ حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے بھی اس میں شرکت کا اعلان کیا تھا۔ لیکن آج یہاں پھر غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا۔‘

واضح رہے بارہمولہ میں گزشتہ جمعہ کو مظاہرین کی ایک مشتعل ٹولی نے کانگریس کے ایک امیدوار کی گاڑی کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی جس کے دوران امیدورا کے ذاتی محافظوں نے فائرنگ کی اور اس میں دو مقامی نوجوان منظور کُمہار اور تنویر شیخ ہلاک ہوگئے۔

 جمہ کو ہلاک ہونے والے نوجوانوں کے یاد میں آج یہاں فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں لوگوں کی شمولیت کا امکان تھا۔ حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے بھی اس میں شرکت کا اعلان کیا تھا۔ لیکن آج یہاں پھر غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا
مقامی شہری

اس کے بعد قصبہ میں تناؤ کی صورتحال ہے۔ ضلع میں سات دسمبر کو چوتھے مرحلے کے تحت ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔

اس دوران جنوبی ضلع پلوامہ میں بھی مقامی لوگوں کی طرف سے انتخابی مہم چلا رہے سیاستدانوں پر پتھراؤ اور پولیس ایکشن کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔

ضلع میں سوموار کو جب انتخابی مہم کے دوران مختلف پارٹیوں کے امیدوار روڈ شو کرنے لگے تو مقامی لوگوں نے پتھراؤ کیا۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی ضلع کے وچی انتخابی حلقے سے نامزدگی کے کاغذات داخل کرنے کے لیے آئی تھیں، انہوں نے پرتشدد مظاہروں کے بعد عوامی ریلی ملتوی کردی۔

اس موقعہ پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم میں کم از کم تیس افراد زخمی ہوگئے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ پولیس کارروائی کے خلاف منگل کو عوامی ردعمل کے خدشے سے ضلع میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ مقامی پولیس افسر علی محمد کے مطابق امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں میں ہی رہیں۔

اسی بارے میں
ووٹ پڑے تو؟
22 November, 2008 | انڈیا
کشمیر میں 55 فیصد پولنگ
17 November, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد